عمران نوبال کریں گے تو دیکھا جائے گا، نواز شریف اور فیملی سیاست سے آؤٹ ہوجائیگی ، کوئی تعاون نہیں کریں گے : زرداری ، بلاول

18 اگست 2017

لاہور(نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو مستقبل میں سیاست میں نہیں دیکھ رہا جب سے لاہور آیا ہوں گہما گہمی بڑھ گئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کا ساتھ دیا، جمہوریت بچائی ہے کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ ہم نے پچھلی مرتبہ نوازشریف کا ساتھ دیا تھا۔ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہم نے نوازشریف کا نہیں حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ ہم پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ ہیں، جمہوریت کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔جمہوریت کے علاوہ پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں۔ ہمارے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ سیاست میں آخری بات نہیں ہوتی۔ ہم نے ان سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں لیا۔ میری جمہوریت کے ساتھ دوستی تھی۔ ابھی تو ریفرنس دائر ہوئے ہیں اس کا جائزہ نہیں لیا۔ یہ کہا جائے کوئی سیاسی جماعت ختم ہوجائے گی ایسا نہیں ہوسکتا۔ تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں رابطے برقرار رہیں۔ میاں صاحب اپنی چار سال کی حکومت میں سیاسی جماعت کو ساتھ لے کر نہیں چلے۔ کسی زمانے میں میاں صاحب سے تعلقات تھے۔ جب امریکہ میں تھا ان کے ساتھ تعلقات ضرور تھے۔ میاں صاحب سے کبھی ذاتی فائدہ نہیں لیا اور نہ کبھی لینے کا ارادہ ہے۔ ابھی ریفرنسز آئے ہیں، ریفرنسز میں کہا ہے یہ نہیں پسند قانونی ماہرین کی رائے لے کر میڈیا کو آگاہ کروں گا۔ بھائی سے چار سال تعلقات نہ ہوں، اس کے بعد فون کریں تو وہ بھی فون نہیں اٹھائے گا، میری جمہوریت کے ساتھ دوستی ہے۔ میاں صاحب کے ساتھ میں پائے نہیں کھاتا۔ عمران خان فی الحال فُل ٹاس پر کھیل رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے انہیں کوئی دشواری نہیں۔جب نو بال پر آئیں گے پھر دیکھیں گے۔ بلاول بھٹو کی والدہ نے سیاست 22 سال کی عمر میں شروع کی تھی، میرے چیئرمین نے کہہ دیا، میں نے کہہ دیا ایک ہی بات ہے۔ میرے چیئرمین نے کہا عمران خان اور نوازشریف ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، یہ فیصلہ پارٹی مشاورت سے کرتے ہیں ہماری سوچ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر چلیں۔ خان صاحب غیر سیاسی آدمی ہیں انہیں کیا سمجھائوں ابھی ہمیں بھٹو ازم اور اپنی سوچ کے تحت سیاست کرنی ہے۔ فی الحال پیپلزپارٹی اپنی طرز سیاست پر چلے گی۔ آئندہ مدت آئی تو دیکھیں گے، حکومت اور اپوزیشن میاں صاحب کی ہے، ریلی ایک نیا مذاق ہے۔ جی ٹی روڈ پر بچہ سکیورٹی کی گاڑی سے ٹکرا کر شہید ہوگیا اب یہ لوگ کسی کا بھی نام لے لیں۔ کسی سے بات کرنے کا وقت تو اب نہیں رہا اب تو الیکشن ہونے ہیں، کسی سے ایگریمنٹ کرنے کیلئے بہت دیر ہوچکی ہے۔ اب الیکشن سر پر کھڑے ہیں سب کو امیدوارچننے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں، آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے۔ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ شریف خاندان اگر پیپلزپارٹی کی طرف سے ریلیف چاہتے ہیں تو نہیں مل سکتا۔ مسلم لیگ ن کو جو پیپلزپارٹی سے توقعات ہیں وہ پوری نہیں ہوسکتیں۔ خیبر پی کے اور پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں کررہا ہوں ملک میں صرف دائیں بازو کی سیاست رہی تو بُرا ہوگا۔ ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ایسا لگتا ہے کہ احتساب کا قانون پیپلزپارٹی کی قیادت کیلئے بنایا گیا ہے۔ قوم کو پتہ ہے کہ نوازشریف معصوم نہیں ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان میں ذکر ہے کہ کالعدم جماعت نام بدل کر نہیں آسکتی۔
زرداری/ بلاول

