نوازشریف‘ حسین نواز‘ حسن آج پیش نہیں ہونگے‘ احتساب بیورو کو والیم 10 مل گیا : نیب نے حدیبیہ ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا

18 اگست 2017

لاہور (فرخ سعید خواجہ) سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹے حسین نواز اور حسن نواز آج جمعہ کو نیب میں پیش نہیں ہونگے۔ میاں نواز شریف کو جمعرات کی شب تک نیب میں پیشی کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔ میڈیا میں خبریں چلتی رہی تھیں کہ میاں نواز شریف کو نیب نے آج جمعہ کو طلب کیا ہے۔ خبروں میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ نیب لاہور میں پیش ہو سکیں گے۔گزشتہ روز نیب میں پیش ہونے کے حوالے سے جاتی عمرہ رابطہ قائم کیا گیا تو وہاں اسے اس بارے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ نوائے وقت نے میاں نواز شریف کے دست راست سینیٹر پرویز رشید سے دریافت کیا کہ میاں نواز شریف جمعہ کو کتنے بجے نیب میں پیش ہونگے۔ سینیٹر پرویز رشید نے جواب دیا کہ ہمیں تاحال کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما آصف کرمانی نے بھی کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بیٹے آج نیب میں پیش نہیں ہو رہے کچھ چینل میرے نام سے منسوب بے بنیاد خبریں چلا رہے ہیں میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو نیب کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔
نوازشریف پیشی
اسلام آباد (چودھری شاہد اجمل /خصوصی نامہ نگار) قومی احتساب بیورو (نیب) نے حسین نواز سمیت شریف خاندان کے 3افراد کو آج (جمعہ کو) پیش ہونے کی ہدایت جاری کردی ہے، جبکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ نیب نے پانامہ فیصلے کی روشنی میں یہ اقدام کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دے رکھا ہے، دو ہفتے کا عرصہ پہلے ہی گزر چکا ہے۔ دوسری جانب نیب نے شریف خاندان کی طلبی یا اس حوالے سے کسی بھی معاملے پر قسم کا موقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رابطہ کرنے پر پہلے تو ترجمان نیب نے فون نہیں اٹھایا بعدازاں جب فون اٹھایا تو کہا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ علم نہیں مجاز اتھارٹی کی طرف سے موقف دینے سے منع کیا گیا ہے۔ نیب لاہور کی ٹیم نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ نیب لاہور نے کمپنیوں کے ریکارڈ کے لیے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے اور اس سے اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ نیب لاہور کی ٹیم مریم نواز کے لندن فلیٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثہ جات کا ریکارڈ اکٹھا کرے گی۔ ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے خلاف 4ریفرنسز کی تیاری کے لیے دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ نیب راولپنڈی کی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر پنڈی رضوان احمد جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم لاہور کی سربراہی میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کر رہے ہیں، نیب لاہور کی ٹیم نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات آغاز کر دیا، نیب راولپنڈی کی ٹیم العزیزیہ سٹیل کمپنی سمیت شریف فیملی کی 11کے قریب کمپنیوں کی تحقیقات کرے گی۔ نیب لاہور نے ایس ای سی پی سے اسحاق ڈار اور اہل خانہ کی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کرنے کےلئے بھی خط لکھ دیا۔ نیب لاہور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس تیار کرے گی۔ نیب کو شریف فیملی، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کے خلاف 8ستمبر تک ریفرنسز دائر کرنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کے اجلاس میں پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں اہم فیصلے کیے گئے۔ 7رکنی ٹیم راولپنڈی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی رضوان خان کر رہے ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں شریف خاندان کے خلاف 4ریفرنسز تیار کریں گی۔ ذرائع کے مطابق نیب لاہور کی تحقیقاتی ٹیم 3ارکان پر مشتمل ہے جس کی سربراہی نذیر اولکھ کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں نادر جان اور عمران ڈوگرشامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق چار مقدمات میں ریفرنس تیار کرکے عدالتوں کو بھجوانے کے لیے چھ ہفتے کا وقت بالکل مناسب ہے۔ قوانین کے تحت چیئرمین نیب کسی مقدمے میں عدالتی ریفرنس ترتیب دینے کے لیے تحقیقاتی افسر مقرر کرتا ہے۔ تاہم اس مقدمے میں نیب کی جانب سے کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیمیں ( سی آئی ٹیز) تشکیل دی گئیں ہیں۔ نیب زرائع کے مطابق تحقیقات کو مزید موثر بنانے کے لیے سی آئی ٹیز کا نیا طریقہ اپنایا ہے جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرے گی۔ مشترکہ ٹیم میں نیب کے دو تحقیقاتی افسر شامل ہوں گے، جن میں ایک مالیاتی امور کا ماہر اور دوسرا قانونی امور کا ماہر موجود ہے۔ نیب کے قانون کے مطابق نیب کا تحقیقاتی افسر تحقیقات کے دوران گواہوں کے بیان ریکارڈ کرتا ہے اور ہر پہلو کا اپنے طور پر مکمل جائزہ لیتا ہے تاکہ ریفرنس عدالت میں ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہو۔ شریف خاندان کے کیسوں میں سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) شواہد پر مبنی اپنی رپورٹ دے چکی ہے۔ دوسری طرف قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز کیس کا رفرنس دوبارہ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرنے تک ریفرنس نہیں کھولا جا سکتا اور سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے میں بھی حدیبیہ کیس کھولنے کی واضح ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کو مسترد کر دیا گیا تھا اور عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ تاحال برقرار ہے، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو پانامہ کیس کے فیصلے میں ختم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں ریفرنس دائر کرنا قانونی لحاظ سے درست نہیں ہو گا۔ نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاہم حدیبیہ کیس اس وقت تک نہیں کھولا جا سکتا جب تک سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیتی۔ واضح رہے کہ حدیبیہ پیپرز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر کے خلاف سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا تھا جس میں کالے دھن کو سفید کرنے کا الزام لگایا دیا تھا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ہی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق کی طرف سے 2000ءیہ اعترافی بیان دیا گیا تھا انہوں نے شریف خاندان کے لئے منی لانڈرنگ کی تھی۔
نیب ریفرنسز