ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے انٹیلی جنس ونگ کو تفتیشی اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا

18 اگست 2017

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کو تاحکم ثانی تفتیش کے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا۔ فاضل عدالت نے وفاقی حکومت، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ ان لینڈ ریونیو کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق دو سو تیس کے تحت ان لینڈ ریونیو کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ میں تعلیم اور تجربہ پر پورا اترنے والے تفتیشی افسر براہ راست بھرتی کرنا لازم ہے۔ قانون کے برعکس بورڈ آف ریونیو کے ناتجربہ کار اور من پسند افسروں کو ان لینڈ ریونیو کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ میں ٹرانسفر کر کے تعینات کیا گیا ہے۔ ناتجربہ کار اور سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے ایف بی آر کے ملازمین ناقص تفتیش کے ذریعے قومی خزانے کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہے ہیں جس کی وجہ سے ایف بی آر کا انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ عملی طور پر بے اثر ہوچکا ہے۔