مہاجروں نے جشن آزادی شایان شان مناکر لندن کا یوم سیاہ مسترد کردیا : فاروق ستار

18 اگست 2017

کراچی (خصوصی رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ کے شہریوں میں اس مرتبہ ایم کیوایم پاکستان کی کال جس جوش ‘ جذبے اور ولولہ کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا 70واںجشن منایا گیا ہے شاید اس سے قبل نہیں منایا گیا ‘ اس جوش و خروش ‘ جذبہ اور ولولہ پر کسی اور کی جانب سے ہماری حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھایا گیا بلکہ لندن سے کھلا اعلان جنگ کیا گیا تھا اور یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ‘پاکستان میں سیاست کرنے کیلئے سیاسی جماعت بنانا ایک عمل ہے لیکن آئین اورریاست پاکستان کی نفی کرنا ‘ پوری دنیا میں یوم آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منانا اور کچھ پاکستانیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے سے پاکستان کے پرچم نذر آتش کرنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے ‘ اس یوم سیاہ کا لاکھوں کروڑوں مہاجروں نے بائیکاٹ کرکے یہ بتا دیا کہ پاکستان کے مختلف طبقات اور اکائیوں میں اگر آج بھی سب سے زیادہ محب وطن کوئی اکائی ہے تو وہ پاکستان بنانے والے اور ان کی اولادیں اور مہاجر ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ نیب آرڈی نینس کو کالعدم کرنے کیلئے حکومت سندھ نے جو قانون بنایا ہے اسے سندھ ہائیکورٹ نے عضوئے معطل بنا دیا ہے ‘سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے سے ہمیں تقویت اور حوصلہ ملا ‘ کل ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان بااالخصوص سندھ سے اور پورے پاکستان کو کرپشن سے کھاڑنے کیلئے مہم شروع کررہی ہے ‘ سندھ ہائکورٹ کے فیصلے کے بعد اب سپریم کورٹ سے ہماری استدعا ہے کہ 179کرپشن کے میگا مقدمات کو اپنی زیر نگرانی آگے بڑھانے کا عمل شروع کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو ایم کیوایم بہادر آباد کے عارضی مرکز پر رابطہ کمیٹی کے ‘ رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینرعامر خان ‘ ڈپٹی کنوینرزڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ‘کنور نوید جمیل ‘اراکین رابطہ کمیٹی شاہد علی ‘ خالد سلطان ‘ شکیل احمد ‘ وسیم قریشی ‘محمود عبدالرزاق اور رکن سندھ اسمبلی وسیم قریشی بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے دل کی گہرائیوں سے پاکستان بنانے والوں اور ان کی موجودہ نسل کو 70واں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے پر مبارکبادپیش کی اور کہا کہ پاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ پرایم کیوایم پاکستان کے سو سے زیادہ آزادی کی سالگرہ کے پروگرام ہوئے ‘ درجنوں ریلیاں نکالی گئیں ‘ہم نے پچھلے سال جہاں 40فٹ کے جھنڈے لگائے تھے اس مرتبہ 140فٹ کے جھنڈے لگائے اور مہاجروں نے خاص طور پر اور ان کے ساتھ تمام مظلوم طبقوں نے جس طرح ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں انہو ں نے لندن کے یوم سیاہ کو مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چند مٹھی بھر سے بھی کم گمراہ لوگوں نے یوم سیاہ منانے کی بات کی انہیں ہم نے جشن آزادی منا کر مسترد کیا اللہ کے فضل و کرم سے کوئی پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے کا کوئی واقعہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہوا جو بھی واقعات ہوئے ملک سے باہر ہوئے ‘ ان بزدلوں کو دیکھیں کہ انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ کراور آواز بدل کریہ عمل کیا ۔اگر ملک کے بیس ‘ اکیس کروڑ محب وطن پاکستانیوں ‘ کروڑوں مہاجروں کی حب الوطنی اور ملک سے محبت کا مقابلہ کرنا ہی تو چہروں سے ڈھاٹے اتار کر سامنے آئیں تاکہ لوگ انہیں پہچانیں کہ تم کون ہو ‘ کس کی ایماء پر یہ کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان میرے نام سے رجسٹرڈ ہے بریکٹ والی اوربغیر بریکٹ والی ایم کیوایم بھی میرے نام پر رجسٹرڈ ہے پورے پاکستان کی سیاست کا بیڑا اٹھانے والوں کا پلان یہ ہے کہ کہ کسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کمزور ہو گی تو شاید انہیں اسپیس ملے گی بس یہ کسی طرح ہوجائے تو رستہ صاف ہے انہوں نے نام نہاد جماعت کے سربراہ کو مشورہ دیا کہ آپ پورے ملک کی قومی سیاست کریں جو بیڑا اٹھایا ہے مہاجروںکو آپ سے کیا درد ہے اگر درد ہوتا تو لندن سے جو گالیاں پڑیں اس کا جواب آپ نے نہیں ہم نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک پٹیشن 140Aدائر کی ہے جو سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے منظور کرلی ‘ پاکستان کے تمام مئیر اوربلدیاتی اداروں کو اختیار دلانے کیلئے ‘ مردم شماری پٹیشن بھی مان لی گئی ہے اس پر ہیرنگ ہوسکتی ہے ‘ صوبائی حکومت نے احتساب سے بھاگنے کی کوشش کی نیب آرڈی نینس 1999ء کے دائرہ کار سے خود کو آزاد کرانے کی سازش کی اور نیب کے قانون کا بل کالعدم قرار دیا ‘ ہم نے اسے سندھ ہائکورٹ مین چیلنج کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے موقف کی انتہائی زبردست تائید اور حمایت ہوئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے بجا طور پر فیصلہ دیا ہے اس سے سندھ اور اندرون سندھ کے عوام کے ووٹوں پر پیپلزپارٹی نے جس طرح سندھ کے شہروں میں لوٹ مار کی ہے ‘ دیہی علاقوں میں بھی کوئی ترقیاتی کام نہیں کرائے ہیں انہی 179 میگا اسکینڈ ل کو لے کر کرپشن کے خاتمے کیلئے سندھ کے اندر جو جماعتیں اپوزیشن کی ہیں ان سے رابطہ کریں گے اور وسیع تر موبلائزیشن قائم کریں گے۔ دریں اثناء ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ایم کیوایم سوشل میڈیا کا اجلاس عارضی مرکز بہادر آباد میں منعقد ہوا جس میں سوشل میڈیا کو فعال کرنے کے حوالے سے مختلف تجاوزپر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین شاہد پاشا‘ شکیل احمد‘ فرقان اطیب‘ شاہد علی‘ ابوبکر‘ راشد سبزواری اور خالد سلطان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے سوشل میڈیا کے ذمہ داران و اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو پاکستان کی ترقی اور ملک کی بہتری کیلئے استعمال کیا جائے اور اس کلچر کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے ‘ یہ میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کی مدد سے معاشرتی ناسور اور ناہمواریوں کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پر ملک دشمنی پر مبنی پروپیگنڈے کی بیخ کنی کی جائے اور اس کے خلاف بھرپور طریقے سے مہم چلائی جائے۔
فاروق ستار