ہم اپنی سفارتی فعالیت سے ہی کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشتگردی قرار دلانے کی بھارتی سازشیں ناکام بناسکتے ہیں

18 اگست 2017

امریکہ کی جانب سے حریت لیڈر صلاح الدین کے بعد کشمیریوں کی نمائندہ حزب المجاہدین پر بھی دہشتگردی کا لیبل
امریکہ نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کیلئے لڑنے والی تنظیم حزب المجاہدین کو بھارت کے قبضہ کیخلاف حالیہ احتجاج پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ امریکی حکومت حزب المجاہدین کے سربراہ کمانڈر سید صلاح الدین کو پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکی ہے تاہم وہ تاحال مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ انکی تنظیم کو کشمیری عوام کی بڑی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے امریکی شہریوں اور رہائشیوں پر حزب المجاہدین سے کسی قسم کا رابطہ رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیہ کے مطابق حزب المجاہدین کے امریکی بنکوں میں موجود اکائونٹس بھی منجمد کر دیئے جائینگے۔ گزشتہ سال بھارتی فوجوں کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہونیوالے نوجوان کشمیری لیڈر برہان وانی بھی تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر تھے۔ سید صلاح الدین نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق امریکی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی وزیراعظم مودی کی محض خوشدلی کی خاطر حزب المجاہدین پر پابندی عائد کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تو امریکی صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ہی ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے جاری کئے گئے اپنے انتخابی منشور میں بھارت کی مودی سرکار کے ساتھ اٹوٹ دوستی کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسکے برعکس وہ بھارتی الزامات پر تکیہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان پر خوب گرجتے برستے رہے۔ اپنی ان یکطرفہ متعصبانہ تقاریر اور صدر منتخب ہونے کی صورت میں ظاہر کئے جانیوالے عزائم کے باعث ہی وہ مسلم کمیونٹی میں نفرت کی علامت بنے جبکہ بھارت کے ہندو انتہا پسند انکی کامیابی کے منتظر نظر آئے۔ اسی پس منظر میں جب ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر امریکہ سمیت دنیا بھر میں ان کیخلاف پرتشدد مظاہرے جاری تھے تو بھارت میں انکے صدر منتخب ہونے پر جشن منایا جارہا تھا۔ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی جن حکومتی ترجیحات کا تعین کیا وہ مسلم کمیونٹی کیخلاف ٹرمپ‘ مودی گٹھ جوڑ کی عکاس نظر آئیں چنانچہ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کو بھارت کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کی بنیاد پر ہی واشنگٹن انتظامیہ کی ڈکٹیشن ملنا شروع ہوگئی اور بطور خاص اسے باور کرایا جانے لگا کہ وہ اپنی سرزمین بھارت اور افغانستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ اسی تناظر میں پاکستان کو دبائو میں رکھنے کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو دی گئی گرانٹ قرضے میں تبدیل کی گئی‘ پھر اس گرانٹ میں کٹوتی کی گئی اور پھر یہ گرانٹ بند کرنے کا عندیہ دے دیا گیا اور امریکی کانگرس میں پاکستان کا فرنٹ لائن اتحادی والا سٹیٹس ختم کرنے کی قرارداد بھی پیش کردی گئی۔
بھارت کیلئے ایسی ہی خوشگوار فضا میں نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو پاکستان دشمنی پر مبنی انکی تمام خواہشات پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لبیک کہا گیا اور اسکے ساتھ اسلحہ سازی اور ایٹمی دفاعی تعاون کے مزید معاہدے کرکے بھارت ہاتھوں پاکستان کی سلامتی کیلئے مزید خطرات پیدا کردیئے گئے۔ بھارتی سفاک فوجوں کے سامنے گزشتہ سات دہائیوں سے سینہ سپر کشمیری عوام کی حریت تنظیموں پر دہشت گرد ہونے کا عالمی لیبل لگوانا بھارت کی دیرینہ خواہش رہی ہے جس کے ذریعے بھارت درحقیقت کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈلوانا چاہتا ہے اور اسی تناظر میں وہ پاکستان پر بھی دراندازی اور کشمیری حریت تنظیموں کی معاونت کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے۔ بھارت کی کانگرس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی جس کے تحت اسکے دور میں کشمیری حریت تنظیم جیش محمد پر اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی پابندی لگوائی گئی اور اسکے سربراہ اظہر مسعود کو گردن زدنی ٹھہرانے میں بھارت کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا تاہم چین نے پاکستان کے ساتھ حق دوستی ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اظہر مسعود پر پابندی کی قرارداد ویٹو کردی جبکہ بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرانے کیلئے عالمی برادری اور عالمی اداروں میں اپنی لابنگ بڑھا دی اور سارے سفارتی محاذ کھول کر پاکستان کو بھی دہشت گردوں کے تحفظ کے الزامات میں اپنے ہدف پر رکھ لیا۔
