’لو جہاد‘‘ بھارتی سپریم کورٹ کی ہندو لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادیوں پر تشویش

18 اگست 2017

نئی دہلی (آن لائن + این این آئی) بھارتی سپریم کورٹ میں ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والی نومسلم خاتون کی مسلمان نوجوان سے شادی کی منسوخی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے اور مسلمان نوجوانوں سے شادیوں کے زور پکڑتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی سے کرانے کا حکم دیا۔ مسلمان جوڑے کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ نومسلم لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اس کا بیان بھی سنا جائے لیکن عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے نومسلم لڑکی کا بیان بھی سننا گوارا نہ کیا اور جوڑے کے تمام مضبوط دلائل کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ نے این آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا کہ کیا مسلمان نوجوان بشمول کالعدم اسلامی تنظیمیں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرکے انہیں دہشت گرد بنا رہی ہیں۔ ججز نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی سے کوئی خطرناک کام کرنے پر آمادہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بھارت میں اپنے والدین سے بدظن نوجوان ہندو خواتین کو پیار کے جال ’’لو جہاد‘‘ میں پھنسا کر مسلمان کرکے ان سے شادیاں کی جارہی ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...