کرپٹ افسران کی بحالی پر برہمی ، لگتا ہے معاشرے میں اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل گیا : چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

18 اگست 2017

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ نے کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کی بحالی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ سے جواب طلب کرلیاہے۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے کرپٹ افسران کی رضاکارانہ رقم واپسی اور عہدوںپر بحالی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے معاشرے میں اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کروڑوں روپےکی کرپشن کرنے والے افسران کو کیسے عہدوں پر بحال کردیا گیا؟، کروڑوں روپے واپس کرنے کا مطلب تو اعترافِ جرم ہے۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس افسر غلام مصطفی اور محمد نذیر نے 80 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کی۔دوسری جانب ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ غلام مصطفی اور محمد نذیر نے رضاکارانہ طور پر رقم واپسی کی درخواست دے دی ہے اور انہیں عہدوں پر بحال کردیا گیا ہے۔عدالت نے کرپٹ افسران کو سرکاری عہدوں پر بحال کرنے پر چیف سیکرٹری سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا بتایا جائے کرپٹ افسران کو سرکاری عہدوں پر کیسے بحال کردیا گیا اور کروڑوں روپے ہڑپ کرنےوالے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟۔ عدالت نے ملزمان کی رضاکارانہ رقم واپسی کی درخواست پر نیب کو بھی نوٹس جاری کردیئے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سندھ میں کرپشن کی رقم رضاکارانہ واپسی کے بعد بحال کیے گئے تمام سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...