’’پاکستانی۔ ایک پُرجوش قوم‘‘

18 اگست 2017

اِدھر بارہ بجے اُدھر" لاہور" کیا پورا ملک سٹرکوں پر اُمڈ آیا۔ سائیکل، موٹر سائیکل، کار، جس کے پاس جو کچھ تھا سبز پرچموں سے سجائے جہاں بھی گئے اژدھام تھا۔ موٹر سائیکلوں پر پوری پوری فیملی بیٹھی "یوم آزادی "منانے نکلے ہوئے تھے ۔ عام آدمی ہی نہیں۔ تاجر، اہل سیاست سبھی کا جوش، جذبہ دیدنی تھا ۔ کیک کاٹے گئے ۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء پر رعایتی نرخ چلے۔ دوسری طرف" واہگہ بارڈر" پر ایشیا کا سب سے بڑا پرچم لہرایا گیا بلکہ ببانگ دہل پیغام گیا کہ" شہداء کا خون قرض۔ وطن پہلے ہم بعد میں" ۔ بلاشبہ" وطن "ہے تو ہم ہیں۔ عہدے، گھر، پروٹوکول ہے سب سے بڑھ کر" آزادی "ہے اس سے قیمتی کوئی چیز نہیں۔ دن منانے کا بہترین انداز رویہ یہ ہو کہ ہم سب تمام مسلکی، فقہی اختلافات بُھلا کر سیاسی رنجشیں مِٹا کر ملک کی سلامتی اتحاد واسطے جُڑ جائیں۔ جشنِ آزادی کے مناظر دیکھ کر شک نہیں قوم متحد، متفق ہے ہر طرف مِلی نغمے تھے۔ ترانوں پر رقصاں بزرگ، بچے، جوان، سبز رنگ کے لباس، چہروں پر قومی پرچم پینٹ صورت14" اگست" کو25"کروڑ "پاکستانی چلتے پھرتے۔ فعال، مضبوط پاکستان کی تصویر تھے ۔ صرف اندرون نہیں بیرونی دنیا بھی آزادی کی خوش میں ہم رکاب تھی کیا "گورے کیا امریکی "سبھی ڈھول، ترانوں پر بے ساختہ ناچ اُٹھے۔ عالمی برادری کے مبارکبادی پیغامات موصول ہوئے۔ ائر شو میں" سعودی عرب "شامل ہوا۔ چین کے نائب وزیراعظم تقریب آزادی کے مہمان خصوصی تھے۔ شبہ نہیں قومیں ریاستی سطح سے جُڑتی ہیں۔ قوموں کے تعلقات انفرادی سطحوں سے ماورا ہوتے ہیں کوئی آئے یا جائے (یہاں تو کوئی گیا بھی نہیں)
"کیا ہم خوشی سے یوم آزادی منا رہے ہیں ؟"بے حد تکلیف دہ سوال، سوال کی اہمیت زیرو، مگر دکھ100"فیصد" پہلے بھی لکھا کہ ہمیشہ سے دائیں بازو کا رہنما سمجھے جانے والے "میاں صاحب" یکدم 90"ڈگری "مخالف سمت کیسے جا کھڑے ہوئے کہ ایک اور بڑے نقصان کی بات کتنی آسانی سے کہہ ڈالی کیا "میاں صاحب" پہلے سے ایسے تھے یا پھر اب دل گرفتہ زیادہ ہوگئے ۔ پاکستان" اللہ رحمن" کی مشیت ہے ۔ حفاظت "رب رحیم" خود فرمائیں گے ۔ پورے پاکستان کا تو معلوم نہیں پر صرف شہر قائد، پاکستان کا دل میں 70" ویں یوم آزادی "پر15" ارب" روپے کی ریکارڈ خریداری یہ جذبہ یہ ہمت کیا انقلاب نہیں ؟ انقلاب اور کِس کو کہتے ہیں ۔15" ارب" معمولی رقم نہیں نہ ہی جشن مناتے متوالوں کی تصویریں جھوٹی ہیں دل سے مرضی سے از خود نکلے لوگ ناکہ دھمکیوں دباؤ کے ذریعہ تھانوں سے بلوائی گئی نفری جو ہمیشہ سے سرکاری اجتماعات کے خالی گڑھے پُر کرتی رہی ہے ۔ پرچم، لباس، جھنڈیاں خریدنے پر قوم کے" اربوں روپے" خرچ کرنے کی اطلاعات کیا "اِن" تک پہنچ نہیں پائیں ؟ "ووٹ کے تقدس "واسطے جان لڑانے کا اعلان۔ اللہ تعالیٰ کریم کرے کہ ایسا ہو۔ ماضی زیادہ دُور ہے نہ ہی قوم کا حافظہ اتنا کمزور ویسے بھی انتہائی چوکس "میڈیا" کی موجودگی اور متواتر چلتی ماضی کی تصویری جھلکیاں۔ "تماشا بند کرنے "کی دھمکیوں کے لیے کافی ہیں جب منتخب "وزرائے اعظم" کے خلاف منظم مہمات چلائی گئیں ۔ قوم کا صرف ایک ہی سوال حکومتی طویل ترین مدت 35" سال" تک جان کِن کاموں میں پھنسی رہی ؟ رُکاوٹ کہاں تھی ۔ کامیاب طویل ترین غیر ملکی دورے ۔ ذاتی کاروبار کی ناقابل یقین۔ بڑھوتری کے کرشماتی معجزے اہم اداروں میں من پسند آدمی تعینات کہیں بھی کوئی بندش نظر نہیں آتی کِسی بھی جگہ بیریئر لگا نہیں دیکھا۔ ہاں ہر وہ کام راستہ جو عوامی بہبود، ترقی کی طرف نکلتا تھا وہ مسلسل "سپیڈبریکرز "کے حصار میں رہا ۔
"دوسری تصویر"سرسبز ملبوسات پہنے بچوں کے درمیان (خود بھی سبز شرٹ زیب تن کیے ) مائک پکڑے قومی ترانہ پڑھتے ہوئے "خادمِ اعلیٰ پنجاب" دُعا ہے کہ" خادمِ پاکستان" بن جائیں۔ جن کو ہم کچھ سال پہلے شہباز پاکستان خادمِ اعلیٰ پاکستان کے القابات سے نواز چکے ہیں ریکارڈ کے لیے ٹویٹر، فیس بک پر مضامین موجود ہیں اِس موقع پر دیا گیا بیانیہ ہمارے مسلسل لکھے جانے والے حروف کی سچائی میں گُھل کر سامنے آیا کہ اشرافیہ کی وجہ سے ملک کو یہ دن دیکھنا پڑے ۔ کٹہرے میں جواب دینا پڑے گا۔ کٹہرے میں کھڑا ہونا اب مقدر ہوچکا ہے نہ صرف جوابدہی بلکہ باز پرس کے "فیز "کی شروعات ہیں اگر یاد ہو تو درست فرمایا گیا تھاکہ" پاکستان آئین و قانون" کے راستے پر چل پڑا ۔ چلنے والا ایک دن دوڑتا نظر آئے گا۔ یہ تھی ممکن ہوگا کہ سب الفاظ و عمل کی پاسداری سے پیوستہ ہو جائیں۔
میرا علم محدود اور معلومات ناقص ہیں۔ آنکھیں ہنوز اُس (بزعم خود) بڑے نقصان کو کھوجنے میں قاصر ہیں جو" نا اہلی" کی وجہ سے ہوا وہ کون سے دھچکا ہے جو گیس + بجلی کی بندش کے سائے میں رواں دواں" ترقی" کو لگا ۔ ہاں بلکہ معیشت پر "جی ٹی روڈ مشن" کے اثرات بہت واضح ہیں۔ دونوں ہی حیران ہیں وہ "کیوں نکالا "؟ قوم" مشن کیا تھا" پر صدیوں پہلے بادشاہ سلامت ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے۔ بار برداری اور سواری ہر دو کے لیے خچر ،گھوڑے، اونٹ تب کے دور کے" ذرائع مواصلات "تھے ۔ قافلہ فاصلے کی مناسبت سے مہینوں، ہفتوں ، دنوں میں پہنچتا تھا جبکہ آج 21" ویں صدی "میں" سرکارسے سڑک "تک سبھی تصرف میں تھا پھر بھی چار دن ؟؟ایک بندہ بھی نہیں ملا جو رنجیدہ ، اداس ، غمزدہ ہو، ہاں سرحد کے اِس طرف انڈیا" سوگ میں نظر آیا اِدھر آزادی کا دن تھا اُدھر مظالم کے سائے" مقبوضہ وادی "میں یوم سیاہ تھا۔ گردن تک جکڑی پابندیوں کے باوجود فضا مردہ باد کے نعروں سے مرتعش رہی کہنا پڑا " مسئلہ گولی، گالی سے نہیں گلے لگانے سے حل ہوگا " جس ملک کے علماء جبر، ظلم، تشدد کی چھائی فضا کے باوجود ترانہ پڑھنے سے انکار کر دیں۔ درست فرمایا "مودی جی" نے واقعی مسئلہ حل کرنا پڑے گا بات "نئی دہلی" تک آ پہنچی ہے ۔