عمر اکمل - بگڑا بچہ یا!

18 اگست 2017

پندرہ اگست کو دوپہر ایک بجکر چالیس منٹ پر ہمارے موبائل پر کال آتی ہے خبر دینے والے دوست بتاتے ہیں کہ چیک کریں عمر اکمل اور مکی آرتھر کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ناصرف پریکٹس کرنے سے روک دیا ہے بلکہ انہیں برا بھلا بھی کہا ہے۔ خبر کی تصدیق کے لیے ہم نے واقفان حال سے رابطہ کیا۔ تصدیق ہو جاتی ہے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ عمر اکمل مکی آرتھر کے خلاف میڈیا میں جا رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کریں گے اور اپنا کیس میڈیا کے ذریعے کرکٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے بھی رکھیں گے۔
سولہ اگست کو عمر اکمل نے ماڈل ٹاون کرکٹ سنٹر مین ہریس کانفرنس بھی کی۔ مکی آرتھر کو آڑے ہاتھوں لیا، بتایا کہ سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں ہیڈ کوچ نے نازیبا الفاظ کہے، مکی آرتھر نے ڈانٹنے کا اعتراف کیا، کلب کرکٹ کھیلنے کا مشورہ بھی تسلیم کیا تاہم نازیبا الفاظ کہنے کا الزام مسترد کیا، عمر اکمل کی طرف سے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے ساتھ نیٹ پریکٹس کا مطالبہ بھی مکی آرتھر نے پورا نہ کیا اور بلے باز سے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں ہیں۔
یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ عمر اکمل نیشنل کرکٹ اکیڈمی پریکٹس کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے کوچنگ سٹاف سے غصیلے انداز میں بات کی۔ عمر اکمل نے جس پر غصہ نکالا اس نے مکی آرتھر کو شکایت کی پھر ہیڈ کوچ ایکشن میں آئے انہوں نے بھی عمر اکمل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جبکہ عمر اکمل کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر نے انضمام الحق اور مشتاق احمد کے سامنے سخت اور نازیبا زبان استعمال کی۔ عمر اکمل یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں مکی آرتھر اور ان کا کوچنگ سٹاف ایک عرصے سے سائیڈ لائن کر رہا ہے لیکن کبھی کچھ نہیں کہا۔ معاملہ عزت کا ہے‘ میں خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ اب کرکٹ بورڈ انہیں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے وہ سات دن کے اندر اندر اپنا جواب جمع کروائیں گے۔ نئے چئیرمین نجم سیٹھی کے لیے بھی یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسے سلجھاتے ہیں۔ ایک طرف غیر ملکی کوچ ہے تو دوسری طرف اپنا کھلاڑی ہے۔
جہاں تک تعلق عمر اکمل کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس سے روکنے کا ہے تو مکی آرتھر اسکا اختیار نہیں رکھتے۔ انہین کھلاڑیوں کے ساتھ غیر ضروری سختی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی کرکٹر ٹریک سے اترا ہوا ہے تو اسے سدھارنے کی ذمہ داری کوچنگ سٹاف کی ہے۔ ایسا کھلاڑی جو پہلے ہی مشکلات میں گھرا ہو، مضطرب اور بے چین ہو اسے الجھنوں سے نکالنے کا راستہ اختیار کرنا بہتر ہے یا پھر پابندیاں لگانا اور تذلیل کرنا؟؟؟غیر ملکی کوچنگ سٹاف پاکستان کے کرکٹر ز کے لئے ہے اور عمر اکمل کا تعلق بھی پاکستان سے ہے ۔ کوچنگ سٹاف کیلئے ضروری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی مدد کریں نہ کہ ان کے ساتھ جنگ کی صورت حال پیدا کریں۔
مکی آرتھر کے غیر ضروری سخت رویے کا شکار فاسٹ باولر سہیل خان بھی ہوئے ہیں جنہیں ہر طرح کی کرکٹ میں بہترین کارکردگی کے باوجود قومی ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔ غیر ضروری بیانات اور تنازعات کے معاملے میں مکی آرتھر اور عمر اکمل کا ماضی ایک جیسا ہی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا نے مکی آرتھر کو برطرف کیوں کیا،انکی کوچنگ کے دور آسٹریلوی ٹیم دھڑے بندی کا شکار کیوں ہوئی، مکی آرتھر نے میچ فکسنگ کے معاملے میں پاکستانی ٹیم کے بارے جو الفاظ ادا کیےبوہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اگر ہم عمر اکمل کو بگڑا بچہ قرار دے سکتے ہیں تو ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مکی آرتھر کو بھی کلین چٹ نہیں دی جا سکتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہیڈ کوچ کے قومی سلیکشن کمیٹی کے ساتھ بھی تعلقات اچھے نہیں ہیں چیف سلیکٹر انضمام الحق اس بارے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ عمر اکمل کے ساتھ ڈسپلن، فٹنس اور کارکردگی سے متعلق کوئی رعایت نہیں کی جانی چاہیے تو مکی آرتھر کی حدود کا تعین بھی ضروری ہے۔ ان سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ قومی ٹیم مسلسل ٹیسٹ میچز ہار رہی ہے اسکا ذمہ دار کون ہے؟؟؟
عمر اکمل کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹگری میں ہوں یا بی،سی ڈی میں یا سینٹرل کنٹریکٹ میں سرے سے شامل ہی نہ ہوں خبروں میں ہمیشہ وہ اے پلس کیٹگری میں رہتے ہیں۔ کبھی ٹریف وارڈن کے ساتھ الجھنے کی وجہ سے خبروں میں آ جاتے ہیں تو کبھی انکی کسی اداکارہ کے ساتھ جھگڑے کی خبر سننے کو ملتی ہے، کبھی ڈانس کرتے ہوئے انکی ویڈیو ہیڈ لائنز میں جگہ بناتی ہے تو ساتھی کھلاڑی کے ساتھ کسی مسئلے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ ان تمام منفی خبروں کے ساتھ انکی طرف سے اچھی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ کبھی ایس او ایس ویلج کا دورہ کرتے ہیں تو کبھی شوکت خانم ہسپتال کے مریض بچوں کے ساتھ وقت گذار کر ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔ یوم آزادی پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیر اہتمام تقریب میں موجود رہے۔ یہ ان کی ذات کے مختکف پہلو ہیں۔ وہ ان دنوں اپنے کیرئیر کے مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ کرکٹ بورڈ نے انہیں فارغ کروا دیا ہے۔ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے ساتھ ان کے اختلافات پیشہ وارانہ حد سے نکل کر ذاتی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ دونوں کے مابین جنگ میں عمر اکمل کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ وہ جس حد تک گئے ہیں مستقبل میں انہیں اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جب آپ سلیکشن کمیٹی، کوچنگ سٹاف اور بورڈ آفیشلز سب کو اپنا مخالف بنا لیں گے تو کرکٹ کیسے کھیلیں گے۔ اب ان کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ بیانات کا سلسلہ روکیں، نئے ڈومیسٹک سیزن کی تیاری کریں،لمبی لمبی بڑی بڑی اننگز کھیلیں، بہترین فٹنس اور کارکردگی کے ذریعے سب کے دل و دماغ جیتیں۔وہ اپنے راستے میں خود رکاوٹیں پیدا نہ کریں تو انکا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ انکی پوری توجہ اب صرف اور صرف کرکٹ پر ہونی چاہیے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