امریکہ کا حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا مایوس کن ہے، پاکستان :آرپار کشمیریوں نے احتجاج کیا

18 اگست 2017

مظفرآباد (آئی این پی+ صباح نیوز) امریکہ کی جانب سے کشمیری عسکری کمانڈر سید صلاح الدین کے بعد کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کیخلاف آر پارکشمیری سراپا احتجاج بن گئے، آزادکشمیر بھر میں مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ دارالحکومت مظفر آباد میں شہریوں نے امریکہ اور بھارت مخالف شدید احتجاج کیا۔ برہان چوک میں شدید نعرے بازی کی اور گھڑی پن تک ریلی نکالی گئی۔ مغلوب اقوام کو جارح اور قابض افواج کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا حق دیتا ہے۔ مظاہرہ میں متحدہ جہاد کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمان، نائب امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر شیخ عقیل الرحمان، پاسبان حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، حزب المجاہدین کے کمانڈر محمد اصغر رسول، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر کے وائس چیئرمین مشتاق الاسلام، غلام اللہ آزاد، سماجی رہنما بشارت نوری، حامد جمیل، حمزہ شاہین، مقصود کیانی سمیت سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات کے علاوہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ جمیل الرحمان نے کہا کہ متحدہ جہاد کونسل امریکہ کی جانب سے سید صلاح الدین احمد اور حزب المجاہدین پر لگائی جانیوالی پابندیوں کو مسترد کرتی ہے۔ امریکہ نے اپنے معاشی مفاد کیلئے حزب المجاہدین پر پابندی لگائی جسے پوری کشمیری قوم مسترد کرتی ہے۔ شیخ عقیل الرحمان نے کہا کہ بھارت سات لاکھ فوج کے ذریعے کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے، پورا یورپ اور امریکہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ امریکہ کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ حزب المجاہدین اور سید صلاح الدین احمد پر پابندیاں عائد کرے۔ بھارت خطہ کے اندر جنگی ماحول کو ہوا دے رہا ہے۔ چائنہ کیساتھ بھارت کی جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کو بھی بھارت پر حملہ کر دینا چاہئے اور کشمیر کی آزادی کیلئے راستہ ہموار کرنا چاہئے۔ عزیر احمد غزالی نے کہا بھارت غاصب اور جارح ملک ہے۔


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا مایوس کن اقدام ہے کیونکہ کشمیریوں کی تحریک برائے حق خودارادیت تو گزشتہ ستر برسوں سے جاری ہے۔ یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے بھارت کی طرف سے واہگہ پر پاکستان کے چار سو فٹ بلند پرچم کی تنصیب پر اعتراضات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ترجمان نے پاکستان‘ بھارت تعلقات کے حوالہ سے ایک جیسے سوالات کے جواب میں کہا کہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ، دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور پائیدار قیام امن کیلئے اس مسئلہ کا پُرامن حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد ہر اعتبار سے جائز ہے۔ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا بیجا استعمال کیا اور اب بھی کر رہا ہے۔ بھارتی فوج نہ صرف کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے بلکہ کشمیری نوجوانوں کی بینائی بھی چھین رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک، آسیہ اندرابی مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور دیگر راہنماﺅں کو دوران حراست جان کا خطرہ لاحق ہے۔ انہیں جان بچانے والی ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں جب کہ شبیر احمد شاہ کو بدنام تہاڑ جیل میں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور انہیں خطرناک لوگوں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔گزشتہ پانچ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں چھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ حریت قیادت کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ چند روز پہلے کابل میں پاکستان‘ افغان مذاکرات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ تہمینہ جنجوعہ جب خارجہ سیکرٹری بنیں تب افغان حکومت نے انہیں دورہ کابل کی دعوت دی تھی۔ اس دورہ میں سیاسی و سفارتی تعلقات، عوامی رابطوں، افغان مہاجرین کی واپسی، تجارت اور دیگر پاک افغان امور پر دورے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان نے مل کر دہشت گردی کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے پر اتفاق رائے پایا گیا۔ ایک سوال پر ترجمان نے بتایا کہ امریکہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بھارت کے اندر اقلیتوں کو آزادیاں نہ ہونے کا مفصل ذکر موجود ہے۔ امریکہ نے دہشت گردی کے سدباب کے باب میں پاکستان کی قربانیوں کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ کہا ہے وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سراہتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ چھ مختلف ورکنگ گروپ موجود ہیں جو مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے حالیہ سانحہ میں میں بھارت کے ملوث ہونے کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہے۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے را کے جاسوس کل بھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں بھارت کے بلوچستان لبریشن آرمی سے روابط کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ بھارت نے پاک چین معاشی راہداری کی مخالفت کی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے زریعے تخریبی کاروائیوں، دہشت گردوں کی مالی امداد اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی ہندو دہشتگرد تنظیمیں بھارتی اقلیتوں کے علاوہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال میں مغوی لیفٹننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کے بھارت چلے جانے کے شواہد ملے تھے۔ بھارت کی جانب سے ان کی بازیابی کے حوالے سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق نفیس زکریا نے کہا پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے جس کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا ہو گا۔ واضح رہے گزشتہ روز امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کو بھارت کے قبضے کے خلاف حالیہ احتجاج پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا، اس سے قبل امریکی حکومت حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو بھی 'عالمی دہشت گرد' قرار دے چکی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندو دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ بھارت، افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت نے پاک‘چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی کھل کر مخالفت کی، مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ڈوزیئر جمع کرا دیا گیا ہے۔