اب لمحہ فکریہ ہے

18 اگست 2017

کچھ سوالا ت ایسے ہیں جن کے جوابات سالہا سال سے تلاش کئے جارہے ہیں۔ اُن پر بحث ومباحثے ہوتے ہیں، غوروفکر کیا جاتا ہے لیکن جواب آج تک ندارد۔پاکستان کو تشکیل پائے ہوئے70برس گزر گئے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں اور سوالوں کے جواب آج بھی علماء فضلاء سیاستدان و معیشت دان تلاش نہ کرسکے۔نظریہ پاکستان سے حصول پاکستان تک جس مقصد کے تحت پاکستان کو حاصل کیا گیا، لاکھوں جانوں کے خون کا نذرانہ دے کر خطہ پاک کو حاصل کیا گیا۔ کیا وہ مقاصد ہم نے حاصل کرلئے؟ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا اور اس خواب کی تعبیر حاصل کرنے میں عمر بھر کی قربانی دے دی؟قارئین! سوالات کے منہ مزید بڑے ہوتے جارہے ہیں نئی نسل ایک حیرت و تعجب سے اپنی پہلی نسلوں کی طرف اشتیاق سے دیکھتی ہے۔ نسل نو کے ہاتھوں میں سبز جھنڈے تو تھما دیئے گئے، ریلیاں، جلسے، جلوس اور نعرے بازی تو سکھا دی گئی لیکن عظیم مقاصد کیلئے بنائے گئے ملک پاک کو حاصل کرنے کا مقصد آج بھی اُن کی سمجھ سے کچھ بالا ہے۔جہاں اُنہیں غریب، غریب تر اور امیر، امیر تک ہوتا دکھائی دیتا ہے، سرمایہ دارانہ نظام نے مزدور کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، والدین کے خون پسینے اور ان کی اپنی بے پناہ محنت کے صلے میں ملنے والی ڈگریاں اُن کیلئے محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں جو کبھی روٹی کے ٹکڑوں میں بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ دراصل ملک بنتے ہی خوف و انتشار، بد امنی اور بے یقینی کی کیفیت سے اُسی دن دوچار ہوگیا تھا جب خان لیاقت علی خان کو سرعام گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ قائداعظم کے خوابوں کا خون تو اُسی روز ہی ہوگیا تھا۔خود جناب قائداعظم جب ایک سال گورنر بنے تو اُنہوں نے اپنے مثالی کردار سے ثابت کردیا کہ خطہ پاک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی، ہر مجرم قانون کے کٹہرے میں ہوگا، ہر شہری خواہ وہ کسی بھی طبقہ فکر سے ہو، یکساں قوانین کی پاسداری کا پابند ہوگا۔لیکن پاکستان بننے کے فورا بعد ہی لوٹ مار کرنے والی جمہوریت اور آمریت نے جگہ لے لی، سلسلہ کچھ ایسا شروع ہوا کہ آج تک چلا آرہا ہے، اگرچہ ہمارے سامنے لیاقت علی خان جیسی بڑی مثالیں بھی موجود ہیں جو نواب تھے مگر جب شہید ہوئے تب بھی اپنا ذاتی مکان تک نہ تھا، لیکن ہم نے تو مل جل کر قائداعظم کے خواب کی تعبیر کو یکسر اُلٹ دیا، کیا ہم اپنی نئی نسل اور آنے والی نسلوں کو بتا سکیں گے کہ یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا، نہیں! ہمارے پاس کرسی کے حصول، اپنے حصے وصول کرنے، قرضہ جات لینے، دوسروں کا حق مارنے اور صرف اپنے بارے میں سوچنے کے علاوہ کسی اور بات کو سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ہر طرف کرپشن، سود اور قرضوں کا جال بچھا ہے ہم ایسے رہنمائوں کے گھیرے میں ہیں جنہیں ایک دوسرے کی عزت اُچھالنے کے سوا دوسرا کوئی کام نہیں ہے۔ قائداعظم کا وژن تھا کہ ہماری سوسائٹی نالج بیس ہوگی اور ہم اقوام عالم میں سر اُٹھا کر چلیں گے لیکن تعلیمی میدان کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی اور روزمرہ معاملات میں اپنا کردار ابھی تک بخوبی نہیں نبھا سکے، آج پاکستا ن کا وقار ہماری اپنی اپنی خرابیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مجروح ہوچکا ہے، بیرون ممالک والے ہمیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے، لیکن آخر میں ایک سوال اور بھی ہے کہ ہم نے ساری ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی کیوں ڈال رکھی ہے؟ملک کے نظام کی تباہی و بربادی کے واحد وہی ذمہ دارہیں؟ کیا ہم برابر کے شریک کار نہیں ہیں؟ہم میں اتنا حوصلہ اور جرات ہی نہیں کہ ہم اپنی گریبانوں میں جھانک سکیں، اگر حکومت کرپٹ ہے تو کیا ہم سب کے خون میں اس کرپشن کے وافر جراثیم موجود نہیں ہیں؟ہمیں انفرادی سطح پر خود کو درست کرکے اجتماعی سطح پر کامیابی حاصل کرنی ہوگی، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس وادراک بھی کرنا ہوگا، محض آزادی کافی نہیں اسے اس کی روح کے مطابق برقرار رکھنا بحیثیت قوم ہم سب کا فرض ہے۔

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...