امریکہ کا حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا مایوس کن ہے : پاکستان

18 اگست 2017

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا مایوس کن اقدام ہے کیونکہ کشمیریوں کی تحریک برائے حق خودارادیت تو گزشتہ ستر برسوں سے جاری ہے۔ یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے بھارت کی طرف سے واہگہ پر پاکستان کے چار سو فٹ بلند پرچم کی تنصیب پر اعتراضات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ترجمان نے پاکستان‘ بھارت تعلقات کے حوالہ سے ایک جیسے سوالات کے جواب میں کہا کہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ، دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور پائیدار قیام امن کیلئے اس مسئلہ کا پُرامن حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد ہر اعتبار سے جائز ہے۔ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا بیجا استعمال کیا اور اب بھی کر رہا ہے۔ بھارتی فوج نہ صرف کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے بلکہ کشمیری نوجوانوں کی بینائی بھی چھین رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک، آسیہ اندرابی مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور دیگر راہنمائوں کو دوران حراست جان کا خطرہ لاحق ہے۔ انہیں جان بچانے والی ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں جب کہ شبیر احمد شاہ کو بدنام تہاڑ جیل میں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور انہیں خطرناک لوگوں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔گزشتہ پانچ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں چھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ حریت قیادت کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ چند روز پہلے کابل میں پاکستان‘ افغان مذاکرات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ تہمینہ جنجوعہ جب خارجہ سیکرٹری بنیں تب افغان حکومت نے انہیں دورہ کابل کی دعوت دی تھی۔ اس دورہ میں سیاسی و سفارتی تعلقات، عوامی رابطوں، افغان مہاجرین کی واپسی، تجارت اور دیگر پاک افغان امور پر دورے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان نے مل کر دہشت گردی کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے پر اتفاق رائے پایا گیا۔ ایک سوال پر ترجمان نے بتایا کہ امریکہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بھارت کے اندر اقلیتوں کو آزادیاں نہ ہونے کا مفصل ذکر موجود ہے۔ امریکہ نے دہشت گردی کے سدباب کے باب میں پاکستان کی قربانیوں کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ کہا ہے وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سراہتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ چھ مختلف ورکنگ گروپ موجود ہیں جو مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے حالیہ سانحہ میں میں بھارت کے ملوث ہونے کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہے۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے را کے جاسوس کل بھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں بھارت کے بلوچستان لبریشن آرمی سے روابط کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ بھارت نے پاک چین معاشی راہداری کی مخالفت کی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے زریعے تخریبی کاروائیوں، دہشت گردوں کی مالی امداد اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی ہندو دہشتگرد تنظیمیں بھارتی اقلیتوں کے علاوہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال میں مغوی لیفٹننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کے بھارت چلے جانے کے شواہد ملے تھے۔ بھارت کی جانب سے ان کی بازیابی کے حوالے سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق نفیس زکریا نے کہا پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے جس کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا ہو گا۔ واضح رہے گزشتہ روز امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کو بھارت کے قبضے کے خلاف حالیہ احتجاج پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا، اس سے قبل امریکی حکومت حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو بھی 'عالمی دہشت گرد' قرار دے چکی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندو دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ بھارت، افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت نے پاک‘چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی کھل کر مخالفت کی، مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ڈوزیئر جمع کرا دیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