آصف زرداری نے ناقدین اور سیاسی مخالفین پر چڑھائی کرڈالی

17 جون 2015 (15:14)

اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے جارحانہ رویہ اختیارکیا۔ ملکی سیاست میں مفاہمت کےعلمبردار آصف زرداری نےاپنی تقریرکےدوران فوجی جرنیلوں کو بھی کڑی تنقید کانشانہ بنایا۔آصف زرداری نے اپنی تقریر کے دوران کھلےالفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنگ نہ کیا جائےورنہ اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کامزید کہنا تھا کہ آرمی ہماری ہے۔ ہم ملک کو مضبوط کرناچاہتے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس دن میں کھڑاہو گیا سب کچھ بند ہوجائےگا۔آصف زرداری نے سابق صدر پرویزمشرف کوبھی خوب لتاڑا اور بولے کہ مشرف کے دورمیں پانچ سال قیدرہا۔ خود کوبہادرکمانڈرکہنے والا مشرف تین ماہ بھی جیل میں نہیں رہ سکتا۔ آصف زرداری نے ورکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بلاول بھٹوہم سب کے چیئرمین ہیں۔ کنونشن میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اورراجہ پرویزاشرف کے علاوہ دیگرپارٹی قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سیاسی محاذ پر پے در پے شکستوں سے دوچار آصف زرداری نے بالآخر جارحانہ رویہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا،، پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کی جائے گی، ن لیگ کے ساتھ مفاہمت کی بجائے اب کھلا مقابلہ ہو گا

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری گزشتہ روز بولے اور خوب گرج برس کر بولے۔ سیاسی مخالفین کو للکارا، اسٹیبلشمنٹ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا. اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے کر حکومت کو بھی متنبہ کر دیا۔ مبصرین کے مطابق جب سے پیپلز پارٹی کی قیادت عملی طور پر آصف زرداری نے سنبھالی ہے اس کا گراف نیچے گرا ہے۔ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو گئی، اس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات ، بلدیاتی انتخابات اور گلگت بلتستان کے الیکشن میں شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آصف زرداری مفاہمتی پالیسی کی شہرت رکھتے ہیں جو مخالفین کو ساتھ لے کر چلنے کا فن خوب جانتے ہیں، لیکن شاید اب اس بات کو محسوس کر لیا گیا ہے کہ پارٹی کو مزید تنزلی سے بچانا ہے تو مفاہمت کی بجائے جارحانہ پالیسی اپنانا ہو گی۔ پیپلز پارٹی کو نچلی سطح تک منظم کرنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری کو قیادت کے لیے راضی کر لیا گیا ہے، عملی طور پر اب بھی آصف زرداری ہی فیصلے کریں گے لیکن اجلاسوں میں بلاول بھٹو کی شرکت بھی یقینی بنائی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے دوبارہ عروج حاصل کرنا ہے تو اسے پنجاب میں منظم ہونا ہو گا، جہاں ن لیگ سب سے بڑی پارٹی ہے، اور تحریک انصاف بھی بڑا ووٹ بینک بنا چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے روایتی جیالے کو زندہ کرنا ہو گا اور روٹی کپڑا مکان جیسا مقبول نعرہ دے کر عوام کی توجہ حاصل کرنا ہو گی، پارٹی قیادت ٹھنڈے کمروں سے نکل کر گلیوں میں جاکر عوام کے ساتھ کھڑی ہو، تبھی کچھ خاطر خواہ نتائج نکلنے کی امید ہے، دوسری صورت میں جارحانہ تقاریر کا اثر ایک دو دن تو رہے گا، لیکن اس سے عملی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