وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا سندھ کیلئے ترقیاتی پیکیج

18 اگست 2017

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اگست کے دوسرے عشرے کے ابتدائی ایام میں کراچی کا دورہ کیا۔گورنر سندھ محمدزبیر عمر‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ‘ میئر کراچی وسیم اختر سمیت متعد د وفود سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے کراچی کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کئے باالخصوص کراچی شہر کیلئے25 ارب اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے لئے پانچ ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج اچھے اعلان تھے۔ یہ بات ان کی تقرری کے ایام میں بتائی گئی تھی کہ پوٹھوہار کے علاقے مری میں گائوں دیول سے آبائی تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی 27 دسمبر1958ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے ان کی یہ نسبت بھی اہل کراچی کے لئے امید کا ایک روشن پہلو ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر مزید ترقیاتی منصوبوں سے مستفیض ہوسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی وزارت عظمیٰ کے لئے اپنی امیدوار کشور زہرہ کو دستبردار کراکر نہ صرف شاہد خاقان عباسی کی حمایت کی بلکہ اپنے 24 ارکان قومی اسمبلی کے ووٹ بھی ان کے حق میں استعمال کئے اس طرح سادہ اکثریت کیلئے درکار172 ووٹوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ یعنی 221 ووٹ لیکر شاہد خاقان عباسی باآسانی وزیراعظم چنے گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے بحیثیت وزیراعظم پاکستان انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی‘ میگا پروجیکٹس اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے 25 ارب روپے دیئے ہیں یہ احسن قدم ہے اس سے قبل مسلم لیگ ن ہی کی حکومت نے کراچی گرین لائن پروجیکٹ جسے ستار ایدھی سے موسوم کیا جاچکا ہے۔ شروع کیا تھا جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔ کراچی کے لئے فراہمی آب کے منصوبہ کے فور کے دوسرے مرحلے کا آغاز جلد ہوگا جس کے لئے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کرے گی۔
سندھ کے گورنر محمد زبیر عمر اگست کے اوائل میں وفاقی حکومت کی جانب سے خوش خبری سناچکے تھے کہ کراچی اور میرپورخاص کے درمیان ایک عشرے سے بند مہران ایکسپریس کو اسی ماہ شروع کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے سانحہ شہادت کے بعد سندھ میں ریلوے نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا اور میرپورخاص کراچی ریلوے روڈ کی متعددگاڑیاں بند کردی گئی تھیں جو تاحال بحال نہیں ہوسکی ہیں لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کراچی آمد پر وفود نے ملاقات میں سندھ کے شہری علاقوں کا جامع احوال گوش گذار کیا تو ان کی جانب سے جہاں اور منصوبوں و اسکیموں کی منظوری دی گئی حیدرآباد کیلئے5 ارب روپے بطور ترقیاتی پیکیج دیئے گئے اور سندھ بھر میں ریلوے آپریشن بحال کرنے کی منظوری دی گئی ابتدائئی مرحلے میں مہران ایکسپریس بحال ہوگی تو آگے چل کر بدین‘ ٹنڈو آدم‘ دادو‘ حیدرآباد‘ نواب شاہ ریلوے روٹ فنکشنل کرکے وہاں ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ یاد رہے کہ کراچی اور حیدرآباد سے یومیہ درجن بھر ٹرینیں میرپورخاص کیلئے چلاکرتی تھیں جن سے محکمہ ریلوے کو یومیہ2 سے 3 لاکھ روپے کی آمدنی ہوا کرتی تھی۔ بعد میں مالی خسارے اور انجنوں کی کمی کو جواز بناکر پی پی کے دور میں ان ریل گاڑیوں کو بند کردیا گیا تھا اب ریلوے روٹ کی بتدریج بحالی کے اعلان کو مسرت کے ساتھ سناگیا ہے امید یہ بھی ہے کہ چین اور دیگر ممالک سے درآمد شدہ ریلوے انجن سندھ کے ان ریلوے روٹس کو بھی ملیں گے جو عرصہ دراز سے غیر فعال ہیں گویا انٹر سٹی بسوںکی ا جارہ داری باالخصوص اضافی کرایوں‘ مخصوص مواقع پر اوورلوڈنگ سے بھی نجات ملے گی۔
