نواز شریف ، حسین، حسن آج نیب میں پیش نہیں ہونگے

18 اگست 2017

اسلام آباد+لاہور (نامہ نگار+نمائندہ نوائے وقت+ آن لائن) پانامہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹے حسین نواز اور حسن کو آج نیب میں طلب کر رکھا ہے۔ نیب نے عزیزیہ ملز اور دیگر معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو بھی طلب کر رکھا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما آصف کرمانی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد آج نیب میں پیش نہیں ہو گا۔ دوسری جانب نیب نے شریف خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق سعودی عرب کی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ نیب نے خط میں لکھا ہے کہ شریف خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات دی جائیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے سعودی حکومت سے عزیزیہ مل کی خریداری کیلئے ادائیگی کے ذرائع کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے خط میں لکھا ہے 30 اگست تک تفصیلات فراہم کی جائیں۔ نیب نے نواز شریف، حسین، حسن نواز سمیت دیگر کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی ہیں۔ دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے نواز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ کا والیم 10 حاصل کر لیا۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے حاصل کیا گیا جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم دس 415 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور نیب نے والیم دس کی چار مصدقہ نقول حاصل کی ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا نیب نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی رپورٹ کی تین مکمل مصدقہ نقول حاصل کی ہیں۔ یاد رہے کہ نیب کی جانب سے اس قبل جے آئی ٹی رپورٹ کی والیم دس کے علاوہ ایک مصدقہ نقل حاصل کی جا چکی تھی اور اب نیب نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ کے لئے دوبارہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ رجسٹرار آفس نے والیم دس فراہم کرنے کی پہلی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم نیب کی جانب سے رجسٹرار آفس کو آگاہ کیا گیا کہ ریفرنسز فائل کرنے کے لئے والیم دس ضروری ہے، جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو والیم دس سمیت جے آئی ٹی رپورٹ کی تین مصدقہ نقول فراہم کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جلد 10 ملنے کے بعد نیب آج سے کارروائی شروع کرے گا۔ جلد 10 کی روشنی میں مختلف ملکوں کو شریف خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے خط لکھے جائیں گے۔ جن ممالک کو خط لکھے جا چکے ہیں ان کا فالو اپ کیا جائے گا۔ ادھر خاندانی ذرائع کے مطابق حسن اور حسین نواز کو آج نیب میں پیش ہونے کا نوٹس نہیں ملا۔ نیب کی طلبی نوٹس کا خبروں میں ہی دیکھا، کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ خط نیب کے ڈی جی راولپنڈی کی طرف سے وزارت خارجہ کے ذریعے ارسال کیا گیا۔ سعودی عرب کو خط پیش کرنے کا مقصد نیب شریف خاندان کی جانب سے جے آئی ٹی کو فراہم کردہ ریکارڈ اور سعودی عرب کے ریکارڈ کا موازنہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ حسین نواز نے لندن فلیٹس کی خریداری میں العزیزیہ ملز کی فروخت سے حاصل رقم کا م¶قف اپنایا تھا۔ نیب ذرائع کے مطابق حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرنے تک ریفرنس نہیں کھولا جا سکتا۔ پانامہ فیصلے میں بھی حدیبیہ کیس کھولنے کی واضح ہدایت نہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف حدیبیہ پیپر ملز کے ملزمان میں شامل تھے۔