
کشمیر پریمیئر لیگ والے ان دنوں خبروں میں ہیں۔ بھلے یہ خبریں کرکٹ کے حوالے سے نہ ہوں لیکن وہ کے پی ایل انتظامیہ پر کرکٹ کے حلقوں میں بحث ضرور ہو رہی ہے۔ لیگ کے فرنچائز مالکان انتظامیہ سے خوش نہیں ہیں جتنے نقطوں پر اختلاف ہے شاید اس سے میچز کم کھیلے گئے ہوں۔ جہاں کشمیر کا نام آتا ہے وہاں پاکستانی غیر معمولی انداز میں حساس ہوتے ہیں لیکن شاید لیگ انتظامیہ ان جذبات کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ٹونٹی ٹونٹی لیگز کھیلی گئی ہے ان کی کامیابی میں کرکٹرز، میچ آفیشلز سمیت دیگر شراکت داروں کو بروقت ادائیگیوں نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے بدقسمتی سے کشمیر پریمیئر لیگ کے مالی بہت اچھے دکھائی نہیں دیتے مالی بدانتظامی اور کھلاڑیوں کو تاخیر سے ادائیگی کے حوالے سے مسلسل خبریں آتی رہتی ہیں لیکن لیگ انتظامیہ نے کبھی ایسی خبروں کی تردید نہیں کی۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی موجودگی میں کسی اور لیگ کی کیا ضرورت ہے۔ اس حوالے سے چند ہفتے قبل لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا نے پی ایس ایل کے بہتر مستقبل اور دنیا میں کامیابی حاصل کرنے والی لیگز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا سننے میں آیا ہے کہ جیسے ہی انہوں نے اپنے خیالات عوام کے سامنے رکھے اس کے بعد وہ پی سی بی کی اعلیٰ شخصیات کے "ہم خیال" گروپ سے علیحدہ کر دیے گئے۔ حالانکہ ثمین رانا نے پاکستان سپر لیگ کی اہمیت میں اضافے اور اس کی موجودگی میں کسی بھی دوسری لیگ پر دنیا میں ہونے والے ایسے مقابلوں کا موازنہ کیا تھا۔ ان کا ہدف کوئی ایک خاص ٹورنامنٹ نہیں تھا بلکہ اس حوالے سے منصوبہ سازوں کو پیغام دیا گیا تھا۔ سب نے اس پیغام کو اپنے اپنے انداز میں سمجھا بہر حال جہاں تک تعلق کشمیر پریمیئر لیگ کا ہے تو اس حوالے سے اب مسلسل بات چیت ہو رہی ہے اور جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے کرکٹ کے حلقوں میں پائے جانے والے خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سینئر سپورٹس اینکر مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں "پہلی کشمیر لیگ کا آڈٹ ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی ٹیموں کو پلئیرز پول کی رقم دی گئی ہے لیگ کے چئیرمین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے خلاف مقدمہ درج ہے لیگ میں شریک چار ٹیمیں منتظمین سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ لیگ کو ابھی تک این او سی نہیں ملا ہے لیکن منتطمین نے ٹونامنٹ ڈائریکٹر، میڈیا ہیڈ کا تقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پروڈکشن کیلئے بات چیت شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی ویرات کوہلی کو بلانے کا شوشہ بھی چھوڑ دیا ہے۔کیا کشمیر کے نام پر ہونے والی یہ لیگ کمائی کا ذریعہ ہے۔ پہلی لیگ میں بھی بے قاعدگیاں دیکھنے کو ملیں۔ یہ بھی سن رہا ہوں کہ پانچ فرنچائزز نے منتظمین کے رویے کے خلاف ایک کونسل بنانے کا فیصلہ کیا ہے"یہ صورت حال تشویشناک ہے یہاں کھیلنے والے ہر کھلاڑی نے پاکستان سپر لیگ جیسی بروقت ادائیگیوں کا ذہن بنا رکھا ہوتا ہے اور اگر کرکٹرز کو یا لیگ سے جڑی کسی بھی ادارے یا شخص کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو یقینی طور پر دنیا میں ایک غلط پیغام جاتا ہے۔ کیا لیگ منتظمین کو اس کا احساس ہے۔
جہاں تک تعلق کسی بھی ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے انعقاد کا ہے کیا پاکستان سپر لیگ میں نوجوانوں کو مواقع دینے کے لیے کافی نہیں، کیا اس سے پہلے وہاں کرکٹ نہیں ہو رہی تھی، کیا "اے جے کے" ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ نہیں تھا،کیا وہاں بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، کیا لاہور قلندرز نے وہاں جا کر ٹرائلز نہیں لیے، کیا قلندرز نے وہاں ٹونٹی ٹونٹی میچز نہیں کروائے، میدانوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے کام نہیں کیا، کیا سلمان ارشاد قلندرز کے پلیئرز ڈیویلپمنٹ سے سامنے نہیں آئے، کیا زمان خان نے لاہور قلندرز کی طرف سے پاکستان سپر لیگ نہیں کھیلی، کیا لاہور قلندرز نے کرکٹ کے ذریعے دلوں کو نہیں جوڑا،کیا ہمارا مقابلہ دنیا سے ہے یا پھر ہم آپس میں ہی مقابلے کرتے رہیں گے۔ یہ سوال بھی ہے کہ جب سولہ ریجنز تھے کیا "اے جے کے" ریجن نہیں تھا۔ ایک ہی طرح کے ٹورنامنٹ سے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کھیل کے نام پر کھیل نہ کھیلا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ کھیل کے فروغ کے کئی اور طریقے ہیں جن پر پہلے ہی کام ہو رہا تھا بہرحال اب یہ فیصلہ سازوں نے دیکھنا ہے کہ کیا پاکستان سپر لیگ کی موجودگی میں کسی اور ٹورنامنٹ کا انعقاد ملک و قوم کے فائدے میں ہے یا نہیں۔ دنیا میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک ٹورنامنٹ کامیابی کی طرف چلے تو ہر جگہ ویسے ٹورنامنٹس شروع کر دیے جائیں۔