ہر فوجی سربراہ سے مخاصمت تاثر غلط، اداروں میں ٹکراﺅ روکنا صرف میری ذمہ داری نہیں :نواز شریف

18 اگست 2017

اسلام آباد+ لاہور (بی بی سی اردو+ خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد بی بی سی کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادمکو روکنے کی ذمہ داری صرف ان کی نہیں ہے۔ سابق وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو مجروح نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ایک سوال پر کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عوامی مینڈینٹ کو پامال کیا گیا تو عوام ٹینکوں کے سامنے آئے اور انہوں نے فوج کو پیچھے دھکیل دیا جس کی حالیہ مثال ترکی کی ہے، کیا پاکستان بھی ایسے ہی ٹکراو¿ کی جانب بڑھ رہا ہے تو نواز شریف نے کہا کہ وہ اداروں کے مابین ٹکراو¿ کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ٹکراو¿ کے خلاف صرف مجھے ہی نہیں ہونا چاہیے، سب کو ہونا چاہیے اور ٹکراو¿ کی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہیے اور اداروں کے مابین تصادم نہیں ہونا چاہیے، یہ صرف میرے اکیلے کی ذمہ داری نہیں، سب کی ذمہ داری ہے۔' نواز شریف نے کہا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں کہ ان کی فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ مخالفت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'کچھ (جرنیلوں) کے ساتھ میری یقیناً بنی بھی ہے، اچھی بنی ہے۔ اور میں نے کبھی آئین سے انحراف نہیں کیا، جو قانون کہتا ہے اس کے مطابق چلا ہوں۔' اگر کوئی قانون کی حکمرانی یا آئین پر یقین نہیں کرتا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس ملک کو چلانے والوں نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے خاص طور پر آمریت نے، وہ پاکستان کی تباہی کا ایک نسخہ تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ 'جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھا، مشرف میرے خلاف تھا، مشرف کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن باقی فوج میرے خلاف نہیں تھی۔ باقی فوج کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مارشل لا لگ چکا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب ہم نے اس مرض کی تشخیص کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے اس ملک میں تمام مشکلیں اور مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ ’اس کے لیے ملک کی ایک سمت کا تعین کرنا ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم ووٹ کے تقدس کا احترام کریں گے۔' ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہیں ہے بلکہ ایک مہم ہے، میں یہ اس لیے نہیں کر رہا کہ میں دوبارہ منتخب ہو کر وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھوں، وہ پھولوں کا بستر نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنا بذات خود ایک قربانی ہے۔' عمران سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'عمران صاحب کے بارے میں کیا کہوں، ان کی باتوں کا جواب نہ دینا ہی اچھا ہے۔ زرداری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مانگنے کا ارادہ ہے۔' اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلانگ کے حوالے سے سینٹ چیئرمین رضا ربانی کی تجویز پر نواز شریف نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے کچھ دوستوں سے کہا ہے کہ وہ رضا ربانی کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ان سے پوچھیں کہ ان کہ ذہن میں اس کا کیا خاکہ ہے۔' نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے اور آج تک اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ’اس کی ایک خلاف ورزی ہوئی تھی جو ایک این آر او سائن ہوا تھا، مشرف اور کچھ فریقوں کے درمیان وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نہ ہوتا تو اچھا تھا۔' پاناما مقدمے کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ چار مہینے تک یہ مقدمہ چلا، پھر جے آئی ٹی بنی، یہ جے آئی ٹی کس طرح بنی اس کی ساری کہانی آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں شامل لوگ ان کے ’کٹر اور بدترین مخالفین‘ میں سے تھے۔' اس جے آئی ٹی کے سامنے 'ہمارا پورا خاندان پیش ہوا۔' سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی نااہلی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ 'چار سال ہوگئے ہماری حکومت قائم ہوئے اور واضح مینڈیٹ تھا۔' ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر تھی اور اس نے دھاندلی دھاندلی کی رٹ شروع کر دی جس میں طاہرالقادری بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں سے ترقی کا پہیہ تقریبا جام ہوگیا اور دھرنے والے وزیراعظم ہاو¿س، پارلیمان کے گیٹ اور دیگر اداروں کے سامنے پہنچ گئے تھے اور کہتے تھے کہ 'ہم وزیراعظم کو گلے میں رسہ ڈال کر وزیراعظم ہاو¿س سے باہر نکالیں گے۔ جمہوریت تو کیا آمریت میں بھی ہم نے ایسی چیزوں کو کم ہی دیکھا ہے۔‘ انہوں نہ کہا کہ 'یہ دھرنا ختم ہوا تو پاناما کا معاملہ سامنے آگیا جس میں انہوں نے دوبارہ دھرنا دینے کی کوشش کی۔ ان دنوں سی پیک کا معاملہ بڑی بری طرح متاثر ہوا اس کے باجود ملک نے ترقی کی ہے۔' 'ان کا مقصد شروع دن سے یہی تھا کہ نواز شریف کو ووٹ کیوں مل گیا ہے، کیوں یہ وزیراعظم بنا ہے اور اس کو وزیراعظم کی سیٹ سے نیچے اتارا جائے۔ جہاں مقصد ہی یہ ہو وہاں باقی چیزوں کی کیا قیمت رہ جاتی ہے۔' ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا سی پیک زوروں سے چل رہا تھا لیکن اس پر کام دھرنوں سے متاثر ہوا۔ ملک میں امن قائم ہوا ہے، کراچی کا امن ہم نے بحال کیا ہے۔ ترقی کی شرح بڑھی لیکن اب جو یہ دھچکا پہنچا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ملک میں انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچا، مجھے بتایا جائے کہ دھرنے کی کیا ضرورت تھی؟ دھرنا کس لئے تھا؟ دھرنے کے کرداروں کے بارے میں بعد میں بتا¶ں گا۔ سپریم کورٹ نے پہلے پاناما کی درخواست مسترد کی اور پھر منظور کر لی۔ جے آئی ٹی میں شامل تمام لوگ ہمارے بدترین مخالف تھے۔ میں بطور وزیراعظم جے آئی ٹی میں پیش ہوا۔ شہباز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے۔ ہمارا 1972ءسے احتساب کیا گیا۔ بتایا جائے کیا میں نے سرکاری پیسوں میں خورد برد کی؟ پورا خاندان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، کس بات کا احتساب ہو رہا ہے؟ اگر عوام کے حق حکمرانی پر قائم رہتے تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔ ووٹ کی حرمت کو جب چھوڑ دیا تو ملک ٹوٹ گیا۔ کیا ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ اگر سبق سیکھا ہوتا تو پہلے مارشل لاءکے بعد دوسرا اور تیسرا نہ لگتا۔ تین مارشل لاءڈکٹیٹرز تیس سال کھا گئے۔ ہر وزیراعظم کے حصے میں اوسطاً ڈیڑھ سال آیا۔ کیا یہ عوام کے ووٹ کا احترام ہے؟ ووٹ کے احترام کو روندنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ قبل ازیں سابق وزےر اعظم مےاں نوازشرےف سے جے ےو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ملاقات‘ متوقع قانون سازی‘ انتخابی اصلاحات کے بل اور پاکستان کی سےاسی اور ملکی صورتحال پر بات چےت کی گئی۔ نوازشر ےف نے کہا ہے کہ ہم اقتدار اور ذاتی مفادات کی نہےں ملک اور قوم کے حقوق کی بات کرتے ہےں اور ملک مےں پارلےمنٹ جمہورےت اور منتخب عوامی حکومتوںکی مضبوطی کےلئے ووٹ کا تقدس ضروری ہے ورنہ ملک مےں مسائل ختم نہےں ہوں گے بلکہ ان مےں اضافہ ہی ہوتا رہےگا۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لےگ ملک مےں حق اور سچ کےلئے ہر قربانی دےنے کو تےار ہے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہےں کےا جائےگا۔

ٹکراﺅ عروج پر

مسلم لیگ نون اور عدلیہ کے درمیان ٹکراﺅ خوفناک حد تک اپنے منطقی انجام کی طرف ...