وعلیکم السلام … ٹورانٹو!

18 اگست 2017

حسب پروگرام 8 اگست کی حبس آلود صبح کو چھ بجے اہلیہ نے لاہور ایئرپورٹ پر چھوڑا‘ سامان کی بکنگ کے دھندے اور ضابطہ کی دیگرکارروائیوں سے جلدی فراغت ہوگئی تو لائونج میں بھانت بھانت کی عوام کے درمیان آکر سُکھ کا سانس لیا۔ لائونج میں لگی ٹی وی سکرین پر میاں نوازشریف کے ’’سفر آخرت‘‘ یعنی راولپنڈی سے جاتی امراء کے محل کو واپسی کی اپ ڈیٹ لے کر جہاز میں سوار ہوا۔ لاہور سے ٹورانٹو کی یہ پرواز 13 گھنٹے کی مسلسل پرواز تھی جس میں اُمید اور خوشی کا پہلو صرف ایک تھاکہ مسلسل 13 گھنٹے فلمیں دیکھنے اور میوزک سننے کا موقع ملے گا مگر پی آئی اے کی باکمال پرواز کے عملے نے آغاز پر ہی معذرت کرلی کہ جہاز میں انٹرٹینمنٹ کا سسٹم نہیں چل سکے گا یوں سوائے سونے اور بیٹھنے اور کوئی آپشن نہ بچا۔
ہم عزیزم طاہر اسلم گورا کی دعوت پر کینیڈا کے دورے کے پہلے مرحلے پر ٹورانٹو کیلئے روانہ ہوئے تو وطن عزیز کے سیاسی اور موسمی حبس سے نجات ملنے کے امکانات ہمارے ساتھ تھے مگر ٹورانٹو پہنچ کر صرف موسم حبس سے ہی نجات مل سکی کہ ہر پاکستانی پاکستان کے سیاسی حالات پر پریشان تھا ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ ان کو باور کرا سکیں ہم بھی ایک عام آدمی کی طرح ہی بے اختیار ہیں اور پریشان رہ رہ کر عنقریب ’’پریشان خٹک‘‘ بننے والے ہیں۔ گزشتہ ماہ جب آسٹریلیا سے واپسی کا ارادہ کیا تو لاہوری دوستوں نے ڈرایا کہ پاکستان میں سخت گرمی ہے مت واپس آنا مگر ان کے رُوبرو دلیل یہ دی کہ زندگی ساری ہی ایسے موسموں کے ساتھ گزری ہے کیوں واپس نہ آئوں؟ کیا ’’انور ریٹول‘‘ اور ‘‘چونسے ‘‘ بے چارے کو اکیلا چھوڑ دوں جبکہ ملکی حالات آج کل ہر قسم کی ڈپلومیسی بشمول چوائس ڈپلومیسی کیلئے کافی سازگار ہیں مگر جب دوستوں سے ساون بھادوں کے حبس اور پسینہ اور لوڈشیڈنگ کا گلہ کرتے تو وہ کہتے نمہیں منع کیا تھا اب ’’ہور چونسا چوپو‘‘
ٹورانٹو کے وسیع و عریض ایئرپورٹ پر اتر کر امیگریشن آفیسر نے کاغذات ملاحظہ کئے اور کہا کہ آپ کا قیام 60 دن کوئی زیادہ طویل نہیں ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ جب آپ کی حکومت نے مجھے 2019ء تک کا ویزا دیا ہے تو یہ اس وقت سوچنا تھا نا! باہر عزیزم طاہر اسلم گورا اور بھابھی حلیمہ سعدیہ کافی دیر سے ہمارے منتظر تھے۔ انہوں نے سامان سمیت ہمیں گاڑی میں ڈالا اور TAG ٹی وی چینل کے سٹوڈیو لے آئے کیونکہ دونوں ہی TAG ٹی وی کیلئے اتنے متحرک ہیں ترینٹی میں واقع اپنے ایک نمبر گھر سے صبح ناشتہ کرکے آجاتے ہیں اور سارا دن اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور پھر شام کو اپنے TAG ٹی وی والے دو نمبر یا نمبر دو گھر سے اپنے ایک نمبر گھر میں اپنے خوبصورت بچوں دائود‘ سبنستے اور سروش کے ساتھ لاڈ پیار کرتے ہیں ان بچوں سے ہماری ملاقات 18 سال بعد ہوگی جب ہم جوان تھے اور وہ معصوم بچے تھے۔ TAG ٹی وی کے سٹوڈیو میں پہنچ کر گورا اور سعدیہ نے ہمیں پاس بلا کر آرام کا مشورہ دیا کہ ہم 13 گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد تھک کے چور ہوچکے ہوں گے مگر تھکاوٹ ہماری قسمت میں کہاں! چنانچہ پہلی ہی شام ہم نے سی ساگا میں ہونے والے عظیم الشان ثقافتی میلے میوزک 2017 میں شرکت کی جہاں ہزاروں سکھ‘ مُسلمان اور ہندو شرکاء و مشترکہ ثقافتوں اور وراثتوں کے ورثے کو اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کیلئے جمع تھے۔ یہاں ہماری ملاقات بہت سے ادبی‘ ثقافتی دوستوں سے ہوگئی جن میں برادرم عرفان ملک‘ عارف ثاقب‘ رشید ندیم‘ طیب رضا‘ عاصمہ محمود اور ارشد محمود سے ملاقات یادگار رہے گی۔ یہ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر کینیڈا میں مقیم ہیں مگر ان کے اندر اپنے اپنے علاقوں کی تڑپ موجود ہے۔ یہاں دوسرے فنکاروں کیلئے جاوید بشیر‘ بشریٰ انصاری اور کیلاش خیر نے بھی شرکت کی اور اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اگلے روز غزل کے لازوال شاعرافضال نوید نے ہمیں سکاریرو جھیل کے نظارے کرائے اور بہت سے ایسے مقامات دکھائے جو ان کے خوبصورت اشعار کا شاید نزول تھے مگر وہ شان نزول چہروں کے معاملے میں کنجوسی برت گئے۔ جھیل کے کنارے باغوں میں لاتعداد خاندان پکنک اور باربی کیو میں مصروف تھے اور جھیل میں ڈبکیاں بھی لگا رہے تھے۔ خوبصورت پرندے اور درخت ان کو ہماری طرح بٹ بٹ دیکھ رہے تھے۔ جھیل کے دورے کے بعد بھوک چمک اٹھی چنانچہ ایک اطالوی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا شام چھ بجے کھایا جو لاتعداد ڈشوں پر مشتمل تھا۔ کھابہ گیروں میں حسین خواتین کی تعداد غالب تھی۔ افضال نوید نے بطور شاعر ہمارا تعارف ہوٹل انتظامیہ سے یوں کرایا کہ ہوٹل عملے نے ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوائیں اور ایک ایک کاپی ہم کو بھی عنایت کی۔ ایک اور پاکستانی دوست مرزا نسیم جو نوکری میں میرے ایک اچھے دوست اور کولیگ رہے ہیں اور آج کل ٹورانٹو میں مقیم ہیں تشریف لائے اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے رہے ٹورانٹو میں اپنے اعزاز میں تقریب کی محبت سمیٹ کر پرسوں صبح ’’وینکور‘‘ کا جہاز پکڑیں گے جو دوستوں کے قول کے مطابق کینیڈا کا حسین ترین شہر ہے یہاں ہماری اپنی بیٹی انوان اس کی اور ہماری بیٹی زویہ سے 4 سال بعد ملاقات ہوگی اور اپنے نواسے زین سے بھی پہلی ملاقات ہوگی۔ ہم نے اپنی نئی کتاب ’’چھوٹی چھوٹی نظمیں‘‘ کا انتساب زین کے نام کیا ہے کیونکہ زین کا تعلق اس نسل سے ہوگا جو ہماری ستر اور اسی کی دہائی کی شعری نفلیات سے ناواقف ہے مگر بہرحال ہماری شاعری کا موضوع ہے۔