نعیم جاوید کی شاعری

18 اگست 2017

اردو غزل نے فکر وفن کے حوالے سے طویل سفر طے کیا ہے۔ولی دکنی سے میر و غالب تک اور اقبال سے فراق،اصغر،فانی،حسرت،جگراور یگانہ تک کئی شعراء ہیں جنہوں نے بعد میں آنے والوں کے لیے راہیں کشادہ کی ہیں۔عہد موجود میں جہاں تازہ کار لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد غزل کی پرورش میں مصروفِ کار ہے اور اسے نئی نئی دنیائوں سے آشنا کر رہی ہے وہیں کئی سینئر شعراء ایسے ہیں جو غزل کو کلاسیکی روایت کی روشنی میں آگے بڑھا رہے ہیں،انہی میں ایک نام نعیم جاوید کا بھی ہے۔
نعیم جاوید ایک عرصہ سے شعر کہہ رہے ہیں مگر بعض ناگزیر وجوہات کے باعث وہ ادبی دنیا میںسرگرم نہیں رہ سکے تاہم گاہے گاہے شعر کہتے رہے حال ہی میں ان کی شاعری کا اولین مجموعہ’’دشتِ ہجراں‘‘کے نام شائع ہوا ہے۔نعیم جاوید نے کلاسیکی لطف کے احیا کے ساتھ ساتھ جدید ماحول ، اقدار اور تہذیب سے کسب فیض کیا ہے۔ ذاتی مسائل کی جھلک بھی ان کے اشعار میں نظر پڑتی ہے اور رنگ ِ دگر کی بھی۔
ان کی غزل میں محبت اور سماجی کشمکش کے حوالوں کے ساتھ ساتھ جدید حسیت بھی اپنا رنگ دکھاتی چلی جاتی ہے ۔ خاص طور پرنئی غزل نے جن موضوعات سے توانائی حاصل کی ہے ،نعیم جاوید کے ہاں ان میں سے بعض بہت واضح اور بعض مبہم انداز میں سامنے آتے ہیں۔نعیم جاوید نے ان سارے معاملات سے روشنی کشید کی ہے جو انسانی زندگی سے وابستہ ہیں،جو سماج کا حصہ ہیں اور جوشعری روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس زمیں پر اُس کا مسکن،اُس کا گھرلگتا نہ تھا
اس قدر وہ خوبصورت تھا،بشر لگتا نہ تھا
تمام شہر کی آنکھیں ہوئیںاسی کی اسیر
تمام شہر کی آنکھوں کو خواب اس نے دیے
اس کے حضور لفظ معانی بدل گئے
اس کے حضور رائیگاں حسنِ بیاں گیا
کچھ زخم ہیں کہ وقت بھی بھرتا نہیں جنہیں
کچھ درد ہیں کہ جم کے جو سینوں میں رہ گئے
قدم بڑھائو تو ہر سمت منزلوں کے سراغ
کھڑے رہو تو کوئی راستہ نہیں ہوتا
سنا ہے اس کی محبت ہے ماورائے حیات
سو سارا شہر ہی مرنے کے خواب مانگتا ہے
میں سارا سال ہی رکھتا ہوں اپنے زخم ہرے
وہ سارا سال ہی تازہ گلاب مانگتا ہے
تمغے بہادری کے اسے بھی عطا ہوئے
جس شخص سے میں برسر پیکار بھی نہ تھا
فرق لہجوں کا ہوا کرتا ہے ،لفظوں کا نہیں
ہے الگ شعلہ بیانی،خوش بیانی اور ہے
اردو شاعری میں شجر کی علامت زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگرکرتی دکھائی دیتی ہے۔ راہ گیروں کو سایہ کی فراہمی ہو یا خزاںسے بہار اور بہار سے خزاں تک کا سفر،پت جھڑ ہویا ہریالی،یہ سب شجر کے علامتی آئینہ میں عکس ریز ہو کرشعری روایت کو توانائی بہم پہنچاتے رہے ہیں ۔نعیم جاوید کے ہاں بھی شجر کی علامت جہاں جہاں سامنے آئی ہے ،زندگی اور موت کے ساتھ ساتھ کائناتی عوامل کا اشاریہ بنتی چلی گئی گئی ہے۔
آگ کی تقدر لگتا ہے،شجر لگتا نہیں
بارشوں کے بعد بھی جس پر ثمر لگتا نہیں
گھر کے آنگن میں ہو یا لوگوں کے رستے میں نعیم
بے ثمر،بے برگ و بے سایہ شجر اچھا نہیں
وہ تو اس نے چھو لیا اک دن محبت سے مجھے
ورنہ مجھ پہ پھول کھلتے تھے،ثمر لگتا نہ تھا
کچھ تو ہوں گی اس کی بھی مجبوریاں جس کو نعیم
پھولنے پھلنے کی رت میں بے ثمر رہنا پڑا
نعیم جاوید نے بھی دوسرے شاعروں کی طرح حیات وکائنات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
چلو چل کر کبھی دیکھیں خلائوں سے پرے کیا ہے
قمر،خورشید،تاروں،کہکشائوں سے پرے کیا ہے
یہ خوشبو چھوڑ کر پھولوں کو جاتی ہے کہاں آخر
کشش ہے اس طرف کیسی ،ہوائوں سے پرے کیا ہے
نعیم جاوید نے معاشرے میں امن و محبت کا خواب دیکھا ہے،وہ چمن زار حیات کو ہمیشہ مہکتا دیکھنے کے آرزو مند ہیں،ان کی یہ خواہش ان کے اشعارمیں اس طرح ظہور پذیر ہوتی ہے۔
وفا کے رنگ ،محبت کے خواب رہ جاتے
سدا بہار نہ رہتی،گلاب رہ جاتے
میں نعیم جاوید اس خوبصورت کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ ان کے کلام میں برکت دے اور اسے مقبول عام بنائے۔

شاعری کا عالمی دن

انگلش لٹریری سوسائٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین نے 21مارچ کو شاعری کا عالمی ...