بجٹ کا تجزیہ، کیا کھویا کیا پایا؟

17 جون 2015

مکرمی! آپ کے توسط سے وفاقی حکومت کی توجہ حالیہ قومی بجٹ میں نظر انداز کیے گئے اہم امور کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ وطن عزیز پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کثیر آبادی کا دارومدار اس شعبہ سے منسلک ہے بلکہ ان کی جدوجہد سے ہر شہری کو اجناس کی فراہمی ممکن بنتی ہے دور حاضر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ بجٹ میں کھاد اور زرعی جراثیم کش ادویات میں خاطر خواہ کمی کرکے کاشتکاروں کو سہولت بہم پہنچائی جاتی مگر بجٹ میں پیداواری اہداف پورے کرنے اور پیداوار بڑھانے کے لیے کوئی جاذب نظر خصوصی اقدام نہیںکیا گیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کی قیمتیں ایک عرصہ کیلئے منجمد کرکے 19کروڑ انسانوں کی مشکلات کا حل تجویز ہو جاتا۔ نیز ایگریکلچر شعبہ کی تشفی اور حوصلہ افزائی ہوتی کہ انہیں محنت کا جائز حق ملے گا اور نقصان کے احتمال کو روکنے کے لیے غیر ممالک سے درآمدی اشیاء پر پابندی لگائی جاتی تاکہ مقامی کاشتکار کو نقصان نہ ہو۔ (اسامہ طارق، لاہور)