90 دنوں میں

18 اگست 2017

نواز شریف نے کہا کہ 90 دنوں میں ہر کسی کو انصاف ملے گا تو نواز شریف کو بھی اپنے لیے انصاف کی خاطر 90 دن تک انتظار کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان میں نام نہاد جمہوری حکومت توڑنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں یہ کہا گیا کہ پاکستان میں 90 دن کے اندر انتخاب کرا دیے جائیں گے۔ اس کے بعد کئی 90 دن گزر گئے کسی کو یاد بھی نہ رہا۔ مگر 90 دن کی بات نواز شریف کو یاد رہی۔ 90 دن کی بات ان کے سیاسی محسن جنرل ضیاء نے بھی کی تھی۔ نواز شریف کو انصاف یاد آ رہا ہے مگر ان کے انعام یافتہ قریب ترین ساتھیوں کو تحریک انصاف یاد آ رہی ہے۔ زیادہ خطرہ آصف کرمانی، طلال چودھری اور دانیال عزیز سے تھا۔ ان کو وزیر مملکت بنا دیا گیا ہے۔ اور عرفان صدیقی کو شاہد خاقان عباسی کا مشیر لگا دیا گیا ہے۔ پہلے وہ نواز شریف کے مشیر تھے۔ ان کے لیے ایسے موقعے زندگی بھر بنتے رہیں گے۔ مبارک ہو مگر انہوں نے اقتدار میں جانے کے بعد کالم لکھنے بند کر دیے ہیں۔ میری ان سے گذارش ہے کہ وہ کالم لکھا کریں۔ ان کے لیے آسانی ہو گی کہ خاقان عباسی نواز شریف کے نامزد وزیراعظم ہیں۔ شاہد خاقان عباسی سے بھی گذارش ہے کہ وہ نامزدگی کے دائرے سے نکلیں اور وزیراعظم بن جائیں۔
نواز شریف کی جی ٹی روڈ پر ’’پذیرائی‘‘ کا کچھ لوگ بے نظیر بھٹو کی لاہور واپسی پر استقبالی جلوس سے موازنہ کر رہے ہیں۔ یہ موازنہ بنتا نہیں۔ میں لاہور ائر پورٹ سے داتا دربار تک اس فقیدالمثال اور پرجوش جلوس میں شریک تھا۔ شہید بی بی ایک ٹرک میں ساتھیوں کے ساتھ سوار تھیں۔ نواز شریف ایک شاہانہ اور بیش بہا گاڑی (کار) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ شہید بی بی کو ائر پورٹ سے داتا دربار تک اتنا ہی وقت لگا جو نواز شریف کو شاہدرہ سے داتا دربار تک لگا۔ عجیب بات ہے کہ دونوں جلوس داتا دربار جا کے ختم ہوئے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تھا تو نیو ہوسٹل سے تقریباً ہر روز وہاں حاضر ہوتا۔ آج کل بھی کبھی کبھی داتا دربار جاتا ہوں۔ وہاں میرے دوست روحانی خانوادے کے چشم و چراغ برادرم طاہر رضا بخاری محکمہ اوقاف میں ڈائریکٹر ہیں۔ داتا دربار کے ہمسائے میں ان کا دفتر ہے۔ اس کے ساتھ مسجد ہے۔ وہاں سے داتا دربار کا پورا منظر نظر آتا ہے۔ لاہور شہر میں دربار تو صرف یہی ایک ہے۔ حکمرانوں کے دربار تو عارضی اور ظاہری ہوتے ہیں۔ داتا دربار تو عقیدتوں، محبتوں، نیازمندیوں کا صدیوں سے مرکز چلا آ رہا ہے۔
داتا صاحب کے عرس پر بڑی بڑی دور سے قافلوں کی شکل میں لوگ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے اور دھمال ڈالتے ہوئے آتے ہیں۔ داتا صاحب کی قبر مبارک کو سلام کرتے ہیں۔ انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ ہم تو کھینچ گھسیٹ کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ زندہ وہی ہیں جن کی قبر زندہ ہے۔
باہو ایتھے اوہو جیندے قبر جنہاں دی جیوے ہو
بات نسبت کی ہوتی ہے اور نسبت نسب سے زیادہ طاقتور ہے۔ میں یہ بھی کہتا رہتا ہوں کہ عقیدت عقیدے سے زیادہ موثر ہے۔ میرے آقا و مولا رسول کریم حضرت محمدﷺ سے عقیدت نے لوگوں کو دنیا کی بہترین جماعت بنا دیا۔ آج تک تاریخ عالم ایسی مثال لانے سے قاصر ہے۔
یہ بات مجھے یاد آئی کہ لاہوریوں کو داتا صاحب کے ساتھ نسبت میں ایک پناہ محسوس ہوتی ہے۔ لاہور شہر کو اسی نسبت نے داتا نگری بنا دیا۔ ایک شخص مکہ مکرمہ میں بیمار پڑ گیا۔ بہت سادہ آدمی تھا۔ اپنے دوست کو خط میں لکھا کہ داتا دربار جا کے میرے لیے دعا کرو تاکہ میں ٹھیک ہو جائوں۔ مکہ مکرمہ میں موجود اس شخص کے دل میں ایمان کی حرارت موجود ہے اور وہ اپنے عقیدت میں بھی پکا ہے مگر عقیدت کی روشنی اس کے دل میں جلتی ہے۔ داتا صاحب سے عقیدت اللہ کے لیے ہے۔
میں نے کل کے کالم میں ایک امریکی ورلڈ چیمپئن کا ذکر کیا تھا مگر ان کا نام میرے ذہن سے نکل گیا۔ مجھے یہ بھی بھول گیا کہ وہ کس کھیل میں ورلڈ چیمپئن ہوا؟ مجھے میانوالی کے ایک بہت محبت والے پڑھے لکھے دوست غلام حیدر کا فون آیا۔ وہ سٹیٹ بینک میں چیف منیجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس ورلڈ چیمپئن کا نام آرتھر عیش ہے۔ اور وہ ٹینس کا باکمال کھلاڑی ہے۔ کالم ختم کرتے وقت بھی مجھے بار بارخیال آ رہا ہے کہ 90 دنوں کے بعد کیا ہو گا؟ نامور شاعر کرامت بخاری کا یہ شعر کتنا حسب حال ہے۔
زیست کیا کیا سبق سکھاتی ہے
دنیا اکثر یہ بھول جاتی ہے