سپیڈو بس سروس سفید ہاتھی منصوبہ؟

18 اگست 2017

مکرمی! پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں سے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین سے لنک کرنے کے لیے شہریوں کی سہولت کے لئے نئی بس سروس ’’سپیڈو بس‘‘ متعارف کروائی گئی۔ یہ بسیں اپنی مثال آپ ہیں۔ ایئر کنڈیشنڈ جازب نظر، ڈسپلن کے ساتھ ڈرائیونگ لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا پہلے بھی اظہار کر چکے ہیں کہ سپیڈو بس میں بے شک کارڈ سسٹم رکھیں لیکن روز مرہ کے عام مسافروں کے لیے بس کے اندر سے ٹکٹیں دینے کا بھی اہتمام ہونا چاہیے لیکن انتظامیہ مسلسل سنی ان سنی کر رہی ہے جس سے حکومت پنجاب کایہ عظیم الشان منصوبہ فلاپ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سرکاری خزانے کو سالانہ 2ارب8کروڑ کا نقصان ہونے لگا ہے۔ چند ایک مسافر اس بس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ باقی عوام منی ویگنوں کے ذریعے انسانیت سوز سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے قبل لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت LTC کی بسیں انہیں روٹس پر چل رہی تھیں کچھ روٹس پر اب بھی چل رہی ہیں وہ بھی معیاری بس سروس ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ حکام سے دردمندانہ گزارش ہے کہ سپیڈو بس میں کارڈ کے علاوہ بس اندر ٹکٹس جاری کرنے کا بھی اہتمام کیا جائے وگرنہ یہ بس سروس سفید ہاتھی منصوبہ ثابت ہو رہی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے روزانہ ایک لاکھ افراد سفر کرنے کا ٹارگٹ رکھا گیا تھا لیکن یہ ٹارگٹ بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے پورا نہیں ہو رہا۔ مسافروں کا کہنا ہے حکومت کارڈ سسٹم کی شرط ختم کر دے، جو کارڈ استعمال کرنا چاہیں کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایل ٹی سی کی طرز پر ٹکٹیں جاری کی جائیں۔ آخر میں لاہور ٹرانسسپورٹ کمپنی کے چیئرمین کی توجہ لاہور تا نارنگ B-32 بس سروس کی طرف دلانا چاہتا ہوں اور شنید ہے کہ 19اگست کو اس روٹ پربھی دو عدد بسوں کا افتتاح ہوگا۔ پہلے ایک چل رہی ہے اس طرح 3 بسیں ہو جائیں گی۔ یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ براہ کرم اس روٹ پر پہلے سے منظور شدہ 14بسیں چلائی جائیں۔ (چودھری فرحان شوکت ہنجرا، لاہور)