19اگست ۔ ۔۔انسانیت کاعالمی دِن

18 اگست 2017

’’عرب سپرنگ‘‘ تو گزر گیا مگر یمن سے لے کر لیبیاتک اور عراق سے لے کر شام تک انسانیت سسک رہی ہے۔مصر میں بھی امن نا پید ہے۔زخمی علاج کو ترس رہے ہیں۔ میتیں بے گو رو کفن پڑی دکھائی دیتی ہیں۔ لڑکیوں اور عورتوں کو اغواء کرلیا گیا، داعش سے بوکوحرام تک کے گھناؤنے جرائم سب کے سامنے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کا جنگوں میں استحصال پراناحربہ ہے اور یہ حربہ اب کی بار بھی آزمایا گیا، خاندانوں کے خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں۔ کابل میں پائیدار امن بھی صدا بالصحرا ثابت ہوا، بارود کی بارش برسا کر اتحادی آہستہ آہستہ نکل گئے اور انسان ایک دوسرے کے خون کا پیاسا آج بھی ہے۔ امدادی ادارے تمام تر مشکلات کے باوجود جنگ و جدل، شورش زدہ علاقوں میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ یہ خدمات بھی اب خطروں کی زد میں ہیں۔ امدادی کارکن مارے جارہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال وطن ِ عزیز میں بھی ہے۔ سینکڑوں امدادی ورکرز گولیوں کی بھینٹ چڑھائے جاچکے ہیں۔ جنگوں کے بھی کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں۔امدادی اداروں، رضاکاروں، امدادی کارکنوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔رواں سال کے دوسرے مہینے یعنی فروری میں انٹرنیشنل ریڈکراس کے امدادی قافلے کو کابل میں نشانہ بنایا گیا۔ تھوڑا ماضی میں جھانکیں تو 2003ء میں 19اگست کو بغداد میں یواین ہیڈکوارٹرز پر بمباری کردی گئی۔سیکرٹری جنرل سمیت 21 افراد لقمہ اجل بنے۔ کابل امدادی کارکنوں کیلئے کبھی بھی اچھا ثابت نہیں رہا۔2001ء سے آج تک 895 حملے امدادی کارکنوں/ اداروں پر ہوچکے ہیں۔ 325 افراد مارے جاچکے ہیں ۔ صوبہ خیبرپختونخوا بھی پرُ امن نہیں۔ پولیو ورکرز پر سب سے زیادہ حملے اِسی صوبے میں ہوئے۔ 12 کے قریب پولیو ورکرز کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ 2014ء میں 18 امدادی کارکن مارے گئے۔ اِس سے قبل صوابی میں 2013 کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو 7 ورکرز ہلاک کردیئے گئے۔ امدادی کارکنوں پر تشدد، اغواء اور جان سے مار دینے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ عدم تحفظ کی فضا چار سو پھیلی ہے۔چونکہ انسانیت کا درس ہر مذہب میں ہے۔اِس لیے بلا امتیاز ، بلا رنگ و نسل انسانیت کی خدمت عالمی منشور کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 19 اگست کو ’’ ِ انسانیت کا عالمی دِن‘‘ منایا جاتا ہے۔اِمسال اِس دن کا موضوع "Not ATarget"ہے۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ امدادی کارکن، امدادی ادارے اور رضاکار آپ کا ہدف نہیں ہونے چاہئیں۔قارئین کرام!ہمارے ہاں دُکھی انسانیت کی بھلائی اور خدمت کے عظیم جذبے، عملی اقدامات کو دیکھا جائے تو ’’ہلالِ احمر پاکستان‘‘ سب سے آگے ہے۔ ہلالِ احمر آج بھی قدرتی آفات، سانحات، حادثات میں اپنی خدمات پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ آج کا دِن اِس بات کا متقاضی ہے کہ وطن ِ عزیز میں خدمت ِ انسانیت میں مصروف ِ عمل ہلالِ احمر پاکستان کی کاوشوں، کارکردگی کا احوال تفصیل سے پیش کیا جائے ۔ ہم زیادہ تر مسائل کا شکار خود ہوئے، مسائل خود پیدا کئے، احتیاط پرے رکھ دی گئی۔ قوانین روندھے گئے۔ ہمارا معاشرہ بھی تنزلی کا شکار ہوا۔ یہ المیے، قضیے، بے بسی، لاچارگی دیکھتے ہوئے ہلالِ احمر پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے ’’میثاق ِ انسانیت‘‘ کیلئے جدوجہد کی۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کو اِس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمائ، خطبائ، قراء کی بات لوگ نہ صرف بغور سنتے ہیں بلکہ عمل بھی کرتے ہیں۔ اِس ضمن میں جہاں ہلال ِاحمرنے کئی نئے اقدامات متعارف کروائے گئے۔