ہمیں سنسنی نہیں چاہئے

18 اگست 2017

کمرے میں داخل ہوتے ہی میرے کانوں میں ایسی آواز پڑی کہ7دسمبر2009 ء کی ایک المناک شام کا منظر آنکھوں کے سامنے آگیا اور پورا وجود خوف اور درد سے لرزاُٹھا،وہ قیامت خیز منظر وہ ہرسمت نفسا نفسی کا عالم ، ہر ذی روح اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا۔ حدِ نظر آگ ہی آگ ، شعلے ہی شعلے ، خون ہی خون ، شور ہی شور ، آہیں ہی آہیں، چیخیں ہی چیخیں، آنسو ہی آنسو ۔بیان سے باہر ہے وہ منظر ۔
چند لمحے قبل کتنے ہی خوبرو نوجوان ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرتے گھوم رہے تھے ، کتنے ہی بوڑھے اپنے مستقبل کے سہاروں کی اُنگلی تھامے بازار کے ساتھ ملحق پارک کی سیر کو آئے ہوئے تھے کتنی معمر خواتین جوان بہو بیٹیوں کے ساتھ محفوظ سائے کے روپ میں بازار کی چھوٹی چھوٹی تنگ اور مصروف گلیوں میں اشیا ئے خو رد و نوش خریدنے میں مصروف تھیں ۔ کوئی گھریلو استعمال کی اشیاء کی خریداری میں مشغول تو کوئی پہناوے کی تبدیلی کی خواہش لئے کپڑوں کی دکانوں کا رُخ کیے ہوئے تھا۔دھوپ سے بچائو کیلئے چشمے کے سٹال پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کا رش ، سموسے اور آلو کی چپس بنانے والے کی ریڑھی پر بچوں کی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ۔پان سگریٹ کی دُکان ، برتنوں اور ریڈی میڈ کپڑوںکے سٹال، مصنوعی زیورات ہوں یا اصلی سونے چاندی کی دوکانیں، بیوٹی پارلر سے لیکر لنڈے کے کپڑوں کے ڈھیر تک جدھر دیکھو لوگ ہی لوگ تھے۔ میری دو سال کی ننھی منھی بیٹی میرے بازو پر تھی۔ اتنے میں مجھ سے کوئی تیس فٹ دورایک زور دار دھماکہ ہوا میں ہوا میں اچھلا اور تیزی سے زمین بوس ہو گیا ۔ بیٹی معجزانہ طور پر محفوظ میرے سینے سے چمٹی ہوئی تھی ۔ کچھ ساعتوں تک مجھے کوئی ہوش نہ تھا ملے جلے شور نے میرے کچھ حواس بحال کیے اور مجھے بیٹی کا خیال آیا جلدی سے اسکو دیوانہ وار ٹٹولنا شروع کر دیا۔ اس کے منہ سے پاپا سنتے ہی مجھے یوں لگا جیسے قارون کا خزانہ مِل گیا ہو۔ جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی تو بائیں کندھے سے ایسی تکلیف اُٹھی کہ بے اِختیار چیخ نکل گئی۔ جیسے تیسے اُٹھا اور باقی اہلِ خانہ کی تلاش کو دیوانہ وار دوڑا ۔ابھی چند قدم چل کر دوسری طرف گلی میں داخل ہی ہوا تھا کہ پہلے سے زیادہ شدت سے ایک اور دھماکہ ہوا اور کوئی چیز پورے زور سے میری بائیں ٹانگ پر آکر لگی اور میں دیوار پر جا لگا۔ میرے رفتہ رفتہ بے جان ہوتے وجود نے رہی سہی طاقت جمع کر کے بیٹی کو زور سے سینے سے چمٹا لیا۔ میری بیٹی خوف سے گنگ تھی اور اب مجھے موت صاف نظر آرہی تھی آخری سوچ بس یہ تھی کہ اس معصوم کو کوئی محفوظ جگہ مل جائے اس کو کسی دوکان ، تہہ خانہ ، یا کسی دوسری جگہ منتقل کر دوں ۔ مگر اندھیرے ، شعلوں ، دھوئیں اور لوگوں کی چیخ و پکار میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اتنے میںنامعلوم سمت سے ایک غیبی ہاتھ نے مجھے سہارادیا اور دوسری جانب پارک کی طرف دھکیل دیا ۔ میری بیٹی کے منہ سے آواز آئی ـ ماما، اور میری نقاہت اور تکلیف سے بند ہوتی آنکھوں کو اہلِ خانہ کی روتی بلکتی صورتیں مدہم سی نظر آئیں ۔ میں نے اہلِ خانہ کو آواز دی اور زمین پر بے ہوش ہو کرگر پڑا۔ جب ہوش آیا تو میرے ہاتھ نے ایک مانوس سا لمس محسوس کیا۔ پورا وجود درد سے چور چور تھا بصارت سے پہلے سماعت بحال ہوئی اور مجھے والدِ محترم کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر محسوس ہوا ۔ بہت کوشش کر کے آنکھیں کھولیں تو خود کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں پایا۔آنکھیں کھلنے کی دیر تھی کہ مجھے بستر کے اِرد گرد ویڈیو کیمرے اٹھائے ہاتھوں میں مختلف ٹیلی ویژن کے ناموں کے ٹیگ لگائے ’’سب سے پہلے ہم ‘‘ کی دوڑ جیتنے کی کوشش میں میڈیا رپورٹرزمجھ پرچڑھ دوڑے اورمیںسخت الجھن میں چیخ چیخ کر رو پڑا۔قصّہ مختصر تقریباً دس دن بعد گھر منتقل ہو گیا ۔ یہ واقعہ میرے یا کسی دوسرے افسانہ نگار کے افسانہ یا کہانی کا اقتباس نہیں ہے۔ مون مارکیٹ لاہور میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دھماکوں کی حقیقی روداد ہے جو میرے اپنے ساتھ بیتی ۔ ایک پروفیشنل سائیکالوجسٹ ہونے کے باوجودبہت سے دردناک مناظر کو سپرد قلم کرنا بس سے باہر ہے۔ موضوع کی مناسبت اور بر سبیلِ تذکرہ اس تلخ حادثے کا کچھ حصّہ رقم کیا ہے۔ وہ آواز جس نے یہ سارا حادثہ یاد کرا دیاوہ ٹی وی کی بریکنگ نیوز کا بیک گراونڈ میوزک تھاجو اسی دھماکے کی آواز سے مکمل مماثلت رکھتاہے۔ میری وہی بیٹی آج پانچویں کلاس کی طالبہ ہے مگر یہ بریکنگ نیوز کا بیک گراؤنڈ میوزک میری طرح اسے بھی وہ سب یاد کرا دیتا ہے حالانکہ اس کی وہ عمر صرف حواس کی عمر تھی ذہنی ترویج کا تو ابھی آغاز بھی نہ ہوا تھا۔ وہ آج بھی کہتی ہے ’’ آگ لگی ہوئی تھی، لوگ بھاگ رہے تھے،سب مر گئے تھے۔‘‘
علمِ نفسیات کے مطابق کسی بھی حادثے کے بعد اس کے اثرات زندگی بھر کیلئے ذہن میں محفوظ ہو جاتے ہیں اور ملتی جلتی صورتحال میں وہ شعوری سطح پر اُبھر آتے ہیں اور اِنسان وہی تکلیف، وہی درد محسوس کرنے لگتا ہے۔