سپین میں دہشتگردی ، 13افراد ہلاک 50زخمی، ایک ہوٹل میں متعدد افراد کو یرغمال بنالیا گیا

18 اگست 2017

بارسلونا(مانیٹرنگ ڈیسک)اسپین کے شہر بارسلونا میں دہشت گردوں نے سٹی سینٹر کے نزدیک راہ گیروں پر وین چڑھا دی، واقعے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے،پولیس نے واقعے کودہشت گردی قرار دے دیا۔پولیس کے مطابق سٹی سینٹر کے قریب ایک سفید وین لوگوں پر چڑھ دوڑی، غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق دو دہشت گرد ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوگئے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب کرلی گئی ہے۔پولیس کے مطابق 2دہشت گردوں نےلاس ریمبلاس میں واقع ریسٹورنٹ میں متعدد افراد کو یرغمال بنالیا ۔واقعے کے بعد سٹی سینٹر کے قریب میٹرو اور ٹرین اسٹیشن بند کردیے گئے ہیں اور لوگوں کو واقعے کی جگہ سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعے میں 50افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایک دہشتگرد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بارسیلونا کی 20 سالہ رہائشی مارک ایسپرشیا نے بی بی سی کو بتایا: 'ایک زور دار آواز تھی اور ہر کوئی حفاظت کے لیے بھاگا۔ وہاں بہت سے لوگ تھے، بہت سے خاندان، یہ بارسیلونا کی سب سے زیادہ مشہور جگہ ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں بہت سارے افراد ٹکرائے ہیں۔ یہ خوفناک تھا، وہ خوف کی صورتحال تھی، خوفناک۔'تاحال اس واقعے کی تفصیلات واضح نہیں ہیں تاہم یورپ میں اس سے قبل گذشتہ سال جولائی سے شدت پسندوں کی جانب سے ہجوم سے گاڑیاں ٹکرانے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک اور عینی شاہد عامر انور نے بتایا کہ وہ لارمبلاس کی جانب جا رہے تھے جو کہ سیاحوں سے ’بھرا ہوا تھا‘۔انھوں نے بتایا کہ ’اچانک میں نے گاڑی ٹکرانے کی آواز سنی، اور اس جگہ پر موجود ہر کوئی چیختے چلاتے بھاگنے لگا۔ میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو کہ اپنے بچوں کو پکار رہی تھیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...