;;آسٹریلوی سینیٹر پالین برقع پہن کر پارلیمنٹ آگئیں پاپندی کا مطالبہ‘ مسلمان قانون پسند ‘ کسی کے پہناوے کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے: اٹارنی جنرل کا انکار

18 اگست 2017

سڈنی (نوائے وقت رپورٹ + بی بی سی + اے ایف پی) آسٹریلوی خاتون رکن پارلیمنٹ حجاب مخالفت میں حد سے آگے نکل گئیں۔ مسلمان مہاجرین مخالف آسٹریلوی رکن پارلیمنٹ سینیٹر پالین ہینسن کی برقع میں پارلیمنٹ آکر برقعے پر پابندی لگوانے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ وہ سینٹ کے اجلاس میں برقع پہن کر پہنچ گئیں۔ ایوان میں برقع اتارا اور مطالبہ کیا کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔ آسٹریلوی حکومت نے برقع پر پابندی لگانے سے صاف انکار کر دیا۔ اٹارنی جنرل نے پالین ہینسن کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی مسلمان قانون پسند ہیں۔ سینیٹر پالین کے اقدام سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ کسی کے بھی پہناوے کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے۔ دائیں بازو کی جماعت ”ون نیشن“ سے وابستہ پالین ہینسن ایوان میں اس وقت برقع پہن کر آگئیں جب ان کی جماعت برقع پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دینا چاہتی تھی۔ سینیٹر ہینسن نے کہا کہ آجکل کے جدید آسٹریلیا میں عوامی مقامات پر چہرے کو پورا ڈھکنا بڑا مسئلہ ہے اور اس پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔
برقع

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...