خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس : این ٹی ایس کے ذریعہ بھرتی ہونیوالے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنیکا فیصلہ

18 اگست 2017

پشاور(بیورورپورٹ)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ صوبے بھر میں کرش مشینوں کیلئے مروجہ قوانین اور قوائد و ضوابط حقیقت پسند بنانے اور سرکاری افسران کو یکساں ایگزیکٹیو الاونس دینے کے لئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایسے اضلاع اور علاقے جہاں مقامی حکومت کے انتخابات نہ ہوئے ہوں یا کسی وجہ سے مقامی حکومتوں کا نظام غیر فعال ہو وہاں کے ترقیاتی فنڈزکو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے شفاف استعمال کی منظوری دی جبکہ ایک سب کمیٹی ضلعی ،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر حکومت کی طرف سے منظور شدہ فارمولے کے تحت مختلف شعبوں کے لئے دیئے گئے فنڈ زکے انہی شعبوں میں شفاف استعمال کے لئے سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک سب کمیٹی کی منظوری دی۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران صوبے بھر میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے ایسے تمام کنٹریکٹ ملازمین کی تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان کومستقل کرنے کے لئے طریق کار وضع کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہونے جا رہی ہے۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدے ہو چکے ہیں جو عملی شکل میں گراو¿نڈ پر آنے والے ہیں جب ترقیاتی عمل شروع ہو گا تو اسکے لئے مقامی طور پر دستیاب میٹریل کا استعمال بھی تیز تر اور بڑے پیمانے پر شروع ہو جائے گا۔تاہم یہ ترقیاتی عمل انسان دوست اور ماحول دوست بنانے کے لئے بنیادی نوعیت کے قوائد و ضوابط کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ترقی کا عمل حقیقت پسند اور دیرپا ہو۔انہوں نے ترقیاتی عمل کو سہل اور دیرپا بنانے کے لئے سفارشات مانگی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی فیصلہ سازی دیرپا ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی ترقی میں تمام شراکت دار پوری نیک نیتی سے حصہ لیں۔ وزیر اعلیٰ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ترمیمی ایکٹ2014کی کابینہ سے منظوری کو سی پیک کے تناظر میں ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ انکی حکومت سی پیک پراجیکٹس کو عملی طور پر مستقبل قریب میں دیکھ رہی ہے۔حکومت نہ صرف سرمایہ کاری کے لئے موزوں ماحول فراہم کرچکی ہے بلکہ پہلے سے ہی پالیسی کے رہنما اُصول وضع کر چکی ہے جن میں پر کشش مراعات اور آسان طریقہ کار موجود ہے اور اس کو قانونی شکل دینا ضروری سوچا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے پاور کرشنگ کے قوانین کو حقیقت پسند بنانے، سرکاری افسران کے لئے ایگزیکٹیو الاو¿نس اور مقامی حکومتوں کے تحت مختلف شعبوں کے لئے مختص شدہ وسائل کی انہی شعبوں میں شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لئے مختلف سب کمیٹیوں سے جلد ازجلد سفارشات وضع کرنے کی ہدایت کی۔ایگزیکٹیو الاﺅنس کیلئے ایک منصفانہ اور یکساں پیمانہ ہونا چاہیئے اس عمل میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہیئے حکومت سب کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حقیقت پسندانہ اور منصفانہ فیصلہ کرے گی ۔ تاہم انہوںنے ایسے اضلاع اور علاقے جہاں مقامی حکومت کا نظام یا تو الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے اور یا کسی اور وجہ سے نہ ہو کیلئے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے موجود طریقہ کارکے تحت وسائل کو ترقیاتی عمل میں خرچ کرنے کی ہدایت کی ۔انہوںنے کہاکہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے ثمرات پہنچنا ضروری ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے ریٹائرہونے والے چیف سیکرٹری عابد سعید کی گراں قدر خدمات پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا۔انہوںنے اپنا دور انتہائی ایمانداری اور دوستانہ طریقے سے گزارااور اپنے سرکاری فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔اُن کا دور صوبے کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہونے والے چیف سیکرٹری نے کہاکہ وزیراعلیٰ کی رہنمائی میں انہوںنے صوبے کی خدمت میں اخلاص سے اپنا حصہ ڈالا۔صوبے کے لوگ انتہائی خوش دلی اور محبت کے ساتھ پیش آئے اور یہ گزرا ہوا وقت میرے لئے سرمایہ ہے ۔

