عمران نو بال کرینگے‘ تو دیکھا جائیگا : نوازشریف اور فیملی سیاست سے آﺅٹ ہو جائیگی‘ کوئی تعاون نہیں کرینگے : زرداری بلاول

18 اگست 2017

لاہور (سید شعیب الدین سے) پیپلزپارٹی پارلیمینٹریز کے صدر آصف زرداری اور پیپلزپارٹی پاکستان کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اب میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ نواز شریف کا طرز عمل کبھی جمہوری نہیں رہا اور اگر وہ اب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو پھر مقابلہ کریں اور ڈٹے رہیں۔ ہم پر تو سب کچھ گزر چکا ہے۔ ہمارے قائد بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، ہمارے وزیراعظم کو نااہل کیا گیا۔ خود برسوں جیل میں قید رہے۔ مگر کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی کہ ملک کو نقصان پہنچے۔ دشمن فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے تو اپنی نااہلی پر گلگت اور کمیر کے وزیراعلی اور وزیراعظم سے خطرناک بیانات دلوائے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار بلاول ہاﺅس میں بحریہ ٹاﺅن میں گزشتہ رات رمیزہ نظامی سمیت سینئر صحافیوں، اینکرز پرسنز سے ملاقات میںکیا۔ اس موقع نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو، شیری رحمان، رخسانہ بنگش، اعتزاز احسن، قمرالزمان کائرہ، ندیم افضل چن، مصطفی نواز کھوکھر، ملک عثمان سلیم، اورنگ زیب برکی، تنویر اشرف کائرہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ پنجاب میں ہم اب بڑے دنوں کے بعد آئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پنجاب آئیں اور شہیدہو گئیں۔ بی بی کے صدمے کے بعد ہم نے حکومت بنائی تو انہوں نے کہا کہ اگلی واری ساڈی، انہوں نے کہا کہ مجھے اس وقت علم تھا کہ سب کو سانھ لے کر چلنا ہو گا تبھی پاکستان آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب پنجاب میں بیٹھ کر کوشش کریں گے کہ پنجاب اور وفاق میں ان کی نہیں ہماری حکومت ہو۔ انہوںنے کہا کہ قائداعظم کا پاکستان تبھی بن سکے گا جب ہم سب مل کر رہیں۔ کسی کو گھر سے نکلتے وقت ڈر نہ ہو کہ اٹھا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسی پاکستان میں رہنا ہے۔ میرا بیٹا یہیں سیاست کر رہا ہے۔ میری بیٹیوں نے بھی یہی رہنا ہے۔ ہمارا مستقبل اسی میں ہے کہ پاکستان ترقی کرے۔ انہوںنےکہا کہ سویلین سپرمیسی کے لئے دنیا بھر میں جدوجہد کی گئی۔ امریکہ یورپ ہر جگہ ایسا ہوا۔ ہم بھی اکیسیویں صدی میں آ گئے ہیں ہمیںاب عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میاںصاحب سمجھتے نہیں ہیں یا شاہد سمجھنا نہیں چاہتے کہ سدا بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ باقی ہم سب نے ہر ایک نے جانا ہے۔ یہاں 5 سال کا عرصہ حکومت طے ہے کوئی مستقل حکمران نہیں ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں عباس شریف کے انتقال پر جاتی عمرہ جاناں، مگر انہوں نے پسند نہ کیا انہوں نے کہا کہ یہ تو جیل میں رہ نہ سکے جدہ چلے گئے۔ جیل تو میں نے کاٹی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر ایک آپشن تھا کہ اسمبلی ختم کرکے نئے الیکشن کروا دینا مگر اس سے جمہوریت کے تسلسل کیلئے ہماری جدوجہد کمزور ہو جاتی انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے کسی پیغام لیکر آنے کی صورت میں کیا کریں گے سوال پر کہا کہ مولانا فضل الرحمن آئے تو اچھی روٹی شوٹی کھلا کر بھیجیں گے۔ انہوں نے ”کمپرومائز“ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ضیاءالحق سے کمپرومائز کر لیتے تو سولی نہ چڑھائے جاتے۔ بینظیر بھٹو کمپرومائیز کر نہیں تو شہید نہ ہوتیں۔ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی تجویز کے بارے سوال یہ کیا کہ رضا ربانی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں وہ اپنی ایک رائے رکھتے ہیں اور غیر جانبدار رہنے کا تاثر دیتے رہتے ہیں۔ سینٹ میں میری اورپارٹی کی آواز اعتزاز احسن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ چلیں گے اس معاملے پر ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوا زشریف اپنے اس دور میں جمہوری رویہ رکھتے، صوبوں کو حقوق دیتے تو ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب شریف خاندان نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر ان کو مائنس کر دیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹی ختم ہو گئی۔ پارٹی قائم رہے گی انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے دو وزیراعظم بنائے دونوں کا تعلق ان کے خاندان سے نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات جمہوریت کا تسلسل رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءکے انتخابات کے مسلم لیگ مینڈیٹ کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ روٹی، کپڑا، مکان آج زمینی حقائق پر پورا اترتا ہے کیونکہ پاکستان کی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ وہ تھا جب بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپسی پر ائرپورٹ سے مینار پاکستان تک 22 گھنٹے لگے تھے اس قافلے میں کوئی سرکاری گاڑی نہیں تھی فوجی حکومت کے بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اسکا کوئی امکان نہیں اگر کوئی وفاقی وزیر ایسا کہتے ہیں تو شاید وہ ایسا جانتے ہوں اسے جنرل مشرف تو وہ دوبئی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ کے بارے سوال پر واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ عدلیہ کی موجودگی میں ملک میں کوئی غیر آئینی اقدام کی جرات نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کسی کا دبا¶ قبول کرنیوالی نہیں ہے۔ اعلیٰ عدلیہ تو ان سے آخری دن تک پیسے باہر بھجوانے کے ثبوت مانگتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ آپ صوبوں کی بات نہ کریں، انہیں نظر انداز کریں اپوزیشن کی بات نہ سنیں۔ اسمبلی میں نہ آئیں تو کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ انہیں دھکا کس نے دیا۔ نواز شریف کہتے ہیں میرا قصور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مدت پوری کی اور ان کی مدت حکومت ان کا مینڈیٹ تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی مان رہے ہیں تاکہ جمہوری فضا میں ہماری آنیوالی نسلیں سانس لیں۔آصف زرداری نے کہا کہ آج ہم بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں پہلی بار ایسا ہوا کہ امریکہ میں ہماری کوئی لابنگ فرم نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب ملک میں لڑائی نہیں چاہتے مگر ہمارے اردگرد حالات اچھے نہیں ہیں۔ بھارت اور چین میں سرحدی تنازع بڑھ رہا ہے مگر یہاں کوئی بات نہیں ہو رہی۔ آصف زرداری نے کہا کہ اگر میاں نوازشریف نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مقابلہ کرنا ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور سامنا کریں، مگر یاد رہے نہ کوئی بھٹو جیسا ہوسکتا ہے اور نہ بینظیربھٹو جیسا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر بہت ظلم ہوئے‘ میری زبان کاٹی گئی۔ ہماری قیادت کو پھانسی چڑھایا گیا۔ ہم نے سب کچھ بھگتا۔انہوں نے واضح کہا کہ انکی پارٹی دائیں بازو نہیں بائیں بازو کی ہے۔ سوشلزم اب روس اورچین میں بھی نہیں رہا۔ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان کے اقتدار میں آنے پر امید تھی کہ انہوں نے ماضی سے سبق سیکھا ہوگا مگر مجھے ناامیدی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی دونوں کامقابلہ کریں گے۔ عمران خان کے پاس تو 30فیصد نشستوں پر امیدوار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی ڈائیلاگ شروع کریں۔ اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔ جس نے ان کے ڈائیلاگ میں شامل ہونا ہوگا وہ ان کے پاس جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اپنے بدترین دشمن خود ہیں‘ اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑا مارتے ہیں۔ انہوں نے بلاول کے بارے میں کہا کہ اس کی اپنی شخصیت ہے‘ وہ اپنے ذہن سے سوچتا اور اپنی بات کرتا ہے۔ بلاول بہت ہمت والا ہے‘ بلاول بھٹو زرداری نے 62-63 کے حوالے سے کہا کہ 2018ءمیں اپنا مینڈیٹ لیکر آئیں گے تو اسے آئین سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ مثبت سیاست کی جائے وہ نہیں جو آج کل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جگہ پیدا کریں گے۔ پنجاب میں جلسے کیے ہیں‘ مزید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا جب ہم سول سپرمیسی کی بات کرتے تھے تو ہمارا ساتھ دینے کی بجائے یہ ہماری مخالفت کرتے تھے۔آصف زرداری نے اپنے دور حکومت کے بارے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی سلامتی کے مسئلہ پر ہمیشہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سے مشاورت کر لیتے تھے کیونکہ بہرحال فوج ملکی معاملات میں ایک اہم فریق ہے۔ میاں نوازشریف کو موجودہ حالات میں کسی مشورے کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جو مشورہ میں اپنے آپ کو دیتا وہی میں نوازشریف کو دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کے اقتدار کے خاتمے کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہیں ہے کیونکہ عدالت کی تمام کارروائی سب کے سامنے ہے۔

