ملک کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا‘ حکمرانوں نے روک دیا‘ ڈاکٹر قدیر

18 اگست 2017

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے زیراہتمام پاکستان کی آزادی کے 70 سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام مقامی ہوٹل میں گزشتہ شب کیا گیا تقریب کے مہمان خصوصی محسن پاکستان اورنامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ اس موقع پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے چیئرمین میاں عبدالمجید‘ طارق سعود‘ ڈاکٹر منصور ڈار اور ڈاکٹر ایم اکرم کھوکھر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے محسن پاکستان اورنامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ میں ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن حکمرانوں نے روک دیا جب کہ ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار بھٹو کے سر جاتا ہے جنہوں نے مجھ جیسے نوجوان پر بھروسہ کیا ہم نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت 1983ء میں ہی حاصل کرلی تھی اور اس وقت ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا لیکن افغان جنگ کے باعث جنرل ضیاء الحق نے اسے ملتوی کر دیا آج تک حکومت سے کوئی مراعات حاصل نہیں کی‘ کرپٹ سیاست دانوں اوربیوروکریٹس نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ جب ہندوستان نے 1973ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو میں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو خط لکھاکہ میں پاکستان آکر اپنے ملک کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں اور ان کے جواب کے بعد ہالینڈ سے پاکستان آیا انہوں نے مجھے کہاکہ ہمیں ہر صورت میں ایٹم بم بنانا ہے جس پر میں نے کہاکہ کوئی بات نہیں ہم ایٹم بم بنا دیں گے اور ہم نے جگہ منتخب کر کے ایٹمی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا پاکستان کی خاطر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے بچوں کے ہمراہ آیا تو دیکھا جو میں نے کام شروع کیا تھا وہ ا سی طرح پڑا ہوا ہے جس پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ جب ضیاء الحق نے مجھے کام سونپا تو چند سالوں میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا میں نے مکمل کرکے ضیاء الحق کی میز پررپورٹ رکھی اورکہاکہ آپ جب کہیں گے ایٹمی بم کا دھماکہ کردیں گے جس پر جنرل ضیاالحق بہت حیران ہوئے اور افغان وار کے پیش نظر ہمارا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا لیکن جب بھارت نے1998ء میں دوبارہ ایٹمی دھماکہ کیا تو ہم نے بھی اعلان کردیا کہ ہم بھی اپنے ایٹمی دھماکہ کریں گے۔ پوری دنیا میں ہلچل پیدا ہوگی اورامریکہ یورپ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک ہمیں ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر زور ہی نہیں بلکہ دھمکیاں بھی ملنے لگی اور ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا لیکن ہمیں پاکستانی عوام کا بہت پریشر تھا ہم اسی شش وپنج میں مبتلا تھے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے لیکن سب نے اتفاق کیا پاکستان کو بچانا ہے تو دھماکہ کرنا ہی پڑے گا ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے 28 مئی 1998ء میں دھماکہ کردیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم ایٹمی قوت بننے کے باوجود اس سے استفادہ نہیں کرپائے اگر اس وقت میری تجاویز کو مان لیا ہوتا تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتاحکومت نے میری صلاحیتوں کوضائع کردیا حالانکہ میں ایٹم بم بنانے میں اپنی 15 فیصد صلاحیتیں استعمال ک رسکا ہوں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ بہت جلد لاہور میں 700بستروں پر مشتمل ہسپتال مکمل ہو جائیگا جہاں ہر غریب و امیرکا مفت علاج ہو گا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے چیرئمین میاں عبدالمجید نے کہا کہ قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کا تحفظ وقت کا اہم ترین تقاضا اور ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے کیلئے بانی پاکستان کے فرمان اتحاد‘ تنظیم اور یقین محکم پر دل و جان سے عمل کرنا ہو گا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...