پشاور(بیورورپورٹ)خیبر پختونخوا حکومت کی کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ترمیمی ایکٹ2014ئ، میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی رولز2017ءاور لوگل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے ترمیمی ایکٹ سمیت متعدد قوانین کی منظوری دے دی ہے خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی زیر صدارت کیبنٹ روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہواجس کے دوران متعدداہم فیصلے کئے گئے اجلاس میں وزیراعلیٰ اور جملہ کابینہ نے پیشہ ورانہ اموراحسن طریقے سے نمٹانے پرچیف سیکرٹری کو خراج تحسین پیش کیاجس کے جواب میں چیف سیکرٹری نے بھی پوری کابینہ اور وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیااجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ترمیمی ایکٹ2014ءکی منظوری دیدی ہے تاکہ صوبے میں مجموعی سرمایہ کاری باالخصوص سی پیک کے پراجیکٹس پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ساز گار ماحول اور بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں و مراعات فراہم کی جا سکیں اور قانونی پیچیدگیوں کا ازالہ کیا جا سکے صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ فاﺅنڈیشن پبلکپرائیویٹ پارٹنر شپ رولز2017ءاور خیبر پختونخوا منیجنگ ڈائریکٹر ہیلتھ فاﺅنڈیشن رولز برائے تعیناتی و برخاستگی رولز2017ءکی بھی منظوری دیدی ہے مذکورہ رولز کی منظوری سے محکمہ صحت پراجیکٹس کی ترجیحات، تجزیہ،پرائیویٹ پارٹی کا انتخاب، پراجیکٹس پر عمل درآمد و منسوخی کیلئے با اختیار ہوگا جبکہ منیجنگ ڈائریکٹرکے ترمیمی رولز کے تحت ایم ڈی کی تعیناتی و برخاستگی، قواعد و ضوابط و شرائط اور تنخواہ کے امور طے کرنے کا مجاز ہوگاصوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی رولز2017ءکی منظوری دیدی جس کے تحت قریبی خونی رشتہ دار عطیات دینے، ٹرانسپلانٹ سرجن و فزیشن کی خدمات حاصل کرنے، غیر خونی رشتوں سے عطیات حاصل کرنے، فوت شدہ افراد کے دماغی اعضاءکی ٹرانسپلانٹیشن، ان کے اعضاءوغیرہ کو محفوظ کرنے، تسلیم شدہ اداروں کی رجسٹریشن، تجدید، ذمہ داریوں کے تعین، ڈونرز کے ریکارڈ و تصدیق کا اختیار محکمے کو حاصل ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹرانسپلانٹیشن کیلئے مطلوبہ سہولیات صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں میسر ہوں گی خیبر پختونخوا پاور کرشر ،تنصیب،آپریشن و رجسٹریشن ترمیمی رولز2017 ءصوبائی کابینہ نے غور و خوض کیلئے پیش کیا گیااس ترمیمی بل کا مقصدپاور کرشر کو قومی ماحولیاتی کوالٹی سٹینڈرڈ کا پابند بنانا تاکہ کرشنگ کے مضر اثرات سے آبادی کو محفوظ بنایا جا سکے اور ماحول دوست فضاءیقینی بنائی جا سکے۔اس سلسلے میں دیہی علاقوں میں ایسے یونٹس آبادی سے 300 یا 500میٹر دور رکھنے اورشہری علاقوں میں ایک کلو میٹر فاصلہ تک رکھنے کی تجویزدی گئی وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں کابینہ کی ایک سب کمیٹی تشکیل دی تاکہ مجوزہ قوانین کا تفصیلی جائزہ لے اور عوامی مفاد میں پالیس وضع کرے سب کمیٹی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی کابینہ نے خیبر پختونخوا رولز آف بزنس میں ترمیم کی منطوری دیدی واضح رہے کہ وزیراعلیٰ نے صوبے میں پراونشل پلاننگ سروس(پی پی ایس) کیڈر کی منظوری دی تھی اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔تاہم نئے کیڈر کی پوسٹنگ ٹرانسفرز، بھرتیوں،ٹریننگ، تنخواہ اور الاﺅنسزکیلئے طریقہ کار وضع کرنے اور عمل درآمد کیلئے رولز آف بزنس میں ترمیم ضروری تھی جس کی کابینہ نے آج منظوری دیدی۔ لوگل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے ترمیمی ایکٹ کی منظوری دی صوبائی کابینہ نے لوگل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے ترمیمی ایکٹ کی منظوری دی تاکہ ضلع کوہستان اور لوئر کوہستان جہاں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے تھے ۔ان علاقوں کی پسماندگی کومدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کیلئے طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔اس ترمیم کی منظوری کے بعدڈپٹی کمشنراور ضلعی انتظامیہ فنڈز کے استعمال کی مجاز ہوگی تاکہ مذکورہ علاقوں کی تیز تر ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