مقبوضہ کشمیر میں آپریشن ، مزید2 نوجوان شہید ، مظالم کیخلاف مظاہرے ، ہڑتال

18 اگست 2017

سرینگر (آن لائن+نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی شہادت کیخلاف زبردست مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال کی گئی۔ نوجوان ایوب کو گزشتہ روز پلوامہ میں شہید کیا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر کے قصبے ترال میں قابض فوج نے گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپ کے بعد علاقے میں گشت کاعمل تیز کر دیا ہے۔ اس دوران کئی مقامات پرچھاپے بھی مارے گئے اور نہر کھاسی پورہ،پانزو،امیر آباد،وغیرہ سمیت متعدددیہات کا محاصرہ کیا گیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ راجوری کے علاقے کیری میں حد متارکہ کے قریب ایک فوجی پراسرار حالات میںلا پتہ ہو گیا جو وہاں فوجی یونٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ دوسری جانب ضلع سانبا میں جموں پٹھانکوٹ شاہراہ پرمسافربس الٹنے سے تین طالب علموں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے۔اس دوران ریاستی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر دیویندر کمار منیال حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے اہلخانہ سے تعزیت کیلئے جارہے تھے کہ شمشان گھاٹ کے قریب مشتعل افراد نے ان کے قافلے پرپتھراؤشروع کردیا جس کے نتیجے میں ایم ایل اے زخمی ہو گئے جبکہ ان کے زیراستعمال سرکاری گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ محافظوں نے دیویندر کمار منیال کو ہجوم کے نرغے سے نکا لا اور ایمرجنسی ہسپتال سانبہ میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں جے ایم سی منتقل کر دیا گیا ۔سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ اور بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس کے قائم مقام صدر عمر عبداللہ کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حریت رہنمائوں کو آرٹیکل 35-اے کے معاملے پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 35A میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا اسے ختم کئے جانے کا اقدام کشمیریوں کے لئے انتہائی فکر مندی کا باعث ہے کیونکہ اس سے جموںوکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو سخت نقصان پہنچنے کا شدید احتمال ہے۔
کشمیر