سپریم کورٹ نے پی پی 4گوجرخان میں ضمنی الیکشن عبوری طور پر روک دیا

18 اگست 2017

اسلام آباد( نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 4 گوجرخان سے مسلم لیگ ن کے امیدوار شوکت عزیز بھٹی سے متعلق الیکشن ٹربیونل کانااہلی کافیصلہ برقراررکھتے ہوئے حلقہ میں مجوزہ ضمنی الیکشن کوعبوری طورپر روکنے کاحکم جاری کر دیاہے اور ہدایت کی ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں شوکت عزیز بھٹی کی تعلیمی دستاویزات تصدیق کے بعد عدالت میںپیش کرے، جبکہ عدالت نے الیکشن کمیشن سے کیس سے متعلق کی گئی تحقیقات بھی طلب کرتے ہوئے سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے، دوران سماعت عدالت نے قرار دےا کہ یہ کسی ایک فرد کامعاملہ نہیں اس کیس کے فیصلے کے اثرات دوسرے مقدمات پربھی پڑسکتے ہیں ۔ بروزجمعرات چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا آرٹیکل 225کے تحت کسی رکن اسمبلی کی نااہلی کامعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جانا چاہیے تھا ، کیا روپا ایکٹ کے سیکشن 103اے کے تحت الیکشن کمیشن کویہ کیس سننے کا اختیار حاصل ہے ،جس پر مدعاعلیہ کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار حاصل ہے ، اصل معاملہ یہ ہے کہ درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی میں بی اے تعلیم ظاہرکی تھی، اگر وہاں صحیح مانیٹرنگ ہوتی توایسا نہ ہوتا ، سابق رکن نے اپنے کاغذات نامزدگی میں تعلیم بی اے لکھی ، لیکن جب حقائق سامنے آگئے توانہوں نے اپنا بیان بدل دیا۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ پر بھی تعلیم بی اے لکھی ہے،چیف جسٹس نے ان سے کہا اس کیس کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینا ہوگا ، کیونکہ یہ مخص ایک کیس نہیں بلکہ اس کے فیصلے کے اثرات باقی مقدمات پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں عدالت کو اراکین کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیارکے بارے میںمزید دلائل دئیے جائیں۔