شریف فیملی کیخلاف ریفرنس، نیب تحقیقات کیلئے سی آئی ٹی کا نیا طریقہ کار اپنائے گی

18 اگست 2017

اسلام آباد(چوہدری شاہد اجمل/ نامہ نگار) سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دے رکھا ہے، دو ہفتے کا عرصہ پہلے ہی گزر چکا ہے۔ ذرائع کےمطابق کہ شریف خاندان کے خلاف 4ریفرنسز کی تیاری کے لیے دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔نیب راولپنڈی کی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر پنڈی رضوان احمد جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم لاہور کی سربراہی میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کر رہے ہیں،نیب لاہور کی ٹیم نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات آغاز کر دیا، نیب راولپنڈی کی ٹیم العزیزیہ اسٹیل کمپنی سمیت شریف فیملی کی 11کے قریب کمپنیوں کی تحقیقات کرے گی۔نیب لاہور نے ایس ای سی پی سے اسحاق ڈار اور اہل خانہ کی کمپنیوں کا ریکارڈ بھی طلب کرنے کےلیے بھی خط لکھ دیا۔نیب لاہور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس تیار کرے گی۔ نیب کوشریف فیملی،اسحاق ڈاراور کیپٹن صفدر کے خلاف 8ستمبر تک ریفرنسز دائر کرنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کے اجلاس میں پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں اہم فیصلے کیے گئے۔ 7رکنی ٹیم راولپنڈی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی رضوان خان کر رہے ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں شریف خاندان کے خلاف 4ریفرنسز تیار کریں گی۔ ذرائع کے مطابق نیب لاہور کی تحقیقاتی ٹیم 3ارکان پر مشتمل ہے جس کی سربراہی نذیر اولکھ کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں نادر جان اور عمران ڈوگرشامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق چار مقدمات میں ریفرنس تیار کرکے عدالتوں کو بھجوانے کے لیے چھ ہفتے کا وقت بالکل مناسب ہے۔قوانین کے تحت چیئرمین نیب کسی مقدمے میں عدالتی ریفرنس ترتیب دینے کے لیے تحقیقاتی افسر مقرر کرتا ہے۔ تاہم اس مقدمے میں نیب کی جانب سے کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیمیں ( سی آئی ٹیز) تشکیل دی گئیں ہیں۔نیب زرائع کے مطابق تحقیقات کو مزید موثر بنانے کے لیے سی آئی ٹیز کا نیا طریقہ اپنایا ہے جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرے گی۔ مشترکہ ٹیم میں نیب کے دو تحقیقاتی افسر شامل ہوں گے، جن میں ایک مالیاتی امور کا ماہر اور دوسرا قانونی امور کا ماہر موجود ہے۔نیب کے قانون کے مطابق نیب کا تحقیقاتی افسر تحقیقات کے دوران گواہوں کے بیان ریکارڈ کرتا ہے اور ہر پہلو کا اپنے طور پر مکمل جائزہ لیتا ہے تاکہ ریفرنس عدالت میں ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہو۔شریف خاندان کے کیسوں میں سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) شواہد پر مبنی اپنی رپورٹ دے چکی ہے۔