زرداری

لاہور (خبر نگار) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ لوگ غلط فہمی میں ہیں، ہم نے نواز شریف کا کبھی ساتھ نہیں دیا، جمہوریت بچائی تھی۔ نواز شریف کے ساتھ پائے نہیں کھائے اور نہ ہی کھانا چاہتا ہوں۔ نواز شریف اور ان کی فیملی سیاست سے آ¶ٹ ہو جائے گی، عمران خان فل ٹاس کھیل رہے ہیں نو بال پر آئیں گے تو دیکھیں گے۔ شریف خاندان کو پیپلز پارٹی سے کوئی ریلیف کی توقع ہے تو ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف معصوم نہیں مجرم ہیں، 2 جماعتی دائیں بازو کی سیاست کر رہی ہیں، ملک میں ہمیشہ دائیں بازو کی سیاست رہی تو نقصان ہو گا، ہمارا مقصد بھٹو ازم کے نظریات کے تحت سیاست کرنا ہے، پیپلزپارٹی اپنے طرز سیاست پر چل رہی ہے، مستقل میں جو ہوگا دیکھیں گے، ہم نے میثاق جمہوریت میں کہہ دیا تھا کہ آرٹیکل62،63کو نکا لیں، اب یہ پارلیمنٹ میں آئیگا تو دیکھیں گے۔یہ باتیں انہوںنے بلاول ہاﺅس لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ جب سے لاہور آیا ہوں یہاں پر گہما گہمی بڑھ گئی ہے، ملک کا جمہوریت کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی مگر نواز شریف کا گزشتہ چار سالوں میں طرز حکمران سیاسی نہیں تھا، میرے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا، ان کا دور دیکھیں اگر چار سالوں کے بعد آپ اپنے سگے بھائی کو بھی کال کریں گے تو وہ بھی کال نہیں اٹھائے گا، میری دوستی نواز شریف کے ساتھ نہیں جمہوریت کے ساتھ ہے، جلا وطنی کے وقت نواز شریف کے ساتھ تعلقات تھے، لیکن تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں رابطے برقرار رہیں،آصف علی زرداری نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہا، ہم ججز کے مائنڈ سیٹ کو نہیں جانتے شریف فیملی کےخلاف ابھی تو ریفرنسز دائر ہوئے ہیں وکلاءکے ساتھ مشاورت کرکے ان کا جائزہ لیں گے،کسی سے ایگرمنٹ کا وقت گزر گیا، اب تو الیکشن سر پر کھڑے ہیں سب اپنے اپنے امیدوار کھڑے کرتے ہیں، بلاول کی والدہ کی سیاست 22سال کی عمر سے شروع ہوئی تھی، این اے120میں ابھی تو شروعات ہوئی ہے ہم یہاں آبیٹھے ہیں جس سے فرق پڑے گا۔ سابق صدر نے کہا کہ عمران خان غیر سیاسی آدمی ہیں انہیں کیا سمجھاﺅں، نواز شریف اور عمران خان ایک سکے کے دو رخ ہیں، میرے چیئرمین بلاول نے جو کہہ دیاہے میری بھی وہی بات ہے ہمارا مقصد ہے بھٹو ازم کے نظریات کے تحت سیاست کریں فی الحال پیپلزپارٹی اپنے طرز سیاست پر چل رہی ہے مستقبل جو ہوگا دیکھیں گے، ہم نے میثاق جمہوریت میں کہہ دیا تھا کہ آرٹیکل62،63کو نکا لیں۔ آرٹیکل62،63پارلیمنٹ میں آیا تو دیکھیں گے۔ آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور واپسی کے قافلے کی سکیورٹی کیلئے20ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات تھے، اور ان کے قافلے کی تمام گاڑیاں بی ایم ڈبلیو تھیں بچہ بھی بی ایم ڈبلیو کے نیچے آکر جاں بحق ہوا۔ اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں ہمیشہ دائیں بازو کی سیاست رہی تو ملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا، نیشنل ایکشن پلان میں ذکر ہے کہ کالعدم جماعت نام بدل کر سیاست نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے، قوم جانتی ہے نواز شریف معصوم نہیں عدالت نے مجرم قرار دیا ہے، پنجاب اور کے پی کے سے سیاسی سرگرمیوں کو شروع کرنے جارہا ہوں،19کو مانسہرہ اور 26کو اٹک میں جلسہ کروں گا۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر زرداری کے خلاف زیر التوا آخری کرپشن ریفرنس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ کرلیا۔احتساب عدالت سابق صدر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مبینہ طور پر پاکستان اور بیرون ملک غیر قانونی اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کرے گی۔یہ ریفرنس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو پر غیر قانونی ذرائع سے جائیداد بنانے کے الزام پر دائر کیا گیا تھا۔ نیب کے وکیل طاہر ایوب نے بتایا کہ یہ کیس اختتامی مراحل میں ہے اور عدالت نے اس کی روزانہ کی بنیاد پر پیروی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کیس کی کارروائی آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی اور جلد ہی عدالت اس کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔ واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 6 مقدمات دائر تھے تاہم اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی جس میں سے 5 کیسز میں انہیں بری کر دیا گیا تھا۔


زرداری/ بلاول