وزیراعلیٰ کا یقینِ ابن واُم الکتاب

17 جون 2015

علم و آگہی کے حصول کی افادیت ضرورت پر حضور نے بطور خاص اس طرح سے زور دیا کہ انصار کو مہاجرین کی تعلیم و تدریس کا مقدس فریضہ سونپ دیا۔ شہر علم کی تقلید میں مسلمانوں نے ہزاروں‘ میلوں اور دور دراز کے براعظموں کا پا پیادہ سفر و صعوبتیں برداشت کرکے اور کلفتیں جھیل کر دنیا اور آخرت سنوار کر دنیا کے طالبان علم کی تعلیم و تعلم کا بھی باعث بنے اور یہ سلسلہ تا ابد جاری رہے گا۔اس میں رتی برابر مغالطہ و لفاظی نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد جتنا زور تعلیم و ہنرمندی کے فروغ کیلئے شہبازشریف نے دیا ہے‘ اتنی اہمیت اگر سابق حکمران پنجاب‘ تعلیم پہ دیتے تو ہم اب تک اہداف حاصل کرنے کے قریب ہوتے۔ تعلیم کا مطلب کسی کو سکھانا‘ بتانا‘ ہدایت و تلقین اور تربیت کا ہوتا ہے اور تعلم کا مطلب علم پڑھنا اور سکیھنا کے ہیں۔ اس معاملے میں صوبوں کے وزیراعلیٰ سے شہبازشریف کا باقیوں سے سبقت اور بازی لے جانا پنجابیوں کیلئے بھی باعث فخر ہے۔ حیرت‘ مسرت اور انبساط کے ملے جلے احساسات کے جذبات اس وقت آنکھوں میں امنڈ آتے ہیں جب گلگت سے کراچی‘ خضدار و مکران سے لیکر مردان کے ہونہار جن میں اکثریت غریب مگر ذہین ترین طلباءو طالبات کی ہوتی ہے اور وہ دل کھول کر اور سچے دل سے اس پذیرائی و پوسنے پر سراپا ممنون احسان ہوکر جذبات تشکر کو الفاظوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے ندامت کی حد تک حیرت ہوتی ہے کہ جناب مجید نظامی کی نظریہ¿ پاکستان سے محبت و یگانگت کا بھی حاسدین وقت توصیف میں بخل سے کام لیتے تھے اور شہبازشریف کی علامہ اقبال اور قائداعظم سے عقیدت و رہنمائی اور اتنے کامیاب کارنامے اور تقاریب پر میڈیا نجانے کیوں مہر بلب ہوکر شہرخموشاں میں چلا جاتا ہے جبکہ راقم کا مو¿قف یہ ہے کہ تعریف و تنقید میں بھی سلیقہ و متانت ہونی چاہئے۔ شہباز اگر یہ اعتراف جرم کرتے ہیں کہ ہم وطن کو قائد اور اقبال کاپاکستان بنا کر رہیں گے تو اس میں تو انگشت نمائی کی گنجائش ہی نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ یہ کہتے ہیںکہ ایک لاکھ طلباءکو جو ہمارے ملک کے ہیرے ہیں‘ ان کو بیرون ملک بھیج کر واپسی پر عمرہ بھی کرائیں گے تو اس میں کتنی تنقید کی گنجائش ہے اور اگر شہباز یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی ڈاکٹر امجد ثاقب سود سے پاک اربوں روپے خرچ کرکے غریبوں کو روزگار کی امداد کرکے لاکھوں گھروں کیلئے روزگار پیدا کرکے ناداروں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر رہے ہیں تو اس میں حسد کی کیا ضرورت ہے اور اگر وزیراعلیٰ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ غربت‘ بیروزگاری‘ جہالت بھی دہشتگردوں کی گولی کی طرح ہے تو ہم نے اگر بچنا ہے تو دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان بناتے وقت ہمارے بڑوں نے قربانی دی تھی۔ پاکستان بچانے کیلئے ہم قربانی دینے کو تیار ہیں۔ تو کیا ان کی اس بات سے ہر پاکستانی اتفاق نہیں کرتا؟ اگر شہباز اس بات پر شدید دکھ و کرب کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ شمالی کوریا ہم سے بعد میں آزاد ہونے والا چین ہم سے کہیں آگے نکل گیا ہے تو کیا یہ فخر کی بات؟اور اگر شہباز یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے مقام شرم ہے کہ سری لنکا بھی تعلیم میں ہم سے آگے نکلنے لگا ہے تو کیا یہ حقیقت بھی شرم کیلئے کافی نہیں؟ اور اگر ستارے توڑ لانے کی جستجو کرنےوالے طلباءکی ذہانت کا اعتراف گارڈ آف آنر دیکھ کیا جاتا ہے تو یہ حدیث کے مطابق نہیں کہ کسی اچھے کام کی ہدایت کرنیوالے کو اس کام پر عمل کرنےوالوں کے برابر ثواب ملتا ہے اور یہ کہ جس نے دوسروں کو علم سکھایا اور علم کو پھیلایا‘ اس کو مرنے کے بعد بھی اجر ملتا رہتا ہے اور طالبعلم کیلئے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کیلئے دعا کرتی ہے۔ اسی لئے تو تعلیم و تعلم کے بارے میں اقبال فرماتے ہیں ....

علم مقامِ صفات‘ عشق تماشائے ذات
علم ہے ابن الکتاب‘ عشق ہے اُم الکتاب
اور علی ہجویری فرماتے ہیں کہ علم کو ہمیشہ عمل کے دوش بدوش ہونا چاہئے۔ جس طرح وزیراعلیٰ کی سوچ کو عمل میں ڈھالنے کیلئے رانا مشہود‘ ڈاکٹر امجد ثاقب‘ اظہرعلی خان اور آجکل ڈاکٹر عائشہ‘ جنہوں نے باصلاحیت اور ذہین طلباءکیلئے دو ارب کی خطیر رقم رکھی ہے اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر غریب عوام کے بچوں کی تعلیم کیلئے بھی دس ارب پچاس کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ اس بجٹ میں عملی طورپر تعلیم اور نئے مدارس کھولنے کیلئے کھلے دل سے کام لیا گیا ہے۔ اس سے قبل تو ”گھوسٹ“ سکول بنانے کی نوید سنائی جاتی تھی‘ کیا کرپشن اور فراڈ بھی اقتصادی دہشت گردی کا دوسرا نام نہیں۔ اس دہشت گردی کیخلاف بھی موجودہ حکومت نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ مگر افسوس کہ وفاق میں قائداعظم کی کابینہ کی طرح ایک آدھ کھوٹا سکہ موجود ہے جو گھر کا بھیدی بھی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ملک میں امن و سکون کیلئے ایک وزیر کی قربانی زیادہ قیمت نہیں‘ کھوسہ خاندان کی مثال سبق سیکھنے کیلئے کافی نہیں؟