بنک ڈکیتی پر سیکورٹی عملے اور منیجر کیخلاف ایف آئی آر درج ہو گی

18 اگست 2017

کراچی (کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال کی زیر صدارت بنک ڈکیتیوں کی وارداتوں کے روک تھام کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنے کیلئے اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ہوم سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور شہر کے تمام ڈی آئی جیز‘ بنک نمائندگان‘ سی پی ایل سی اور آل پاکستان سیکورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہاکہ گزشتہ کئی دنوں سے متواتر ہونے والی بنک ڈکیتیوں پر ان کو سخت تشویش ہے اور اس ہی حوالے سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور پولیس افسران کا اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔ وزیر داخلہ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بنک نمائندے کا کہنا تھا کہ مرکزی بنک کی جانب سے تمام کمرشل اور پرایئوٹ بنکوں کا سیکورٹی آڈٹ باقاعدگی سے کیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ تمام بنکوں میں سیکورٹی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہاکہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کئے گئے حفاظتی اقدامات کا تمام بنک اہتمام کریں بصورت دیگر ڈکیتی ہونے کی صورت میں بنک منیجر اور سیکورٹی کمپنی کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیاجائے گا۔ وزیر داخلہ نے بنکوں پر تعینات محافظوں کی ٹریننگ کے حوالے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ حکومت سندھ تو اپنے پولیس افسران کو بنکوں کو محفوظ بنانے کے لئے سخت ہدایات جاری کر رہی ہے مگر بنک مالکان اور سیکورٹی کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے مرتب کئے گئے حکم نامے کی تعمیل کی جائے۔
بنک ڈکیتی/ ایف آئی آر