غزل

17 جون 2015

جو تیری دید کو ترسا بہت ہے

اسے یہ ہجر کی دنیا بہت ہے
محبت کے سمندر میں نہ اترو
یہاں پانی ابھی گہرا بہت ہے
کبھی آئو اسے آباد کرنے
مرا ویران دل تنہا بہت ہے
ہمیں لعل و جواہر سے غرض کیا
کہ چاہت کا تری گہنا بہت ہے
بڑی مہنگی پڑے گی زندگانی
لہو انسان کا سستا بہت ہے
ابد تک تشنگی قائم رہے گی
ازل سے دل میرا پیاسا بہت ہے
تمہیں بھی چھین کر کوئی نہ لے جائے
تمہارے بارے میں سوچا بہت ہے
سمجھتے ہیں ہمیں اپنا وہ اختر
ہمارے واسطے اتنا بہت ہے
(حکیم سلیم اختر)