حقوق اطفال سے متعلق اسلام کا بیانیہ دنیا میں عام کیا جائے‘ بیرسٹر ظفر اﷲ

18 اگست 2017

اسلام آباد (نامہ نگار) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ”اسلام میں اطفال کے حقوق“ کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پزیر ہو گئی جس میں دنیا بھر سے ججز، صحافی، وکلاء، مذہبی سکالرز اور قانون دانوں سمیت دیگر اہم شخصیات نے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا او ر30 سے زائد مقالات پیش کرتے ہوئے مستقبل میں بچوں کے حقوق بارے پالیسیوں اور جامع حکمت عملی کے حوالے سے سفارشات مرتب کیں۔کانفرنس کا انعقاد شریعہ اکیڈمی اور یونیسف کے اشتراک سے کیا گیا جس کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی بیرسٹر ظفراللہ خان تھے جبکہ ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے تقریب کی صدارت کی، اس موقع پر صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش،یونیسف پاکستان کی چائلڈ پروٹیکشن چیف بیرسٹر سارہ کول مین ، نائب صدر جامعہ ڈاکٹر محمد منیر اور یونیورسٹی کے اساتذہ و طلباءکی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ قانون سازی میں شعبہ درس و تدریس کا کردار کلیدی ہے اور جامعات اس ضمن میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق جبکہ خصوصاً بچوں کے حقوق سے متعلق اسلام کا بیانیہ پوری دنیا میں عام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے حقوق کی واضح تعلیم اور قوانین دراصل مسلمانوں کی میراث ہے ۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ کانفرنس ایک انتہائی اہم سرگرمی تھی جس کی سفارشات کو متعلقہ وزارتوں اور پارلیمان تک پہنچانا ضروری ہے ۔ اختتامی تقریب سے یونیسف پاکستان کی چائلڈ پروٹیکشن چیف بیرسٹر سارہ کول مین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشروں میں اسلام کے وضع کردہ قوانین کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جانا چاہیے اور اس بات کو بھی عام کیا جانا چاہیے کہ اسلام ہزاروں سال قبل ہی انسانی حقوق کا تعین کر چکا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشروں میں حالات کے مطابقت رکھنے والا متوازن تعلیمی نصاب ہی ترتیب دیا جانا چاہیے جس میں بچوں کے حقوق کو خصوصی جگہ دی گئی ہو۔ ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیماریوں سے بچاو بچوں کا اولین اور بنیادی حق ہے اور اس کے خلاف کام کرنے والے منفی عناصر جو معاشرے میں اس حوالے سے غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں ان سے بالکل اسی طرح آہنی ہاتھوں سے نمٹاجانا چاہیے جیسا کہ حالیہ حکومت نمٹ رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کی سفارش کی کہ صدر و نائب صدر جامعہ دونوں یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کو انسانی حقوق سے متعلق ایک مرکز کی تشکیل کی تجویز پیش کریں جس میں بچوں کے حقوق کا ذیلی مرکز بھی قائم کیا جائے۔کانفرنس سے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے انتہائی تفصیل کے ساتھ بچوں کے حقوق کا ذکر کیا ہے اور ان کی زندگیوں کے حوالے سے لائحہ عمل وضع کیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام بچوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دیتا ہے اور ان کے رہن سہن سے لے کر تعلیم تربیت تک کے واضح احکامات بھی جاری کرتاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عصر حاضر کے مسائل کو مدنظر رکھ کر تحقیق کو فروغ دیں اور بچوں کے حقوق جیسے اہم موضوعات پر جامع اسلامی تعلیمات کو منظر عام پر لائیں۔ صدر جامعہ نے کانفرنس کے انعقاد پر شریعہ اکیڈمی کو مبارکباد دی ۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں میں مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی اور مذکورہ موضوع کے حوالے سے جامع سفارشات پیش کیں۔