تفتیشی افسروں کو تربیت دی جاتی ہے نہ ناقص انویسٹی گیشن پر سزا کے بغیر نظام ٹھیک ہوگا : سپریم کورٹ

18 اگست 2017

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے پولیس کے تفتیشی طریقہ کار پر اظہار تشویش کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ تفتیشی افسروں کی کوئی ٹریننگ نہیں کی جاتی۔ ا س دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ ناقص تفتیش پر تفتیشی افسر کو سزا کے بغیر یہ نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اگرپولیس نے تفتیش درست انداز میں نہیں کرنی تو محکمہ پولیس کو ختم کر دیں۔ جسٹس قاضی فائزنے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کی فرض صرف دونوں جانب سے پیسے بٹورنا ہے؟ قومی خزانے کے پیسے خرچ کرکے پولیس اہلکاروں کو وی آئی پی ڈیوٹی پر کیوں لگایا جاتا ہے۔ جسٹس قاضی فائزکا کہنا تھا کہ اتنے اخراجات کے باوجود پولیس کا نظام تباہ ہو چکا ہے، پولیس افسران کو تفتیش کی تربیت ہی نہیں دی جاتی،سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمات نمٹاتے ہوئے ایک ملزم کو بری، 2کی سزاﺅں میں کمی جبکہ دو ملزموںکی بریت کیخلاف درخواستیں خارج کردی ہیں جبکہ تین دیگر ملزموں کی بریت کیخلاف ایک درخواست سماعت کےلئے منظور کرلی گئی ہے۔ پہلے مقدمہ میںعدالت عظمی نے قتل کے ملزم خضر حیات کی سزاعمر قید کم کرکے گیارہ سال کر دی۔ملزم خضر حیات اور اسکے بھائی عمرحیات پر2007 میںسرگودھا کے علاقہ کوٹ مومن میں اپنی بہن امیر بی بی کو قتل کرنے کا الزام تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قتل کے مقدمات میں درست تفتیش نہ ہونے کے حوالے سے کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔گواہ حلف اٹھا کر جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹے گواہوں کی وجہ سے ملزموںکا بری ہونا اللہ کا عذاب ہے۔ سچ میں بڑی طاقت ہو تی ہے ، اس دوران جسٹس دوست محمد خان نے مذاقاً کہا کہ جھوٹ میں بھی بڑی طاقت ہے اس کی وجہ سے کیس سپریم کورٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرے مقدمے میں عدالت عظمی نے گیارہ سال سے پاپند سلاسل ملزم فریاد حسین کو بری کردیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ مقدمہ میں بنائے گئے گواہ سوفیصد جھوٹے ہیں،دفعہ194 کہتی ہے جو جھوٹی گواہی دے اسے عمر قید کی سزا دے جائے جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں ائیکورٹ خود کہتی ہے کہ سچ چھپایا گیا جب سچ نہیں بولا گیا تو ہائیکورٹ کو ملزم کو بری کر دینا چاہیے تھالیکن ہائیکورٹ میں بری کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ آخر کب تک اسطرح ہم سنتے رہیں گے کہ گواہ جھوٹے ہیں ۔تیسرے مقدمہ میں عدالت نے سرگودھا میں مالٹے توڑنے کے تنازعہ میں کلیم اللہ نامی شخص کو قتل کرنے والے ملزم شبریز عرف صالحی کی عمر قید میں کمی کرکے 13سال قید کردی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا ہے ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سیشن جج نے جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال قید کی مزید سزابھی متعلقہ قانون پڑھے بغیر سنادی اس قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا چھ ماہ ہوتی ہے اور ہائیکورٹ نے بھی اس پر اسی طرح مہر لگادی جج کوسزا دینے سے پہلے مذکورہ شق تو پڑھ لینی چاہیے تھی۔