70 برس میں ہر بار جمہوری نظام کو مختلف حربوں سے ہٹایا گیا: احسن اقبال

18 اگست 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ایسے دوراہے پرکھڑاجہاں ہمارے فیصلے طرزعمل اور رویے ہماری کامیابی یاناکامی کافیصلہ کریں گے، دنیا میں جن ملکوں نے ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کی اس کے پیچھے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی عدم استحکام نظر آتاہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں 90 کی دہائی ، جب ماڈرن اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی ،کو بار بار حکومتوں کی برطرفی کے ذریعے سیاسی عدم استحکام کی نذر کردیاگیا، 70سال میں ایک بھی وزیر اعظم اپنی مدت مکمل نہیں کرسکا، جو ہم ماضی میں کرتے رہے کیا مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے ، سیاسی و جمہوری بے یقینی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ہماری معیشت ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑی ہے، 2017ء کے پاکستان کا 2013ء سے کوئی موازنہ نہیں کیاجاسکتا، 70سال جیو پولیٹیکل بیانیہ حاوی رہا اب ہمیں جیو اکنامک بیانیے میں داخل ہونا ہے۔ معیشت مضبوط نہ ہوتو ایٹم بم بھی آزادی کی حفاظت نہیں کرسکتے اور معیشت کی مضبوطی کا واحد راستہ سیاسی استحکام ہے۔جمعرات کو یہاں پلاننگ کمیشن کے زیر اہتمام پاکستان ڈویلپمنٹ سمٹ اینڈ ایکسپو میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہاکہ وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کی پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کرکے بہت خوش محسوس کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس 70سالہ سفر کے دوران بہت سے ممالک جو ہم سے پیچھے تھے آگے نکل گئے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا معرض وجود میںآنا ایک معجزہ تھا‘ بینظیر میں بھی خرابی ہوگی ‘لیکن جونیجو میں کیا خرابی تھی اور وزیر اعظم جمالی کیوں پانچ سال پورے نہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جمہوری بے یقینی بہت بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ہمارے مستقبل کا فیصلہ اس پر ہوگا کہ کیا ہم جو ماضی میں کرتے رہے ہیں وہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین سرتاج عزیز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنی ترقی کے سفر کاجائزہ لے کر آئندہ کے لئے اپنے راستے کا تعین کرنا ہے۔ جمعرات کو وفاقی وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال سے بوسنیا کے سفیر ڈاکٹر ندیم میکاریوک نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور زیربحث آئے۔ وفاقی وزیرداخلہ نے گفتگو کرتے کہا کہ پاکستان اور بوسنیا کے درمیان 20 بلین ڈالرز کی باہمی تجارت خوش آئند ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طلبہ اور ثقافت کے تبادلے باہمی روابط کو مزید تقویت دیں گے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...