مودی کا اعتراف

17 جون 2015

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ بنگلہ دیش کے دوران اعتراف کیا کہ بنگالی عوام کو پاکستان سے آزادی دلانے کےلئے بھارت ان کے شانہ بشانہ لڑا ہے۔ اس بیان کا ردعمل پاکستان میں بڑا شدید ہوا۔ ہر کوئی سقوط مشرقی پاکستان میں بھارت کے مجرمانہ کردارکی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ اس بیان نے بھارت کی ازلی بدطینتی آشکار کی ہے۔مودی کے اس بیان سے بھٹو مخالف عناصر کے وہ تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں کہ بنگلہ دیش بنانے کے جناب ذوالفقار علی بھٹو ذمہ دار تھے اور یہ الزام ابھی تک بنگلہ دیش تحریک کی اصلیت سے ناواقف متعصب‘ بھٹو دشمن ایک پکے راگ کی طرح الاپ رہے ہیں۔مشرقی پاکستان میں بھارت کا کردار پاکستان کے خلاف اس بین الاقوامی سازش کا اہم حصہ تھا جس کا مقصد پاکستان کو نیست و نابود کرنا تھا۔ 1971ءمیں ”سنڈے ٹائمز“ نے پاکستان کے ایک معروف صحافی انتھونی مسکرینس کی بنگلہ دیش پر تحریرکردہ رپورٹ شائع کی۔ اس کے بعد برطانوی اخبارات پاکستان کے حق میں کسی رائے کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ سنڈے ٹائمز نے اپنی تاریخ میں ایک موضوع پر پہلی بار چار صفحات مخصوص کئے اور دنیا بھر کی رائے عامہ کو اس حد تک پاکستان سے بدظن کردیا کہ وہ پاکستان کے حق میں ایک لفظ سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس یلغار کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ لندن اور مغربی ممالک میںمقیم پاکستانی جیسے اس سازش میں کچل دیئے گئے ہوں۔ بنگلہ دیش تحریک کے خلاف پاکستانیوں نے بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کئے اور وطن عزیز کی سالمیت کے دشمن عناصر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اس کے برعکس جو چند شکست خوردہ پاکستانی سیاستدان بھارتی لابی کا آلہ کار بن کر پاکستان کے خلاف اس محاذ پر سرگرم کار تھے ان کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی کہ پاکستان کے خلاف ان کی ہرزہ سرائی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہونے لگی اور نشریاتی ادارو ں سے ان کے بیانات غیرمعمولی انداز میں نشر ہونے لگے۔ پاکستان دشمن قوتوں اور بھارت نے اپنے مقاصد کے لئے جن پاکستانیوں کو استعمال کیا ان میں وہ عناصر بھی شامل تھے جنہوں نے پاکستان کو ذہنی اور دلی طور پر کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان میں بھارت کی سرپرستی میں مکتی باہنی نے گوریلا کارروائیاں شروع کیں اور بنگالی قومیت کے نام پر پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرکے وہاں کے عوام کو بدظن کردیا گیا تھا۔ پاکستان کے خلاف اس بین الاقوامی سازش کی کامیابی کے لئے جب بھارت نے فوجی کارروائی کی تو دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ شیخ مجیب پاکستان سے رہا ہوکر ڈھاکہ پہنچے تو انہوں نے برطانیہ کے معروف ٹیلی ویژن براڈ کاسٹر ڈیوڈ فراسٹ کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ”بنگلہ دیش کی آزادی ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن تھا اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو پوری ہوگئی ہے۔“ برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر رکن جان اسٹون ہاﺅس اور مشرقی پاکستان کے چیف جسٹس ابوسعید چودھری بنگلہ دیش تحریک کے روح رواں تھے۔ 1974ءمیں اصغر خان لندن کے دورے پر آئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش تحریک کے برطانوی سربراہ جان اسٹون ہاﺅس سے لندن میں ملاقات کی۔ وہ بنگلہ دیش کو کبھی منظور اور کبھی نامنظور قرار دیتے رہے تھے۔ اس ملاقات میں اصغر خان نے جناب ذوالفقار علی بھٹو پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے لیکن جان اسٹون ہاﺅس نے بنگلہ دیش کے شہری کی حیثیت سے اصغر خان کا خیرمقدم کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ دسمبر 1970ءکے انتخابات میں شیخ مجیب اور عوامی لیگ کی کامیابی اس امر کا ریفرنڈم تھا کہ بنگالی عوام پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور اپنا علیحدہ ملک بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے قیام کے لئے اس وقت کی عالمی لابی نے بھارت کو جنوبی ایشیا کی قیادت سنبھالنے کی ترغیب دی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے فوری بعد برطانوی وزیر خارجہ مسٹر ڈگلس ہوم یہی تجویز لیکر بھارت گئے۔ برطانیہ جانتا تھا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد طاقت کا توازن بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔ اس وقت برطانوی منصوبہ یہ تھا کہ سیٹو کے متبادل انتظام کے طورپر بھارت کی قیادت میں نیا بلاک تشکیل دیا جائے جس میں بنگلہ دیش‘ ملائیشیا‘فلپائن اور تھائی لینڈ شامل ہوں۔ اس بلاک میں انجام کار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہو جاتے اور اس طرح برطانیہ جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے مفادات کو بھارت سے قدیمی اور قریبی رشتوں کی وجہ سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔ جناب بھٹو نے جنوب مشرقی ایشیاءکی قیادت برطانوی منصوبہ کے مطابق بھارت کو دینے کے خلاف دولت مشترکہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس طرح برطانیہ کی یہ کوشش ناکام ہوگئی تھی۔بنگلہ دیش کے اس سارے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر جب ہم بھٹو صاحب کے سقوط مشرقی پاکستان کے دنوں میں کردار کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے تھے۔ بنگلہ دیش تحریک کا پودا جو قیام پاکستان کے فوراً بعد لسانی بنیاد پرلگایا گیا تھا وہ 1970ءکے انتخابات کے بعد ایک تناور درخت بن چکا تھا۔ بھارتی حکمرانوں نے کھل کر اعلان کرنا شروع کردیا تھا کہ اگر آزاد بنگلہ دیش کے لئے پاکستان سے ایک مکمل جنگ بھی لڑنی پڑی تو وہ اس سے دریغ نہیں کرینگے۔ بھارت کے روس سے فوجی معاہدے کے بعد ہی سے پاکستان کی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہونا شروع ہوگئے تھے اور کئی محاذوں پر زبردست جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یحییٰ خان کا ٹولہ اب تک بھٹو صاحب کو نظرانداز کررہا تھا۔ سرحدوں پر کشیدہ صورتحال سے یہ گروہ پریشان ہوا اور انہیں ایک بار پھر واحد قابل اعتماد دوست چین یاد آیا جس سے صرف بھٹو صاحب ہی کامیاب مذاکرات کرسکتے تھے۔ بھٹو صاحب کے دورہ چین سے پاکستانی عوام کو بہت حوصلہ ملا مگر حکمران ٹولے کی عاقبت نااندیشی نے بڑ ی تیزی سے سقوط مشرقی پاکستان کی راہ ہموار کردی۔ تین دسمبر کو بھارت نے مشرقی پاکستان میں عالمی طاقتوں کی مدد سے خراب کی گئی داخلی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر دونوں محاذو ں پر کھلی جنگ کا آغاز کردیا۔ پھر جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مسٹر مودی ایک بار پھر وہی جنگی اور سازشی ماحول پیدا کررہے ہیں لیکن اس دیوانگی میں ان کے منہ سے وہ سچائی بھی برآمد ہوئی جو پاکستان میں بھٹو دشمن قوتیں ابھی تک تسلیم نہیں کرپارہیں۔سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو صاحب کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ ایک تو بھارت جاکر پاکستانی سرزمین کو بھارتی قبضہ سے چھڑانا اور دشمن کی قید سے نوے ہزارفوجیوں کی رہائی اور دوسرے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ایک متفقہ آئین کی تشکیل ‘ اپنے اقتدار میں آنے کے صرف سال بھرمیں ہی وہ ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس دوران شیخ مجیب نے پاکستان کے 195 جنگی قیدیوں پر مشرقی پاکستان میں جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جسے بھٹو صاحب نے مسترد کردیا۔ انہوں نے 6جرنیلوں کے خلاف مقدمہ کی بات کی تو انہوں نے وہ بھی مسترد کردی۔