وہاں اُن کا سب سے تاریخی اور عملی اقدام تمام مکاتب فکر کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ’’میثاقِ انسانیت ‘‘ جیسے تاریخی معاہدہ کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ تمام مسالک کے نمائندوں پر مشتمل اتحاد تنظیمات المدارس سے ’’میثاقِ انسانیت ‘‘ کے تحت مدارس کے طلباء و طالبات کو ابتدائی طبّی امداد کی تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ معاشرے میں اپنے کردار کو مزید بہتر انداز سے نبھا سکیں۔ کسی بھی ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال میں زخمیوں کو ابتدائی طبّی امداد بہم پہنچا سکیں۔اِس کے ساتھ ساتھ مدارس اور مساجد کے اندر طبّی امداد کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔مدارس کے طلبہ و طالبات ہلالِ احمر کے رضاکار بنائے جا رہے ہیں تاکہ بوقت ضرورت خون عطیہ کریں اور قدرتی آفات، سانحات وحادثات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔اِس سے بھی بڑھ کر اِس بات پر زور دیا گیا کہ مدارس اور مساجدپولیو، خسرہ سمیت صحت عامہ کی مہمات میں حصہ لیں گے۔علماء کرام پولیو ویکسینیشن کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بھی زائل کرنے میں مدد دیں گے اور عوام الناس کو پولیو کے خلاف چلائی جانے والی حفاظتی مہم کے مثبت پہلوؤں سے بھی روشناس کروائیں گے۔اِس معاہدے کے تحت باقاعدہ طور پر علمائے کرام اور مدارس کے طلباء کیلئے آگاہی سیشنز اور فرسٹ ایڈ ٹریننگ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔انسانی خدمت کے بڑے نام ڈاکٹر سعید الٰہی نے تو اپناحصہ ڈال لیا اب ضرورت اس اَمر کی ہے کہ حکومتی سطح اور ہر طبقے کی طرف سے اِس معاہدہ کو پذیرائی ملنی چاہیے تاکہ اس کے ثمرات کو سمیٹا جا سکے اور ہمارے وہ بہن بھائی جو اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں بچانے نکلتے ہیں ،وہ بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں اور وہ ہزاروں افراد جو طبّی امدادکی عدم دستیابی یا وہ بچے جن کو کم علمی کی وجہ سے بچپن میں ہی معذوری کا طوق پہنا دیا جاتا ہے ، وہ بھی صحت مند افراد بن کر ملک کی تعمیروترقی میں اپناحصہ ڈال سکیں۔ایسا بارہا دیکھا گیا کہ انسانیت کی خدمت کیلئے نکلنے والا خود موت کا شکار کردیا گیا۔ بے رحم گولیاں نہ مرد دیکھتی ہیں نہ خاتون۔ دوسروں کا درد بانٹنے والے خود درد کی تصویر بنا دیے جاتے ہیں۔ لواحقین کی بے بسی، معصوم وارثوں کی آہ و فغاں آسمان ہلا دیتی ہے۔ گھروں کے گھر اُجاڑے جارہے ہیں۔ پولیو ورکرز عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔ سینکڑوں واقعات رُونما ہو چکے اب تو سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ ’’میثاق ِ انسانیت‘‘ کی چھتری تلے صحت عامہ کی مہمات چلائی جائیں۔یہ حقیقت ہے کہ انسانی خدمت کا جذبہ ہر انسان کے اندر قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے ۔تمام مذاہب میں انسانوں کی خدمت پر زور دیا گیا ہے ۔اِسلام نے اِس جذبے کو عمل میں ڈھالنے کا حکم دیا ہے۔ قرآنِ پاک کی سورۃ المائدہ میں ارشاد ہوتا ہے ’’ جس نے ایک اِنسان کی جان بچائی گویا اُس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘ ۔اسلام نے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظات کی تعلیمات دیں۔اسوئہ رسول حضرت محمد ؐ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی تفریق سے بالا تر رہ کر انسانی خدمت کی جانی چاہیے۔ آپؐ نے اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک فرمایا اور کبھی کسی کیلئے بد دُعا نہیں کی۔ میدانِ جنگ میں زخموں سے تڑپتے دشمن سپاہیوں کو پانی کی فراہمی اور اُن کی مرہم پٹی کے احکامات دیئے۔موجودہ دور میں میثاقِ انسانیت پر چل کر ہی ہم مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ذہن سازی اور بنیادی عقائد سے روشناسی کے فقدان کو بھی ختم کرسکتے ہیں ۔حکومت ِ وقت انسانیت کے خدمت گاروں کیلئے ’’نیشنل ہیومینیٹرین ایوارڈ‘‘ کا اعلان کرکے اِس اَنمٹ جذبے کو فروغ دے سکتی ہے۔

کتاب کاعالمی دن

گزشتہ ادوار میں اقتدار کے لیئے ، حکمرانی کے لیئے جہاں جنگیں شدومد سے کی جاتی ...