لاہور (سید شعیب الدین) پیپلزپارٹی پارلیمینٹریز کے صدر آصف زرداری اور پیپلزپارٹی پاکستان کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اب میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ نواز شریف کا طرز عمل کبھی جمہوری نہیں رہا اور اگر وہ اب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو پھر مقابلہ کریں اور ڈٹے رہیں۔ ہم پر تو سب کچھ گزر چکا ہے۔ ہمارے قائد بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، ہمارے وزیراعظم کو نااہل کیا گیا۔ خود برسوں جیل میں قید رہے۔ مگر کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی کہ ملک کو نقصان پہنچے۔ دشمن فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے تو اپنی نااہلی پر گلگت اور کمیر کے وزیراعلی اور وزیراعظم سے خطرناک بیانات دلوائے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار بلاول ہائوس میں بحریہ ٹائون میں گزشتہ رات رمیزہ نظامی سمیت سینئر صحافیوں، اینکرز پرسنز سے ملاقات میںکیا۔ اس موقع نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو، شیری رحمان، رخسانہ بنگش، اعتزاز احسن، قمرالزمان کائرہ، ندیم افضل چن، مصطفی نواز کھوکھر، ملک عثمان سلیم، اورنگ زیب برکی، تنویر اشرف کائرہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ پنجاب میں ہم اب بڑے دنوں کے بعد آئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پنجاب آئیں اور شہیدہو گئیں۔ بی بی کے صدمے کے بعد ہم نے حکومت بنائی تو انہوں نے کہا کہ اگلی واری ساڈی، انہوں نے کہا کہ مجھے اس وقت علم تھا کہ سب کو سانھ لے کر چلنا ہو گا تبھی پاکستان آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب پنجاب میں بیٹھ کر کوشش کریں گے کہ پنجاب اور وفاق میں ان کی نہیں ہماری حکومت ہو۔ انہوںنے کہا کہ قائداعظم کا پاکستان تبھی بن سکے گا جب ہم سب مل کر رہیں۔ کسی کو گھر سے نکلتے وقت ڈر نہ ہو کہ اٹھا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسی پاکستان میں رہنا ہے۔ میرا بیٹا یہیں سیاست کر رہا ہے۔ میری بیٹیوں نے بھی یہی رہنا ہے۔ ہمارا مستقبل اسی میں ہے کہ پاکستان ترقی کرے۔ انہوںنیکہا کہ سویلین سپرمیسی کے لئے دنیا بھر میں جدوجہد کی گئی۔ امریکہ یورپ ہر جگہ ایسا ہوا۔ ہم بھی اکیسیویں صدی میں آ گئے ہیں ہمیںاب عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میاںصاحب سمجھتے نہیں ہیں یا شاہد سمجھنا نہیں چاہتے کہ سدا بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ باقی ہم سب نے ہر ایک نے جانا ہے۔ یہاں 5 سال کا عرصہ حکومت طے ہے کوئی مستقل حکمران نہیں ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں عباس شریف کے انتقال پر جاتی عمرہ جاناں، مگر انہوں نے پسند نہ کیا انہوں نے کہا کہ یہ تو جیل میں رہ نہ سکے جدہ چلے گئے۔ جیل تو میں نے کاٹی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر ایک آپشن تھا کہ اسمبلی ختم کرکے نئے الیکشن کروا دینا مگر اس سے جمہوریت کے تسلسل کیلئے ہماری جدوجہد کمزور ہو جاتی انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے کسی پیغام لیکر آنے کی صورت میں کیا کریں گے سوال پر کہا کہ مولانا فضل الرحمن آئے تو اچھی روٹی شوٹی کھلا کر بھیجیں گے۔ انہوں نے ’’کمپرومائز‘‘ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ضیاء الحق سے کمپرومائز کر لیتے تو سولی نہ چڑھائے جاتے۔ بینظیر بھٹو کمپرومائیز کر نہیں تو شہید نہ ہوتیں۔ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی تجویز کے بارے سوال یہ کیا کہ رضا ربانی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں وہ اپنی ایک رائے رکھتے ہیں اور غیر جانبدار رہنے کا تاثر دیتے رہتے ہیں۔ سینٹ میں میری اورپارٹی کی آواز اعتزاز احسن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ چلیں گے اس معاملے پر ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوا زشریف اپنے اس دور میں جمہوری رویہ رکھتے، صوبوں کو حقوق دیتے تو ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب شریف خاندان نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر ان کو مائنس کر دیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹی ختم ہو گئی۔ پارٹی قائم رہے گی انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے دو وزیراعظم بنائے دونوں کا تعلق ان کے خاندان سے نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات جمہوریت کا تسلسل رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے مسلم لیگ مینڈیٹ کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ روٹی، کپڑا، مکان آج زمینی حقائق پر پورا اترتا ہے کیونکہ پاکستان کی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ وہ تھا جب بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپسی پر ائرپورٹ سے مینار پاکستان تک 22 گھنٹے لگے تھے اس قافلے میں کوئی سرکاری گاڑی نہیں تھی فوجی حکومت کے بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اسکا کوئی امکان نہیں اگر کوئی وفاقی وزیر ایسا کہتے ہیں تو شاید وہ ایسا جانتے ہوں اسے جنرل مشرف تو وہ دوبئی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ کے بارے سوال پر واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ عدلیہ کی موجودگی میں ملک میں کوئی غیر آئینی اقدام کی جرات نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کسی کا دباؤ قبول کرنیوالی نہیں ہے۔ اعلیٰ عدلیہ تو ان سے آخری دن تک پیسے باہر بھجوانے کے ثبوت مانگتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ آپ صوبوں کی بات نہ کریں، انہیں نظر انداز کریں اپوزیشن کی بات نہ سنیں۔ اسمبلی میں نہ آئیں تو کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ انہیں دھکا کس نے دیا۔ نواز شریف کہتے ہیں میرا قصور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مدت پوری کی اور ان کی مدت حکومت ان کا مینڈیٹ تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی مان رہے ہیں تاکہ جمہوری فضا میں ہماری آنیوالی نسلیں سانس لیں۔آصف زرداری نے کہا کہ آج ہم بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں پہلی بار ایسا ہوا کہ امریکہ میں ہماری کوئی لابنگ فرم نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب ملک میں لڑائی نہیں چاہتے مگر ہمارے اردگرد حالات اچھے نہیں ہیں۔ بھارت اور چین میں سرحدی تنازع بڑھ رہا ہے مگر یہاں کوئی بات نہیں ہو رہی۔ آصف زرداری نے کہا کہ اگر میاں نوازشریف نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مقابلہ کرنا ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور سامنا کریں، مگر یاد رہے نہ کوئی بھٹو جیسا ہوسکتا ہے اور نہ بینظیربھٹو جیسا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر بہت ظلم ہوئے‘ میری زبان کاٹی گئی۔ ہماری قیادت کو پھانسی چڑھایا گیا۔ ہم نے سب کچھ بھگتا۔انہوں نے واضح کہا کہ انکی پارٹی دائیں بازو نہیں بائیں بازو کی ہے۔ سوشلزم اب روس اورچین میں بھی نہیں رہا۔ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان کے اقتدار میں آنے پر امید تھی کہ انہوں نے ماضی سے سبق سیکھا ہوگا مگر مجھے ناامیدی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی دونوں کامقابلہ کریں گے۔ عمران خان کے پاس تو 30فیصد نشستوں پر امیدوار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی ڈائیلاگ شروع کریں۔ اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔ جس نے ان کے ڈائیلاگ میں شامل ہونا ہوگا وہ ان کے پاس جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اپنے بدترین دشمن خود ہیں‘ اپنے پائوں پر خود کلہاڑا مارتے ہیں۔ انہوں نے بلاول کے بارے میں کہا کہ اس کی اپنی شخصیت ہے‘ وہ اپنے ذہن سے سوچتا اور اپنی بات کرتا ہے۔ بلاول بہت ہمت والا ہے‘ بلاول بھٹو زرداری نے 62-63 کے حوالے سے کہا کہ 2018ء میں اپنا مینڈیٹ لیکر آئیں گے تو اسے آئین سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ مثبت سیاست کی جائے وہ نہیں جو آج کل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جگہ پیدا کریں گے۔ پنجاب میں جلسے کیے ہیں‘ مزید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا جب ہم سول سپرمیسی کی بات کرتے تھے تو ہمارا ساتھ دینے کی بجائے یہ ہماری مخالفت کرتے تھے۔آصف زرداری نے اپنے دور حکومت کے بارے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی سلامتی کے مسئلہ پر ہمیشہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سے مشاورت کر لیتے تھے کیونکہ بہرحال فوج ملکی معاملات میں ایک اہم فریق ہے۔ میاں نوازشریف کو موجودہ حالات میں کسی مشورے کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جو مشورہ میں اپنے آپ کو دیتا وہی میں نوازشریف کو دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کے اقتدار کے خاتمے کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہیں ہے کیونکہ عدالت کی تمام کارروائی سب کے سامنے ہے۔
زرداری