کراچی جیسے میگا سٹی کو درجنوں بلکہ سینکڑوں مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی کراچی آمد ان مسائل کے حل کی سمت ایسی پیش رفت قرار پائے گی جس کا مطالبہ برسوں نہیں عشروں سے کیا جارہا تھا۔ حقیقی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو معاشی استحکام دینے والے اس شہر میں جو بجاطور پور ملک کا معاشی دارالحکومت ہے دنیا کا ساتواں بڑا اور مسلم دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی مردم شماری کے حالیہ نتائج کے مطابق پاکستان کے جغرافیائی طور پر سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے بھی زیادہ ہے جو ڈائریکٹ ٹیکسز میں ملکی خزانے کو کم و بیش47.75 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں33.65 فیصد اور امپورٹ ڈیوٹی میں75 فیصد حصہ ادا کرتا ہے ایسے ترقیاتی پیکیج دیکر اس حصے کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے جس کا فائدہ بہرحال وطن عزیز کو ہی پہنچے گا۔ شہر میں بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں کا فقدان ہے صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر‘ سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی ناگفتہ بہ اور بلدیات کا محکمہ کم از کم ہونے کا ثبوت پیش نہیں کرسکتا ایسے میں اس مثبت اقدا م کی تعریف نہ کرنا سراسرزیادتی ہوگی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اشارہ دیا کہ ایسے پیکیجز کا سلسلہ جاری رہے گا تو ضروری ہوجاتا ہے کہ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی پسماندگی کو سامنے لایا جائے کہ ان بڑے شہروں کے لئے بھی ترقیاتی پیکیج کا اعلان ہوسکے۔ اس طرح عوام کے مسائل حل ہوں گے ترقیاتی اسکیموں کے آغاز سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ نیز معاشی اور کاروبار سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی جمہوریت کے استحکام کیلئے عوام کی خوشحالی ضروری ہے۔ معاشی طور پر خودکفیل باشندے ہی ووٹ کے حق کا درست استعمال کرسکتے ہیں ورنہ تو پسماندہ علاقوں میں مروجہ انتخابی نظام سے بالادست طبقات ہی کو تقویت ملتی ہے۔
وزیراعظم شاہد خا قا ن عباسی نے کراچی اور حیدرآباد کے لئے جن30 ارب روپے کا اعلان کیا ہے وہ در حقیقت سندھ کے لئے ترقیاتی پیکیج ہے کیونکہ کراچی سے کشمور تک پھیلے سندھ میں آباد ہر باشندے کو کسی نہ کسی طور پر ان شہروں کا رخ کرنا پڑا ہے یہاں سہولتیں ہوں گی تو پورا سندھ بلکہ پورا ملک مستفیص ہوگا ان تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی گورنر سندھ کرینگے۔ امید کی جانی چاہئے کہ وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج سے ملک میں مساوی ترقی کے مواقع ہموار ہوں گے بلکہ سندھ کے عوام کی محرومیاں بھی دور ہوں گی۔ یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ کراچی کی سرگرمیوں میں زیرو بم یا مثبت اور منفی اثرات سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے دوسرے الفاظ میں کراچی میں معیشت کے پہیئے کی روانی اور امن و امان کی بحالی از حد ضروری ہے اور یہ ماضی میں بھی حکومتوں کی ترجیح رہی ہے۔
شاہد خاقان عباسی وزیراعظم پاکستان کے دورہ کراچی کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ انہوں نے تفصیل کے ساتھ صوبائی حکام کے موقف کو بھی سنا ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس سال ترقیاتی بجٹ بڑھایا اور ہم صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے اپنے منصوبوں کو مکمل کرینگے۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ محمد زبیر عمر کوئی سیاسی کام نہیںکررہے اور نہ ہی سیاسی معاملات میں دخل اندازی کررہے ہیں بلکہ وہ صوبے کی ترقی اور امن و امان کی بہتری کیلئے وفاق کے نمائندے کے طور پر ملاقاتیں کرتے ہیں اس اجلاس میں وزیراعظم نے کراچی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔25 ارب روپے کی لاگت سے کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری‘ صنعتی عمل کی بحالی‘ فراہمی آب کے منصوبے اور دیگر اسکیموں کومکمل کیا جائے گا۔ کراچی یونیورسٹی میں میڈیکل کالج اور اسپتال قائم ہوگا نیز گرین لائن بس منصوبہ بھی مکمل کیا جائے گا۔کراچی کی تاجر برادری نے وزیراعظم کو ایمنٹی اسکیم لانے کا مشورہ بھی دیا تاکہ بڑے پیمانے پر پیسہ پاکستان لایا جاسکے۔ تاجروں نے نواز شریف کی اقتصادی اصلاحات کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ کراچی کو معاشی و سماجی ترقی دی جائے گی تاکہ سیاسی محاذ آرائی سے ہٹ کر یہ شہر ترقی کرسکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایمانداری کے ساتھ کسی امتیاز کے بغیر میرٹ پر فنڈز استعمال ہوں تو سندھ ک عوام کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