انتخابی اصلاحات بل قومی اسمبلی میں پیش ، اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظوری کا امکان

18 اگست 2017

اسلام آباد(خبر نگار) وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات کے بل2017ءکو منظور ی کے لئے پےش کےا لےکن پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے بل کی مخالفت کی اوراس پر مزید غورکرنے کے لئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا جس کو حکومت نے وقتی طور پر مسترد کر دیا تاہم آج بروز جمعہ اسے دوبارہ پےش کےاجاے  گا اور امکان ہے کہ اس کی منظور ی بھی آج ہی ہوگی۔ جمعرات کے روز وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے انتخابی اصلاحات 2017ءکو قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ جس پر بحث کرتے ہوئے پی پی کی ممبر اسمبلی شگفتہ جمانی نے کہا کہ یہ بل کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت ٹیبل کیا گیا جب اجلاس شروع ہونے والا تھا۔ بل ایک دن پہلے دیا جانا چاہئیے تھا تاکہ ہم اسے پڑھ لیتے بل کے کلوز6کو ری وزٹ کیا جائے اور بل کو دوبارہ کمیٹی میں پیش کیا جائے ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ ای بل میں مزید ترمیم کی ضرورت ہے اور بل کو کمیٹی میں بھجوا کر غور کیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا کہ جب یہ بل کمیٹی میں پیش کیا گیا تو کہا گیا تھا کہ بل میں ترامیم لائی جائیں گی لیکن دوبارہ بل لایا ہی نہیں گیا۔ شیریں مزری نے کہا کہ فی الفور بل سے کلاز 6کو ختم کیا جائے کلاز6کی وجہ سے یہ بل بے معنی ہے۔ اور اس پر نظر ثانی کی جائے بل پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا کہ جب بل کمیٹی سے پاس ہوا تو تمام متعلقہ ممبران کو بل کی کاپیاں تقسیم کی گئی تھیں اور بل پر آج تک کوئی بھی ترمیم نہیں لائی گئی اور نہ کمیٹی میں اور نہ ہی آج کوئی ترمیم لائی گئی۔ اگر کوئی ترمیم لائی جاتی تو اس کوشامل کر لیا جاتا۔ قومی اسمبلی میں بتایا گیا ہے نیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ اسلام آباد رواں سال کے آخر تک آپریشنل ہو جائے گا۔ نئے ائر پورٹ پر بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے جہاں سالانہ 9ملین افراد سے نمٹنے کی صلاحیت موجود رکھی گئی ہے۔ رکن اسمبلی خالدہ منصور کے پوچھے گئے سوال پر وزیر انچارج شیخ آفتاب نے بتایا کہ نیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا افتتاح 14اگست کی بجائےر واں برس کے آخر تک کیا جائیگا۔ بین الاقوامی معیار کے اس ایئر پورٹ پر تمام ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔ کچھ اقدامات کے لئے مزید زمین اکوائر کی گئی ہے۔ وزیر انچارج کا کہنا تھا کہ نیو ایئر پورٹ پر پانی کی کمی کا مستقل حل نکال لیا گیا ہے جبکہ متبادل راستے نہ ہونے کی بات بھی پرانی ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت نے نیو ایئر پورٹ تک عام شہریوں کی رسائی بنانے کے لئے میٹرو منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ جو کہ تکمیل کے آخری مرال میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیو ایئر پورٹ پر فراہم کردہ سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطباق ہیں نئے ایئر پورٹ پر 319, 320, 321,330,340,380,737, 747,757,767,777اور787ا ائر بسز اور بوٹنگ کی لینڈنگ پارکنگ اور آپریشن کی بین الاقوامی سہولیات موجود ہیں۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پمز میں حاضری کو یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک مشینوں کی تنصیب آئندہ 2 ہفتوں میں یقینی بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری کیڈ مائزہ حمید نے پمز میں ملازمین کی حاضریوں کو یقینی بنانے کے لئے پوچھے گئے سوال کے رد عمل میں بتایا کہ ہسپتال کے لئے 90کیمرے، 15بائیو میٹرک اور سکیورٹی کو فعال بنانے کے لئے 10واک تھرو گیٹ خرید کر لئے گئے ہیں۔ اگلے 2ہفتوں میں ہسپتال میں بائیو میٹرک، سی سی ٹی وی اور واک تھرو گیٹ نصب کر لئے جائیں گے۔ ایوان کو دیئے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پمز میں بائیومیٹرک حاضری ، سی سی ٹی وی آئی پی کیمروں کی تنصیب کا ٹینڈر 25مئی2017ءکو ایم ایس ڈیجیٹل نامی کمپنی کو دیا گیا ۔ ایم ایس ڈیجیٹل نے 5جون 2017ءتک 90سی سی ٹی وی کیمرے15بائیو میٹرک مشینیںاور10واک تھرو گیٹ خرید کر ایچ ایم آئی ایس میں جمع کرا دیئے ہیں جنیہں آئندہ2ہفتوں میں آپریشنل کر دیا جائے گا۔ رکن اسمبلی نسیم حفیظ کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر آفتاب شیخ نے بتایا کہ کوئٹہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا توسیعی منصوبہ40فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ فلائٹ آپریشن معطل کئے بنا تسلسل سے تعمیری کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ فیز ون میں اندرون ملک آپریشن سے متعلقہ ضروری کام مکمل کیا گیا ہے۔ فیز ٹو میں بین الاقوامی ٹرمینل پر کام ہونا باقی ہے۔ سوات ایئر پورٹ کو آپریشنل کئے جانے بابت پوچھے گئے ضمنی سوال پر وزیر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ایک کمرشل ادارہ ہے۔ جو اپنے بزنس کی ترویج کے لئے ہر ممکن آپریشن یقینی بناتا ہے۔ سوات میں مسافروں کی کمی کے سبب پی ائی اے اج تک اپریشن شروع نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سوات کے علاوہ میرپور آزاد کشمیر کے زیادہ لوگ آباد ہی جبکہ میر پور میں بھی آج تک ایئر پورٹ کی سہولت موجود ہے۔ سپیکر نے 2سپلمنٹری سوالوں کے بعد اپوزیشن اراکین کو مزید سوالات کی اجازت نہیں دی۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت سے پولن الرجی کا خاتمہ 2020تک یقینی ہے۔ رکن اسمبلی مشیر اکبر خان کی طرف سے وفاقی دارالحکومت کے رہائشی علاقوں میں جنگلی شہتوت کی بھر مار اور الرجی میں اضافے بابت پوچھے گئے سوال کے جواب میں مائزہ حمید نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے رہائشی علاقوں سے جنگلی شہتوت کے خاتمے کے لئے آئی سی ٹی اور سی ڈی اے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے آگاہی پروگرام شروع کیا گیا جو کہ جون2017ء میں شروع ہوا۔ سال2020ءمیں وفاقی دارالحکومت سے پولن کا خاتمہ ممکن ہو جائیگا۔ پارلیمنٹری سیکرٹری کیڈ مائزہ حمید نے بتایا کہ جنگلی شہتوت کے ختم کئے گئے درختوں کی تعداد کا علم نہ ہے۔ تاہم نکالے گئے درختوں کی جگہ کچنار ،، سئس، بڑھ پائن اور جامن کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ شیخ رشید احمد کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مائزہ حمید کا کہنا تھا کہ توت اور شہتوت کے درخت کے درمیان موجود فرق بابت نیا سوال کیا جائے تو تفصیلی جواب دیا جاسکتا ہے ۔ مائزہ حمید نے بتایا کہ پولن سے بچا¶ کے لئے آگاہی کے لئے متعدد کیمپ لگائے جا رہے ہیں ۔ سپیکر اسمبلی نے پارلیمانی سیکرٹری کی طرف سے سپلمنٹری سوالات کے مبہم جواب دینے پر انہیں تیاری کر کے اراکین کو جواب دینے کی ہدایت کی۔ ایوان زیریں میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی نے گزشتہ2سال کے دوران 3فارمیسی کے کل111اسکالرشپس دی ہیں ۔ رکن اسمبلی وسیم اختر شیخ کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر درشن نے بتایا کہ گزشتہ1برس میں ایچ ای سی نے Dفارمیسی کے کل111سکالر شپس فراہم کی ہیں اس میں کسی ادارے سے طالب علم کے ساتھ امتیا زنہیں برتا جاتا۔ اوپن میرٹ کے ذریعے اہل امیدواروں کا چنا¶ کیا جات اہے۔ فراہم کردہ تحریری دستاویزات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے کامسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایبٹ آباد کے ڈی فارمیسی کے 2طلباءکو ملکی وظائف کے طور پر کل1.8ملین روپے ادا کئے گئے ہیں ملک بھر کے کسی بھی انفرادی ادارے کو وظائف دینے کے لئے کوئی مخصوص حکمت عملی نہیں ہے۔ ایچ ای سی پاکستان بھر سے طلباءکو غیر ملکی وظائف،پروگرام کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی ادارے کے رجسٹرڈ طلباءگیر ملکی وظائف کے لئے عام میرٹ پر درخواست دے سکتے ہیں۔قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت نے گزشتہ 4سالہ دور حکومت میں سکریپ جہازوں کی نیلامی کی مد میں 7کروڑ28لاکھ 70ہزار روپے حاصل کئے ہیں ۔ رکن اسمبلی خالدہ منصور کے سوال میں وزیر انچارج شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی موجود نہیں ہے کہ پی آئی اے خود سے نئے جہازوں کی خریداری کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سال2013-17ءتک کل6جہاز (سکریپ) کی مد میں فروخت کئے گئے ہیں۔ یہ تمام جہاز نیلام کرنے سے قبل گرا¶نڈ کیا جا چکا تھا۔ ان کے انجن اور قابل استعمال اشیاءنکال لی گئی ہیں جبکہ صرف ڈھانچہ نیلامی کے ذریعے فروخت کئے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے ریکارڈ کے مطابق سال2013ءمیں 28اگست کو بوئنگ747اے پی، بی ایف ڈبلیو کی فروخت 9095ملین میں کی گئی ہے۔ 29اکتوبر 2014ءکو بوئنگ 747اے پی بی ایف یو 13ملین روپے ، 29اکتوبر2015ءکو 4ایئر بسز کل26.9ملین روپے جبکہ 29دسمبر 2016ءکو دو ایئر بسز 14.5ملین روپے میں فروخت کئے گئے ہیں۔ ممبر قومی اسمبلی عائشہ سید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حلقے مالاکنڈ میں 18گھنٹوں سے بھی زائد لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور حلقے کو ان کے کوٹے سے 50فیصد بجلی مل رہی ہے ۔ اگر سسٹم اٹھا نہیں سکتا تو پھر اسے اپڈ گریٹ نے کرنا ہے ۔ جس پر وفاقی وزیر مملکت توانائی عابد شیر علی نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویشن میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر ریکوری40فیصد سے بھی کم ہے جبکہ کچھ علاقوں میں ریکوری ٹھیک ہے سسٹم اپگریڈ کرنے میں صوبائی حکومت کے کردار کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ نجی ٹی وی چینل کے رپورٹروں پر لیگی کارکنوں کے تشدد کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی نے انکوائری کرنے اور اس کی رپورٹ 7دنوں میں جمع کروانے کی سفارش کر دی۔ 9اگست کو ن لیگ کی ریلی میں بول اور اے آر وائی ٹی وی کے سحافیوں کو حراست میں لینے اور مارنے پر صحافیوں نے ایوان زیریں کے اجلاس میں پریس گیلری سے واک آ¶ٹ کیا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ یہ روایت غلط ہے کہ فیلڈ رپورٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے سیاسی مخالفت ہونا اچھی بات ہے لیکن ان پر تشدد کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور صحافیوں کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائیگی اور ایک انکوائری بھی کروائی جائیگی اور جو لوگ بھی اس میں ملوث ہونگے ان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گی۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ وزیراعظم کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت کل2198730درخت لگائے گئے ہیں۔ جن میں سے پنجاب میں 1051200، سندھ میں409300، کے پی میں 20200، بلوچستنا میں 232400، آزاد کشمیر میں 130500، گلگت بلتستان میں 86330 اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں 87000درخت لگائے گئے ہیں۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے گرین پاکستان پروگرام میں وفاق تمام صوبوں سے مل کر شجر کاری کے لئے اخراجات اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق مینگرو جنگلات، صنوبر اور چلغوزے ےک جنگلات کے تحفظ و اضافہ کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا ہے کہ اس وقت تک کا متفرق سرکاری و نیم سرکاری ادارے ریلوے کے 2186.309ملین روپے کے نادہندہ ہیں۔ ریلوے ملازمین کو ریلوے اراضی پر گھر بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین کے پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ریلوے اراضی کی زمین ریلوے ملازمین کے گھروں کے لئے نہیں ہے۔