پیپلزپارٹی کی برہمی بجا۔ رابطے اور ڈائیلاگ جاری رہنے چاہئیں

18 اگست 2017

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف اقتدار میں آکر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں کبھی رابطہ نہیں کیا، پانی اب سر سے گزر گیا ہے اس لئے اب میاں صاحب سے رابطے کی کوئی گنجائش نہیں۔ آصف علی زرادری چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ہمرا ہ ’’بلاول ہائوس لاہور‘‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں سب کو پتہ ہے نواز شریف معصوم نہیں ہیں۔ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں، نواز شریف اور انکے خاندان کا ساتھ نہیں دینگے۔
عمرا ن خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت لرزہ براندام تھی۔ اس موقع پر آصف زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو گرنے نہیںدیا۔ یہ وہ دور تھا جب آصف زرداری رائیونڈ گئے تو وہاں جشن کا سماں تھا۔ زرداری صاحب کی بھرپور پذیرائی کی گئی مگر مسلم لیگ ن کی حکومت خطرات سے باہر نکل گئی تو پیپلزپارٹی سے میاں صاحب نے رابطوں کی ضرورت محسوس نہ کی۔ پیپلزپارٹی کے جمہوریت کے تحفظ کیلئے ساتھ دینے کے اقدامات اور روئیے کو یکسر فراموش کر دیا گیا۔ بہت سے مراحل ایسے بھی آئے جب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کے مدمقابل نظر آئیں بعض معاملات میں پیپلزپارٹی بے جا توقعات لگاکر ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کی رہائی کے مطالبات منوانا چاہتی تھی جس پر مسلم لیگ ن کا موقف اصولوں پر ضرور تھا مگر اختلافات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں جانا چاہئے تھا۔ پی پی اور ن لیگ کے مابین رابطے رہتے تو آج جو کشیدگی نظر آ رہی ہے وہ اس انتہا پرنہ ہوتی۔ آج میاں نواز شریف اور انکی پارٹی میثاق جمہوریت کی بات کرتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی ن لیگ کی بات سننے پر ہی آمادہ نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کی گزشتہ چار سال کے مسلم لیگ کے رویوں کو دیکھتے ہوئے اور رابطوں کے فقدان کے باعث برہمی بجا ہے مگر جمہوریت کی شاخ پر دونوں پارٹیوں کا بسیرا ہے۔ یہ شاخ کٹنی نہیں چاہئے۔ گو میاں نوازشریف کی نااہلیت کے فیصلے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میاں صاحب گھر بیٹھے ہیں اور مرکز، پنجاب، بلوچستان میں انکی پارٹی کی حکومت ہے اور معاملات خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کو بہرصورت اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے‘ آج چودھری نثار بھی گلہ کر رہے ہیں کہ فیصلے لاہور میں کرنے تھے تو اجلاس کیوں بلایا تھا ‘وہیں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے سیاستدانوں کے درمیان رابطوں اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہنا چائیے۔ پیپلزپارٹی بھی میثاق جمہوریت پر عمل سے راہ فرار اختیار نہ کرے۔ اسی ایک دستاویز کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری اور مسلم لیگ ن بھی پوری کر تی نظر آ رہی ہے۔