سابق وزیراعظم کا سفر

18 اگست 2017

28جولائی 2017کو کروڑوں عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا۔پانچ معزز ججوں نے یک جنبش قلم اثاثے چھپانے کے الزام میں فیصلہ صادر کیا کہ جناب اب آپ صادق اور امین نہیں رہے۔ججز کے مطابق سابق وزیراعظم اپنے بیٹے کی کمپنی کے چیئر مین تھے، اگرچہ انہوں نے تنخواہ نہیں لی لیکن چونکہ وہ تنخواہ لے سکتے تھے، اس لیٗے وہ انکا اثاثہ تھی اور انہوں نے اس اثاثے کو ظاہر نہیں کیا اس لئے نااہل۔ جناب نااہل۔ ایک دو دن کے لیے نہیں تاعمر نا اہل۔سابق وزیراعظم نے اس فیصلے پر عملدرامد کیا مگراسکو قبول نہیں کیا۔عہدہ چھوڑ دیا نیا وزیراعظم منتخب کیا اس نے پارلیمنٹ سے اکثریتی ووٹ لیا۔کابینہ بنائی گئی اور ملک میں جمہوری نظام اسی طرح چلنا شروع ہوگیا۔
سابق وزیراعظم نے اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عہدہ تو چھوڑ دیا لیکن پھر اپنی عوامی عدالت سے رجوع کیا۔نواز شریف نے 9 اگست کو بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آبادسے لاہور کی جانب رخت سفر باندھا۔چار گھنٹوں کا یہ سفر چار دن بعد داتا دربا پر جاکر ختم ہوا۔اس سفر سے پہلے بہت سے خدشات تھے۔دہشت گردی کے بہت سے واقعات سے ڈرایا جارہا تھا۔آخری وقت تک بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ شاید سابق وزیراعظم اپنا ارادہ تبدیل کر لیں۔لیکن جب ایوان اقتدار سے گھر کی طرف واپسی کا سفر شروع ہوا اس نے سوچ کے بہت سے دروا کردیئے۔اسلام آباد سے لاہور کے راستے پر جس طرح لوگوں نے سابق وزیراعظم کا استقبال کیا اس نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔لوگوں نے دہشت گردی سے ڈرائے جانے والے تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے قائد کو خوش آمدید کہا۔پھولوں کی پتیاںنچھاور کیں،سخت حبس اور گرمی میں کھڑے رہ کر اپنے قائد کی جھلک دیکھنے کے لئے گھنٹوں انتظار کیا۔ عوام نے چندمیڈیا گروپس کے تمام تر پروپیگنڈے کو اپنے پاوں تلے روندتے ہوئے قائد کی آواز پر لبیک کہا۔جس جگہ بھی وزیراعظم نے خطاب کیا انہوں نے لوگوں سے پوچھا کیا آپ نے اس فیصلے کو قبول کیا تو سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ نہیں۔ نہیں ۔ نہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ کرپشن کے درجنوں الزامات اورہر روز کے میڈیا ٹرائل کے بعد جب سابق وزیراعظم کو اس ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی نااہل قرار دیے دیا تو پھر جب ایک نا اہل اور کرپٹ وزئر اعظم نے اپنا سفر شروع کیا تو عوام کیوں جوق در جوق کیوں نکلے؟ کیا ان الزامات کے بعد عوام کو انکو مسترد نہیں کر دینا چاہئے تھا؟ کیا نا اہلی کے بعد ان کونظروں سے گر نہیں جانا چاہیے تھا۔لیکن حیرت تو تب ہوئی جب عوام نے تو انکو پہلے سے زیادہ گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ۔ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیا ،ان کی گاڑی کو چوما، اس کی نااہلی پر روئے ،اپنے آپ کو زخمی کیا۔کیوں ؟ کس لئے؟ اس لئے کہ عوام اس سارے تماشے سے تنگ آچکی ہے۔عوام جان چکی ہے جن کو آپ منتخب کرکے بھیجتے ہو ان کو یا تو کام نہیں کرنے دیا جاتا اور اگر کوئی کام کرنے لگ جائے تو اس کو اسی طرح کے الزامات لگا کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔
