ہم کیوں سبق حاصل نہیں کرتے

18 اگست 2017

قارئین 25 جون کی صبح قوم کو جو ایک دن بعد عید کی تیاریوں میں مصروف تھی ایک المناک سانحہ سے گزرنا پڑا جب احمد پور شرقیہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کے اُلٹ جانے سے تیل بہنے لگا تو قریبی بستی کے لوگ بجائے اس کے کہ پولیس کو اطلاع دیتے مالِ غنیمت سمجھ کر جس کے ہاتھ جو برتن لگا لے آئے اور تیل اکٹھا کرنے لگے۔ لوگوں کا ایک جمِ غفیر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف تھا کہ آئل ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا اور ایک قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں کوئلہ بن گیا اس حادثے میں دو سو بیس افراد ہلاک ہوئے جبکہ 75 موٹر سائیکلیں اور تین گاڑیاں خاک کا ڈھیر بن گئیں ۔ قارئین یہ ایک حادثہ تھا جو ہوا اور ہونا نہیں چاہیے تھا ایسے موقع پر ہم سب کو متاثرین کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ جس طرح بستی کے لوگوں نے بہتے تیل کو مالِ غنیمت سمجھا ہمارے بعض سیاستدانوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے اِسے موقع غنیمت جانا ۔ حادثے کے چند گھنٹے بعد ایک صاحب گویا ہوا کہ شہباز شریف کو اس وقت بہالپور ہونا چاہیے تھا۔ قارئین موصوف کو یہ علم ہی نہ تھا کہ وزیرِ اعلیٰ پہلے ہی بہاولپور روانہ ہو چکے تھے۔ قارئین دراصل ہمارے ہاں کسی بھی واقعہ ، سانحہ یا حادثے کا ملبہ حکومت پر ڈالنے کا ایسا کلچر فروغ پا چکا ہے کہ حکومت ذمہ دار ہو یا نہ ہو اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کے لیے اُسے ملوث ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اکثر اوقات کسی خاص علاقے، طبقے یا گروہ کے لوگ بھی اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ مثلاََ حکومت کی طرف سے ون ویلنگ پر پابندی عائد ہے مگر بڑی تعداد میں نوجوان شہر کی اہم اور بڑی شاہراہوں پر ون ویلنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ طاقت سے روکنے یا نہ روکنے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ذمہ داری حکومت پر ڈالی جاتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بسنت کے موقع پر پیش آتی ہے اگر نوجوان میدان میں سادہ ڈور کے ذریعے اپنا شوق پورا کر لیں تو حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے ۔ قارئین آپ نے ڈبل شاہ کا نام تو سنا ہو گا جس نے روپیہ دُگنا کرنے کے بہانے لوگوں سے اربوں روپے حاصل کیے اُس کے ممکنہ فرار سے پہلے جب حکومت نے اُسے گرفتار کیا تو مجھے یاد ہے کہ سیالکوٹ جاتے ہوئے راستے میں مظاہرین سڑک بلاک کر کے اُس کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن افسوس کہ لٹنے اور لٹانے کے بعد ملبہ حکومت پر ڈالا جاتا ہے۔ قارئین کچی شراب پینے سے اموات کے ایک سے زائد واقعات منظرِ عام پر آ چکے ہیں کیا یہ شراب حکومت فراہم کرتی ہے؟ یہ کہاں تیار ہوتی ہے؟ کون کرتا ہے؟ اسی طرح ایک سماجی برائی منشیات کا استعمال ہے جس کی روک تھام کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن لوگ اگر لحافوں میں چُھپ کر بھرے ہوئے سگریٹ پیئیں تو پھر ادارے کیا کریں ۔ قارئین آج کل برسات ہے۔ ندی نالوں اور دریائوں میں گنجائش سے زیادہ پانی ہے حکومت نے دفع 140 کے تحت یہاں نہانے پر پابندی عائد کی ہے ۔ پھر بھی لوگ باز نہ آئیں تو حکومت کیا کرے۔ قارئین بہت سے لوگ خصوصاََخواتین جعلی پیروں، فقیروں اور عاملوں کے پاس جاتی ہیں اور کئی خواتین ان کے ہاتھوں اپنی عزت ، آبرو اور روپیہ پیسہ لٹاتی ہیں۔ میڈیا چِلا چِلا کر لوگوں کو ان جعلسازوں کے کرتوتوں سے آگاہ کرتاہے لیکن افسوس کہ اس رجحان میں کمی نہیں آرہی ۔ بسوں ، ویگنوں اور گاڑیوں میں اوور لوڈنگ کے ذمہ دار خود عوام ہیں۔ اگر وہ نہ بیٹھنا چاہیں تو کوئی مجبور نہیں کر سکتا لیکن حادثے کی صورت میں ذمہ داری پولیس پر عائد کی جاتی ہے۔ قارئین حکومت تو اپنا کام کر رہی ہے ۔ فوڈ اتھارٹی آئے دن غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیائے خوردنی بنانے اور بیچنے والوں کی نشاندہی کر رہی ہے مگر کیا کیجیے کہ اگلے ہی دن لوگ اُنہی ہوٹلوں، ریستورانوں اور دکانوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ قارئین کیا کیا کیہے رش ڈرائیونگ ، سڑکوں پر ریس لگانا ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ، پابندی کے باوجود بسوں اور گاڑیوں میں گیس سلنڈر لگوانا ، ندی نالوں اور دریائوں کی گزر گاہوں پر مکانات بنانا، غیر معیاری تعمیرات اور ہسپتالوں سے بچوں کے اغوا کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ ذرا ٹریفک حادثات پر نظر دوڑائیے ۔ 2015 اور 2016 کے درمیان 9100 حادثات پیش آئے جن میں3591 شدید نوعیت کے تھے۔ جن میں 4448 افراد جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ دس سال کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستا ن میں روزانہ اوسطاََ پندرہ افراد حادثات کی نظر ہوتے ہیں ۔95% حادثات انسانی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے ہم حادثات سے سبق حاصل نہیں کرتے ۔ احمد پور شرقیہ کے سانحہ کے دو دن بعد حیدر آباد کے قریب ایک آئل ٹینکر کے الٹ جانے سے تیل بہنے لگا تو لوگ ایک بار پھر بالٹیاں لے کر وہاں پہنچ گئے۔ پھر 9 جون کو وہاڑی کے قریب اسی طرح کا ایک اور منظر دیکھنے میں آیا حالانکہ لوگ اس کے ممکنہ خطرات سے واقف تھے مگر ہم اپنی غلطی ، کوتاہی اور لاپرواہی کی ذمہ داری حکومت پر ڈالنے کے عادی ہیں اور اپنے کردار پر غور نہیں کرتے ۔ قارئین ہمیں سوچنا چاہیے کہ ادارے ہر وقت اور ہر جگہ نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں کچھ پابندیاں اپنے اوپر خود بھی عائد کرنا ہوں گی۔ یہ کہنا کہ ادارے کام نہیں کر رہے ، حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی کافی نہیں ۔ ہمیں اپنی ادائوں پر خود غور کرنا چاہیے۔ آئل ٹینکر سے تیل لینے والے لوگ بخوبی جانتے ہوں گے کہ ذرا سی چنگاری سے آگ بھڑک سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ وہ بہت سادہ اور معصوم لوگ تھے۔ درست نہیں وہ پرلے درجے کے لالچی اور احمق تھے جو مفت کا مال لوٹنے آئے تھے۔ ہم لوگ محتاط رہنے کے عادی ہی نہیں۔ کسی سانحہ کے بعد یہ کہنا کہ اگر ادارے وقت پر پہنچ جاتے تو بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا بلکہ احتیاط برتنے کا قائل ہوں۔ میرے سکول کے ہیڈ ماسٹر فرمایا کرتے تھے کہ چور کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لینا کوئی خوبی نہیں ۔ خوبی تو یہ ہے کہ چور کو چوری کا موقع ہی نہ دیا جائے ۔