کراچی میں فائرنگ ،تشدد ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد جاں بحق

18 اگست 2017

کراچی ( کرائم رپورٹر) کراچی کے علاقے گلشن معمار میںدہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس رضا کار فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔کانسٹیبل رحمت اللہ پولیس مقابلے میں شہید ہوگیا۔ دیگر علاقوں میں2 افراد کو قتل کر دیا گیا اور کمسن بچی زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کا واقعہ جمعرات کی دوپہر ناردرن بائی پاس پر پیش آیا جس کے بعد حملہ آور دہشت گرد جو موٹر سائیکل پر سوار تھے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔ معمول کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی پولیس سندھ نے اس واقعے کا بھی نوٹس لیتے ہوئے دہشت گردوںکی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے جمعرات کی دوپہر پولیس قومی رضا کار فورس کے دونوں اہلکاروں کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایاگیا جب وہ ناردرن بائی پاس پولیس چوکی سے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر جارہے تھے ان پر موٹرسائیکل پر سوار دو مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں اہلکاروں کے سر اور گردن میں گولیاں لگیں۔ جس کے بعد دونوں کو پٹیل اسپتال پہنچایا گیا جہاں ان میں سے ایک اہلکار 45 سالہ جمشید نے دم توڑ دیا جبکہ 30 سالہ گلزار کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں اہلکارو ںپر نائن ایم ایم اور 30 بور پستول سے فائرنگ کی گئی جن کی گولیوں کے خول جائے وقوعہ سے ملے ہیں ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے مطابق واقع میں ملوث ملزمان کی سرگرمی سے تلاش شروع کردی گئی ہے واضح رہے کہ کراچی میں رواں برس پولیس پر حملوں کا سلسلہ رمضان المبارک میں شروع ہوا تھا۔ جس کے بعد سے اب تک فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 21 ہوچکی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں کمسن بچے سمیت دو افراد کو قتل کر دیا گیا جبکہ ایک بچی گولی لگنے سے زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ اتحاد ٹائون کے علاقے محمد خان کالونی میں کمسن بچے 7 سالہ سدیش ولد عبدالسلام کی لاش ایک خالی پلاٹ سے ملی۔ پولیس کے مطابق کمسن سدیش کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے جبکہ اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا گھر والوں کے مطابق7 سالہ سدیش گذشتہ روز لاپتہ ہوگیا تھا۔ پولیس نے واقع کے بارے میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اس کے علاوہ سکھن کے علاقے رزاق آباد میں مٹھڑی گوٹھ سے ایک نوجوان کی تشدد زدہ جھلسی ہوئی لاش ملی جسے پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لئے جناح اسپتال پہنچایا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی عمر تقریباً 28 سال تھی تاہم فوری طور پر اس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ مقتول کو قتل کے بعد شناخت مٹانے کے لئے لاش کو جلا دیا گیا تھا۔ قائد آباد میں فائرنگ سے کمسن بچی زخمی ہوگئی۔7 سالہ ثناء اختر لال محمد کو نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگی جس کے بعد اسے جناح اسپتال پہنچایا گیا اور طبی امداد فراہم کی گئی۔فیروز آباد کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا واقعہ جمعرات کی رات ٹیپو سلطان ٹریفک سگنل کے نزدیک پیش آیا جس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔ شہید اہلکار رحمت اللہ فیروزآباد تھانے میں تعینات تھا۔
کراچی جاں بحق