کیا حق حکمرانی اس عوام کا نہیں ہونا چاہئے؟ جو اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے کسی شخص کو حکومت میں بھیجتے ہیں تو نکالنے کو حق بھی اس عوام کو ہی ہونا چاہئے۔کیوں یہ حق ان سے چھین لیا جاتا ہے؟کیوں کوئی آمر آکر بتاتا ہے آپ ذہنی طور پر اس قابل نہیں کہ کسی کو چن سکیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ حکومت کیسے کرنی ہے۔ستر سال ہوچکے ہیں اس ملک کو بنے ہوئے۔ اب تو عوام بھی یہ پوچھتی ہیں کہ کیا ستر سال میں کوئی ایک بھی وزیراعظم نہیں صحیح آیا، سارے ہی کرپٹ ،سب ہی غدار۔کیا حب الوطنی کی سند دینے کا ٹھیکہ صرف چند لوگوں کو دے دیا گیا کہ جس کو چاہیںمحب الوطن قرار دے کر اقتدار بخش دیا جائے ۔جو عوام بھی سابق وزیراعظم کے لئے نکلے ان کو پتا تھا کہ وہ کیوں آئے ہیں ۔ان کے ذہنوں نے یہ بات قبول کرلی تھی کہ ان کے لیڈر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔وہ اس بات کو بھی ماننے شروع ہوچکے ہیں کہ ہمیشہ ہمارے ووٹوںکی تذلیل ہی کیوں ہوتی ہے۔ہمیشہ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے کہ جس کو ہم منتخب کرتے ہے وہ عیب دار نکل آتا ہے۔کبھی کسی وزیراعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔کسی کو جلا وطن کردیا جاتا ہے۔کبھی کسی کو شہید کردیا جاتاہے۔کبھی کسی کو توہین عدالت میں سزا دے دی جاتی ہے۔کبھی کسی کو اقامے پر نااہل کردیا جاتاہے۔
احتساب ہونا چاہئے اس سے کون انکار کرتا ہے۔لیکن احتساب سب کا،چند لوگوں کا نہیں۔ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے نہیں۔ آمیریت مسلط کرنے کے لیے نہیں۔ جمہوریت پر شب خون مارنے کے لیے نہیں۔سابق وزیراعظم کا نااہلی کے بعد شروع ہونے والا سفر اب رکنا نہیں۔ ابھی سفر بہت طویل اور کٹھن ہے اوراس نے بڑی منازل طے کرنی ہے۔اگر گھر گھر گلی گلی یہ پیغام پہنچنا شروع ہوگیا کہ میں نے اپنے ووٹ کا احترام کروانا ہے تو یہ جمہوری انقلاب کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا باہر آکر سابق وزیراعظم کا ستقبال اس بات کی غمازی تو ضرور کرتا ہے کہ انہوں نے کرپشن والی کہانیوں کو رد کردیا ہے۔نواز شریف کا ووٹر اس حد تک تو اس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ انہوں نے قبول نہیں کیا۔دوبارہ بھی ووٹ دیا تو نواز لیگ کو دیں گے۔ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد جب بھٹو عوامی رابطہ مہم کے لئے نکلا تو عوام اس کے ساتھ تھی،بے نظیر جب وطن واپس آئی تو عوام نے فقیدالمثام استقبال کیا،نوازشریف جب جلاوطنی کاٹ کر واپس آیا تو عوام نے اسے وزیراعظم بنادیا۔پاکستان کی عوام باشعور ہے یہ آمریت کو قبول نہیں کرتی۔چند مخصوص کلاس کے لوگ ہیں جو آمریت کو خوش آمدید کہتے ہیں جو ہرآمر کے آنے پر مٹھائیاں بانٹتے ہیںاور اسی مخصوص کلاس نے نواز شریف کی نااہلی پر خوشی منائی ہے۔لیکن عوام کی اکثریت نے سابق وزیراعظم کے لئے باہر نکل کر یہ بتا دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا احترام کرتے ہیں اور احترام کروائیں گے بھی۔سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد شروع ہونے والے سفر نے بہت سے دریچے کھول دیے ہیں۔اب یہ بیانیہ زیادہ دیر تک نہیں بک سکتا کہ ہر سیاست دان کرپٹ اور غدار ہے۔ نااہل وزیر اعظم کے اس سفر نے کم ازکم اس حد تک تو بتادیا ہے کہ یہ بیانیہ بہت بوسیدہ ہوگیا ہے جو جلد ہی اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ڈرنا اس وقت سے ہے کہ جب عوام اپنے ووٹ کا احترام کروانے کے لئے سڑکوں پرآجائیں گے۔ اس سے پہلے ہی اس بات کو مان لینا چاہئے کہ حق حکمرانی عوام کا ہے ۔جس نے ووٹ دیا ہے وہی نکالنے کااختیار رکھتا ہے۔جن لوگوں کو یہ بات اب بھی سمجھ نہیںآرہی وہ سابق وزیراعظم کے اس چار دن کے سفر کی روداد دبارہ پڑھ لیں۔ان تمام تصاویر کو دوبارہ دیکھ لیں ۔ان وڈیوز کو دوبارہ ملاحظہ فرما لیں۔ عوام کے غیج و غضب کو ایک دفعہ پھر دیکھ لیں ۔ ساری بات سمجھ میں آ جائے گی۔
ہماری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب یہ ملک ایک دوراہے پر نہیں کھڑا ۔ اب ایک ہی رستہ ہے اور وہ رستہ ہے اپنے ووٹ کی حرمت کا۔ جمہور کے تقدس کا۔ جمہوریت کے احترام کا۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔ یا تو اسی رستے پر آگے بڑھنا ہے یا پھر صدیوں پیچھے جہالت اور غربت کے اندھیروں میں لوٹ جانا ہے۔