انجمن فیض الاسلام معاشرتی اصلاح اور قومی تعمیر نو کا کام بھی ذمہ داری کےساتھ ادا کر رہا ہے، ڈاکٹر انعام الرحمن

18 اگست 2017

راولپنڈی ( اپنے سٹاف رپورٹر سے) انجمن فیض الاسلام کے تعلیمی و تکنیکی ادارہ جات کے اساتذہ کےلئے سات روزہ سالانہ تجدیدی کورس برائے سال 2017 ءاختتام پذیر ہو گیا ہے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ملک کے معروف ایٹمی سائینسدان ڈاکٹر انعام الرحمن تھے جبکہ اس موقع پر انجمنفیض الاسلام کے صدر محمد صدیق اکبر میاں ، انجمن فیض الاسلام کے جنرل سیکریٹری راجا فتح خان ، پروفیسر نیاز عرفان ، انجنئیر مظفر اقبال ، فیض الاسلام ماڈل سیکنڈری سکول فیض آباد کے پرنسپل غلام جیلانی ، ایف ٹی ٹی آئی کے پرنسپل انجنئیر محمد اکمل ، کیمپس منیجر محمد اسلم ، ایف آئی ٹی مندرہ کے پرنسپل اور اساتذہ کرام کی بڑی تعداد اس موقع پرموجود تھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر انعام الرحمن نے کہا کہ انجمن فیض الاسلام محض یتامی کی پرورش کا ادارہ ہی نہیں بلکہ یہ یتیم اور لاوارث بچوں کی اسلامی اصولوں کے عین مطابق تعلیم وتربیت اور شخصیت و کردار سازی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح اور قومی تعمیر نو کا کام بھی انتہائی ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اپنے اپنے تعلیمی و تکنیکی ادارہ جات کے اساتذہ کرام کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کےلئے ہر سال تربیتی کورسز کا اہتمام کرتا ہے جو اپنی مثال آپ ہے انہو ںنے کہا کہ اگر اساتذہ کرام جدید طریقہ ہائے تدریس سے لیس ہوں تو وہ اپنے طلبہ کو معاشرے کا مفید اور ذمہ دار شہری بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں موثر طریقے سے تعلیم دے سکتے ہیں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت میں وہ کشش اور وقار پیدا کریں جو بچوں کو ان کا گرویدہ کر لے اور وہ بچوں کے اندر حصول تعلیم کا شوق پیدا کریں صدر انجمن محمد صدیق اکبر میاں نے اپنے خطاب میں بچوں کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ اور والدین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت اور شخصیت و کردارسازی پر بھر پور توجہ دینی چائییے اور انہیں اعلی اسلامی اوصاف حمیدہ سے متصف کرکے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنی چائییے جو نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ ہو انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام کےلئے تربیتی ورکشاپ کا مقصد اساتذہ کرام کو ان صلاحیتوں اور خوبیوں سے لیس کرنا ہے جو بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت میں ممد و معاون ہوں محمد صدیق اکبر میاں نے پاکستان کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ ایک یکساں قومی تعلیمی پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی تعلیمی ادارے ، مدارس اور عام تدریسی ادارے ہمارے ملک میں طبقات پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں جہاں اسلام کے بتائے ہوئے اخلاق حسنہ کی تعلیم کو یا تو سرے سے اہمیت ہی نہیں دی جاتی یا اسے ثانوی درجے پر رکھا جاتا ہے سنئیر نائب صدر انجمن ڈاکٹر ریاض احمد نے اپنے خطاب میں اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنا کر انہیں حصول تعلیم پر مائل کریںاور سوالات پوچھنے پرطلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو اسلام کے ساتھ ساتھ نظریہ و تحریک پاکستان کے پورے پس منظر سے آگاہ کریں اور ان کے اندر جذبہ حب الوطنی کو فروغ دیں اس موقع پر ناظمہ تعلیمی ادارہ جات اظہار فاطمہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا بعد ازاں ڈاکٹر انعام الرحمن نے محمد صدیق اکبر میاں ، ڈاکٹر ریاض احمد اور مہمانوں کے ہمراہ تربیت مکمل کرنے والے اساتذہ کرام کو اسناد دیں