مجلس قائمہ قومی صحت کے اجلاس میں ہنگامہ، کلثوم پروین کا واک آوٹ

18 اگست 2017

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ)سینٹ کی مجلس قائمہ برائے قومی صحت کے اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واضح کیا ہے کہ جو میڈیکل کالجز مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے کام نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ پرائیویٹ کالجز مالکان فیسیں بڑھانے پرزور دے رہے ہیں ۔وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے والے بچوں کو علم ہوتا ہے کہ کالج رجسٹرڈ ہے یا نہیں نئے بننے والے بارہ میڈیکل کالجز کا مکمل پوسٹ مارٹم کیا جائے گا ۔ فیسوںکے معاملہ پر ڈی جی ہیلتھ کا موقف تھا کہ انڈیا میں بھی بیس لاکھ روپے فیس وصول کی جا رہی ہے ۔کمیٹی نے شفاءانٹرنیشنل میڈیکل کالج کی جانب سے داخلہ ٹیسٹ کی مد میں فی طالبعلم چھ ہزار روپے وصول کئے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اگر شفا میڈیکل کالج طلبا سے وصول کئے گئے پیسے واپس نہیں کرتا تو اس کے داخلے بند کر دیئے جائیں ،کمیٹی میں امراض قلب میں استعمال ہونے والے اسٹنٹ کی قیمت دو ماہ کے اندر مقرر کرلی جائے گی ڈریپ سی ای او نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹنٹنس کی قیمت کے لیے صوبوں کے ساتھ معاملات چل رہے ہیں اس کو جلد از جلد حل کیا جائے گا جب کہ کمپنیوں کی رجسٹریشن آن لائن بھی رکھی گئی ہے جو کہ ڈریپ کی ویب سائٹ سے با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔وفاقی وزیر قومی صحت نے کمیٹی کو کہا کہ وہ سفارش کرے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافہ کیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم غریب لوگوں کے نمائندے ہیں ہم کیسے فیسوں میں اضافہ کی منظوری دیں ،ہمیں پہلے بریفنگ دی جائے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالج کے اخراجات کتنے ہیں پھر فیسوں کے بارے میں سوچا جائے گا ،کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ لاجز میں سجاد طوری کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل اور وزارت اعلی عہدیداران نے شرکت کی ،کمیٹی اجلاس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر عتیق شیخ نے کہا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں دی جانے والی ادویات پر 25 فیصد اضافی رقم وصول کی جاتی ہے ،جس پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے جس پر سی ای او ڈریپ اسلم افغانی نے کہا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس کے لیے کمیٹی اسلام آباد انتظامیہ کو طلب کرے جس پر چئیر مین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں کمشنر اسلام آبا د اور سیکرٹیری کیڈ کو بلایا جائے ،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اسد حفیظ نے کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی اٹانومس باڈی ہے وہ اپنے فیصلے خود کرکے کمیٹی کا آگاہ کر دے گی جس پر سینٹر خالدہ پروین نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ پی ایم ڈی سی نے کرنا ہے تو ہمارا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں پھر وہ خود ہی سب کچھ کر لیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے قائمقام صدر نے شفاءانٹرنیشنل کی جانب سے فیسیں بڑھائے جانے کے حوالہ سے اس بات کی تصدیق کی کہ شفا انٹرنیشنل کالج نے اضافی فیسیں وصول کی ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی بنتی ہے جس پر کمیٹی نے سفارش کی کہ جب تک وصول کی گئی اضافی فیسیں طلباءکو واپس نہیں کی جاتیں اس وقت تک ان کو نئے داخلے نہ کرنے دیئے جائیں۔ سینٹر کلثوم پروین نے بولنے کا موقع نہ دینے پر کمیٹی کا بائیکاٹ کر دیا بعد میں اشوک کمار کہنے پر واپس آ گئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر کمیٹی سفارش کرے تو نئے میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن کو جلد مکمل کر لیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر آغا خان میڈیکل کالج بیس لاکھ فیس لے رہا ہے تو پی ایم ڈی سی کا مقصد کیا ہے ۔ اس پر آپ لوگوں کو کیا تکلیف ہے اس پر کمیٹی کے اجلاس میں ہنگامہ ہوگیا ۔ وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہاکہ اگر آپ لوگوںکا یہی رویہ رہا تو میں کمیٹی کے اجلاس میںنہیں آﺅں گی ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...