نواز شریف فوج اور عدلیہ کیخلاف جا رہے ہیں‘ آئینی ترمیم تعلیم کے لئے کی جائے: شجاعت

18 اگست 2017

کراچی (عمیر علی انجم ) چودھری شجاعت حسین نے دوسرے روز بھی کراچی میں مصروف دن گزارا۔ مختلف سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور ورکرز کنونشن سے خطاب کیا میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آج کل آئین میں ترامیم کی باتیں کی جا رہی ہیں، میرا موقف ہے کہ 62-63 سے پہلے تعلیم کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے، 18ویں ترمیم نے تعلیم کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا، ساری دنیا میں تعلیم وفاق کے کنٹرول میں ہے لیکن یہاں صوبوں کے انڈر کر دیا ہے جس کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ نوازشریف فوج اورعدلیہ کے خلاف جا رہے ہیں اور اپنی تقریروں میں لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے نہ مانے جائیں تاکہ سارے ملک کے اندر افراتفری پیدا ہو، نوازشریف کس سے پوچھ رہے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے، جلد ان کا سارا قصور نیب ریفرنس میں ظاہر ہو جائے گا، وہ سانحہ ماڈل ٹائون سے اپنی جان نہیں چھڑا سکتے، سابق صدر جنرل ضیاء الحق متعلق سوال پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہم پہلے بھی ان کی عزت کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں۔ مسلم لیگیوں کو اکٹھا کرنا میرا مقصد ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں ہوں ہم انہیں مسلم لیگ میں واپس لائیں گے اور ہر شخص کو اس کی اہلیت کے مطابق عہدہ دیا جائے گا، اس سلسلے میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو جلد اپنا کام شروع کر دے گی۔ چوہدری شجاعت حسین نے نوائے وقت سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں آئندہ عام انتخابات 2018ء میں ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں نوازشریف ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے ہیں ملک کو ان مسائل سے نجات دلانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی ملک کی سیاست میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا کوئی مستقبل نہیں ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے زوال کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے مسلم لیگی گروپوں کو متحد کراچی کے لوگوں کو ایک نئی قیادت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ملک میں نیشنل ڈائیلاگ ہونا چاہئے یہ ڈائیلاگ 2018ء سے پہلے اور بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ شجاعت حسین نے کہا کہ مسلم لیگ پاکستان بنانے والی جماعت ہے آج ملک جن مسائل میں گھرا ہوا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے ہم نے اس حوالے سے اپنی کوششوں کو آغاز کر دیا ۔