ہم زندہ قوم ہیں!

18 اگست 2017

ہماری قوم ابھی چند روز قبل آزادی کا سترواں جشن منا کر فارغ ہوئی ہے جب سے بہت سی چیزوں کے دن منائے جانے لگے ہیں اور رشتوں کے ساتھ ساتھ جذبات کے اظہار کیلئے بھی دن منائے جاتے ہیں اسی طرح جشن آزادی کا جشن بھی ایک روز خوب دھوم دھام بلکہ دھوم دھڑکے کے سے منایا جاتا ہے۔
اب تو اکثر تہوار ان کی روح کے مطابق منانے کی بجائے ہر شخص اپنے مطلب اور ذوق و شوق کے ساتھ مناتا دکھائی دیتا ہے۔ 14اگست ہو یا 23مارچ یہ دونوں تجدیدِ عہد اور عزمِ صمیم کے دن ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں جن کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد ملک میں رہنے کے قابل ہوئے ہیں ورنہ تو مسلم ممالک میں ہونے والے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف کوئی آوازاُٹھاتا بھی نظر نہیں آتا۔
ہمیں آزادی جیسی نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور آزادی کا جشن اس کی پوری روح کے ساتھ منانا چاہئے نہ کہ صرف ایک دن کی آزادی کیلئے دوسروں کی آزادی پر حرف آئے یا ان کی دل آزاری نہ ہو۔ کہنے کو تو ”ہم زندہ قوم ہیں “ کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن اپنے افعال اور اعمال سے اس کا ثبوت دیتے دکھائی نہیں دیتے۔ کیا موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر اور گاڑیوں میں اونچی آواز میں ڈیک لگا کر ہم آزادی کا جشن مناتے رہیں گے۔ یا اس آزادی کی نعمت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنا کوئی عملی کردار بھی ادا کریں گے۔ہم آزادی کا 70 واں جشن منا چکے ہیںلیکن ذہنی ا ور فکری طور پر ہم اب بھی ایک غلام قوم ہیں ۔ہمارے ملک کے عوام ابھی تک بے گھر اور بے سروسامانی کے مسائل سے نبرد آزما ہیں، ہم آزادی کے ترانے گا رہے ہیں لیکن ہمارے نوجوان ابھی تک بےروزگاری کی زنجیروں میں جکڑے ہاتھوں میں ڈگریاں اورآنکھوں میں خواب لئے دربدر کی
ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہماری عدالتیں آزادی کا ثبوت دیتے ہوئے آزادانہ فیصلے کر رہی ہیں لیکن ہمارے حکمران سڑکوں پر اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کا رونا رو رہے ہیں ہم کہنے کو تو ایک آزاد ملک کے باشندے ہیں لیکن اپنے ہی ملک اور اپنے ہی شہروں میں جگہ جگہ لگے ناکوں پر اپنی شناخت کروانے پر مجبور ہیں۔کاش ہمارے حکمران اور ہمارے سیاستدان اس ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کریں۔ ملک کی سلامتی پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں۔ سیکورٹی کے معاملات پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے لیکن عوام کی مشکلات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے ۔ ملک کے مختلف شہروں کے مختلف علاقوں میں جہاں بھی شہریوں کو کسی بھی ادارے کی طرف سے شناخت کیلئے روکا جاتا ہے وہاں ان کی آسانی کو بھی مدنظر رکھا جائے اور ان مقامات پر تعینات اہلکاروں کو شہریوں کی عزت نفس کے خیال کا خصوصی طور پر پابند بنایا جائے کیونکہ مختلف عوامی حلقوں کی طرف سے بارہا اس قسم کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ شناخت کے نام پر عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی شناخت اور ٹریفک کے نظام میں خاصی بہتری دیکھنے میں آتی ہے اسی قسم کی صورت حال اپنے ملک میں بھی نظر آنی چاہئے تاکہ عوام کا اپنے ملک کے اداروں پر اعتماد بھی قائم رہے اور اداروں کی افادیت بھی برقرار رہے۔ائیرکنڈیشنڈ دفاتر اور گاڑیوں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والوں کو شدید گرمی میں ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں اور شناخت کے جانگسل مراحل سے گزرنے والی عوام کی سہولیات کیلئے بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئےںجس سے ان کےلئے پریشانی کی بجائے آسانی نظرآئے اور ان کی عزّت نفس بھی بحال رہے۔ خدارا! اس قوم کونقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ فکر و سوچ کی آزادی بھی دیجئے اورخود سے بنائے ہوئے اُصولوں کی غلامی سے بھی نجات دلائیے قوم کو بادشاہت کی غلامی سے نکلا کر آزادی جمہور دیجئے اور جمہوریت سے آمریت کے عنصر کو نکال کر جمہوری اداروں کو پروان چڑھنے دیجئے۔ آج ہم اس ستر سالہ پاکستان کو اگر ایک تناور درخت اور شجرسایہ دار بنانے میں اپنا کردار ادا نہ کر سکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
٭٭٭٭٭٭٭