ہمارا یہ المیہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دیرینہ‘ ٹھوس اور اصولی موقف رکھنے کے باوجود ہمارے دفتر خارجہ نے بھارتی زہرافشانی کے توڑ کیلئے سفارتی محاذ پر کبھی اپنے سفارتکاروں کو فعال کردار کیلئے اتنا متحرک نہیں کیا جتنی بھارتی زہریلے پراپیگنڈے کے اثرات زائل کرنے کیلئے متحرک کردار کی ضرورت ہوتی ہے‘ نتیجتاً اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورموں پر دہشت گردی کے حوالے سے ہم پر ملبہ ڈالنے والی بھارتی سفارتی کوششیں بارآور ہوتی نظر آتی ہیں اور امریکہ کے ڈومور کے تقاضوں میں بھی بھارتی متحرک لابی کے زیراثر ہی شدت پیدا ہوتی ہے۔ صرف چین وہ واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورموں پر بھارتی زہریلے پراپیگنڈے کیخلاف ہمارا دم بھرتا نظر آتا ہے جو اسکی ہمارے ساتھ بے لوث دوستی کا بین ثبوت ہے جبکہ ہم مسلم انتہاء پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے چین کے تحفظات پر اسے بھی مطمئن کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ہماری ایسی ’’نیمِ دروں‘ نیمِ بروں‘‘ پالیسیوں کے نتیجہ میں کل کو شہد سے میٹھی‘ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی رکھنے والا ہمارا یہ بے لوث دوست چین بھی ہم سے بدظن ہوگیا تو پھر ہمیں دنیا میں تنہاء کرنے کی سازشوں میں ہمہ وقت مصروف بھارت کی زبان اور عزائم بھلا کون روک پائے گا۔
امریکہ کی موجودہ ٹرمپ انتظامیہ تو بھارت کیلئے نعمت غیرمترقبہ بن چکی ہے جو مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کیخلاف ہندو جنونیت کو بڑھانے کیلئے اسے باقاعدہ تھپکی دیتی نظر آتی ہے۔ اس بنیاد پر تو آج ہمیں اپنی قومی خارجہ پالیسی کو مزید مربوط بنانے اور بھارتی سازشوں کے مؤثر توڑ کیلئے اپنے سفارتی محاذ کو فعال و متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کی مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی میں بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کے متحرک کردار سے اس وقت جتنی زچ ہو رہی ہے‘ اسکی جانب سے کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے کوئی بھی ہتھکنڈہ اختیار کرنا بعیدازقیاس نہیں جبکہ وہ پاکستان کیخلاف دراندازی کے الزامات میں بھی کشمیریوں کیلئے اسکی حمایت رکوانے کی سازش کے تحت شدت پیدا کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کے ایماء پر ہی امریکہ نے کشمیری حریت لیڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قراردیا تھا جبکہ بھارت کے ایماء پر ہی امریکہ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کیخلاف کارروائی کیلئے بھی پاکستان پر دبائو بڑھا رہا ہے جو گزشتہ چھ ماہ سے گھر پر نظربند ہیں اور انکی فلاحی تنظیم کے اکائونٹس بھی منجمد کئے جاچکے ہیں۔ یہ ہماری سفارتی محاذ پر غیرفعالیت کا ہی شاخسانہ ہے کہ بھارت سید صلاح الدین کے بعد انکی حریت تنظیم حزب المجاہدین پر بھی امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم ہونے کا لیبل لگوانے میں کامیاب ہو گیا ہے جس کے بعد ہمارے لئے کشمیری مجاہدین کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے اپنے اصولی موقف کا دفاع کرنا بھی مشکل ہو جائیگا جبکہ بھارت اپنی سفارتی فعالیت کی بنیاد پر اقوام عالم میں ہمارے بارے میں دہشت گردوں کے سہولت کار تاثر قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔
ہمارے لئے اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال اور کیا ہوگی کہ ہم بھارت کیخلاف پاکستان میں دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر دیں تو بھی دنیا ہمارا موقف تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی جبکہ بھارت کے ہم پر دراندازی کے بے سروپا الزامات کی بھی عالمی فورموں پر پذیرائی ہوجاتی ہے۔ آج ایسے ہی بھارتی زہریلے پراپیگنڈے کی بنیاد پر امریکہ نے کشمیری حریت تنظیم حزب المجاہدین پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگایا ہے تو یہ صورتحال بطور خاص ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں بہرصورت اب ایسی مربوط قومی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈلوانے کی بھارتی سازشوں کا مؤثر توڑ کر سکیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر محض افسوس اور مایوسی کا اظہار ہی تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہمارے موقف کو تقویت نہیں پہنچا سکتا‘ آج ہمیں بہرصورت اپنے سفارتی محاذ کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ میں عالمی فورموں پر پاکستان کو تنہاء کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہوسکے۔