سرگزشت ایام…… تبصرہ: جی آر اعوان

17 جون 2015
 سرگزشت ایام…… تبصرہ: جی آر اعوان

سرگزشت ایام حافظ نذر احمد کی سوانح حیات ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے ذاتی، علمی، فکری، نظری اور تحقیقی پہلوئوں کو سپر و قلم کیا ہے۔ دوسروں کی سوانح عمر لکھنا اتنا دشوار نہیں، جتنا اپنے بارے میں قلم آرائی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حافظ نذر احمد یو پی کے تاریخی اور مردم خیز ضلع بجنور کے قصبے ’’نگینہ ‘‘میں پیدا ہوئے یہ قصبہ بھارتی مین لائن سہارن پور اور مراد آباد کے درمیان واقع ہے۔ 1857 کی جنگ آزاد میں ’’نگینہ‘‘ کے لوگوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ محلہ قاضی سرائے کے حافظ نذر احمد نے ابتدائی تعلیم، دیو بند مکتبہ فکر کے مدرسہ عربیہ قاسمہ میں حافظ نیاز احمد سے فاصل کی۔ تیرہ برس کی عمر میں حفظ قرآن کے علاوہ عربی، اردو اور فارسی کی تدریس مکمل کر لی۔ تجوید و قرأت کے علاوہ ریاضی کے علوم پر بھی دسترس حاصل کر لی۔ یو پی سے لاہور اپنے بہنوئی کے پاس آئے تویہاں تراویح قرآن پاک سنایا۔ 1935ء میں حافظ نذر احمد لاہور منتقل ہوئے یہاں دل کی ریاضی ، دل کا الجبرا اور دل کی جیومیٹری کے خالق خواجہ دل محمد صدر شعبہ ریاضی اسلامیہ کالج لاہور سے اٹھنا بیٹھنا ہوا۔ ان کی تحریک 1936ء میں السنہ شرقیہ کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا ۔اس کے بعد میٹرک کیا 1940ء میں انٹر کا امتحان پاس کر لیا۔ پھر بی اے، ایم اے بھی کر لیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کے علامہ علائوالدین صدیقی کی شاگردی اور صحبت کا شرف حاصل کیا۔ حافظ نذر احمد کا لاہور میں مستقل مسکن محمد نگر تھا۔ تا ہم انہوں نے اپنی تدریسی او خطیبانہ خدمات کے سلسلے میں کچھ عرصہ بھیرہ ضلع سرگودھا اور پٹھان کوٹ میں بھی گزارا۔ حافظ نذر احمد لاہور میں مولانا احمد علی لاہور کا درس باقاعدہ سے سنتے تھے۔ خواہش کے باوجودعلامہ اقبال سے ملاقات نہ کرسکے۔ تا ہم انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں علامہ اقبال کی زیارت کی اور حکیم الامتکے جنازے میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی۔ 1940ء کے جلسہ قرار داد پاکستان میں شریک ہوئے اور قائداعظم کا تاریخی خطاب بھی سنا۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے آفس سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ایم ایس ایف کے دفتر میں بانی نوائے وقت حمید نظامی سے ملاقات ہوئی۔ پروفیسر یوسف سلیم چشی، عبدالحمید قریشی ، چودھری افضل حق، محمد صدیق مستری، علامہ محمد اسلم، پروفیسر افتخار چشتی، مرزا بشیر الدین محمود، ڈاکٹر مسعود، چودھری نیاز، علی خان جیسی جریدہ روزگار ہستیاں حافظ نذر احمد کی ہم عصر تھیں۔ حافظ نذر احمد نے ملٹری اکائونٹس میں ریکارڈ کلرک کے طور پر ملازمت بھی کی۔ ان کی شادی خالہ زاد سے نومبر 1942 میں ہوئی۔ انگریز کی نوکری کرنا گوارہ نہ ہواتوکچھ عرصہ بعد نوکری چھور کر ایک مسجد کی امامت سنبھال لی۔ اس دوران کچھ عرصہ جامع مسجد اے بلاک ماڈل ٹائون میں خطبہ جمعہ بھی دیتے رہے۔ جامع مسجد چمڑا منڈی کے خطیب بھی رہے۔ 1943 میں بنگال اور کلکتہ کا دورہ کیا۔ اس دوران علی گڑھ، لکھنو، دیو بند، آگرہ، شکوہ آباد کی سیاحت کی۔ اسلامیہ کالج لاہور میں دینیات کے لیکچرار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، علامہ علائوالدین صدیقی، پروفیسر غلام حسین پروفیسر خواجہ محمد اسلم، کرنل محمد اسلم جیسے اکابر اساتذہ کے ساتھ بھی حافظ نذر احمد نے کافی وقت گزارا۔ جمعیت علمائے اسلام کی تنظیم نو ہوئی تو صوبہ پنجاب کے نائب ناظم مقرر ہوئے۔ قیام پاکستان کے ایام میں فسادات ختم کرانے میں پیش پیش رہے۔ شبلی کالج کی بنیاد رکھی اسے چلایا اور اعلیٰ درس گاہ بنایا۔خدمت کا سفر ختم ہوا اور 3 دسمبر 2011 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔ کتاب میں حافظ نذر احمد کے بچوں اور عزیز و اقارب کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے بھی حافظ نذر احمد کے حوالے سے اپنی خوش گوار یادوں کو تازہ کیا ہے۔ مسلم آکادمی 18/69 محمد نگر لاہور سے یہ کتاب دستیاب ہے۔


’’ڈاکٹر عطیہ سعید کی کتاب کی تقریب رونمائی‘‘
ڈاکٹر عطیہ سید کی نئی کتاب’’ادراکات‘‘ کی تقریب رونمائی 12 جون جمعۃ المبارک کو ساڑھے چار بجے شام قائداعظم لائبریری باغ جناح میں منعقد ہوئی۔ شاہد بخاری نے ارباب علم و فن سے شرکت کی استدعا کی ہے۔