’’ سیکولربھارت… اصل چہرہ ‘‘

17 جون 2015

بھارت اپنے آپکو ایک سیکولر یعنی ’’لادینی اور اخلاقیات کا قائل‘‘ ملک کہتے ہوئے نہیں تھکتا، جب کہ وہاں پر اصل صورتحال اس دعویٰ کی مکمل طور پر نفی کرتی ہے اور یہ چانکیہ کے پجاریوں کی منافقت کی روشن دلیل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دلت اور نچلی ذات سے تعلق رکھنے والوں کو جانوروں سے بھی زیادہ بدتر، رویے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی نچلی ذات کا فرد اعلیٰ ذات ہندو کو غلطی سے ہاتھ لگا دے تو اُس کو قتل تک کر دینے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے بدقسمت افراد مکمل طور پر ہندوئو ں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ملک میں موجود دیگر اقلیتی باشندوں کی حالت بھی قابل رحم ہے اور اس ضمن میں مسلمانوں کے ساتھ کیا جانے والا برتائو کسی جمہوری اور سیکولر ملک کو کسی صورت بھی زیب نہیں دیتا۔ مثلاً راہول نامی ایک شخص نے جب دہلی میں کرائے کا فلیٹ حاصل کرنے کیلئے مختلف افراد سے رابطہ کیا تو اُسے صرف اس لیے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ اُس نے معاہدے میں اپنا نام ’’جلالی‘‘ لکھوایا (یہ نام کشمیر میں پنڈت استعمال کرتے ہیں) اسی طرح بریلی میں ایک مسلمان گریجویٹ کو ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت دینے سے اس لیے انکار کیا گیا کہ وہ ’’مسلمان‘‘ ہے۔ اسی طرح فریدہ نامی ایک عورت کو اُسکے کرایے کے فلیٹ سے صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ مسلمان تھی۔ جب اُس نے اپنی دو ہندو دوستوں ہندو خواتین کیساتھ رہائش اختیار کی تو اس بات کے پتہ چل جانے کے بعد ہندو مالک مکان نے ان تینوں کو گھر سے نکال دیا۔ اس طرح کچھ عرصہ پہلے ممبئی کے ایک مشہور اخبار میں اشتہار دیا گیا جس کا متن کچھ اس طرح تھا کہ بالکل نئے بنے ہوئے فلیٹ ، جو 3 کمروں،لاونج اور ڈرائینگ روم پر مشتمل ہیں برائے فروخت۔ مسلمان اس سلسلے میں قطعاً رابطہ نہ کریں‘‘۔ بھارتی ریاست گجرات جہاںنریندر مودی نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی وہاں مذہبی امتیاز اپنے عروج پر ہے۔ اس ریاست میں 2002ء میں حکومت کی طرف سے کیے جانیوالے مظالم کے نتیجے میںمسلمان احمد آباد کے وسطیٰ علاقوں سے نکل کر مغرب کی جانب جو ہاپورہ کے علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جس کے نتیجے میں وہاں کی آبادی دو گنی ہو کر 4لاکھ افراد تک پہنچ گئی مگر وہاں پر حکومت کی طرف سے مہیا کی جانیوالی بنیادی سہولتوں کا مکمل فقدان ہے نہ وہاں پر ہسپتال ہیں نہ سکول اور علاقے میں عوام کیلئے آمدورفت کی کوئی سہولت موجود نہیں صرف اس لیے کہ یہاں پرمسلمان رہائش پذیر ہیں۔ مسلم اقلیت کیساتھ یہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ رویہ صرف اس شہر تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت کے تقریباً ہر شہر میں اس قسم کے علاقے موجود ہیں جو کہ بھارت کے لادینی اور اخلاقیات کے قائل ملک ہونے کی قلعی کھولتے ہیں اس ضمن میں ایک رپورٹ کیمطابق یہ علاقے سکول کالجز سے عاری ہیں یہاں حکومت کی طرف سے ڈسپنسری یا ہسپتال موجود نہیں۔ علاقے میں دودھ نایاب ہے اور عوام کیلئے بنیادی سہولیات مکمل طور پر ناپید ہیں اور لوگ جانوروں سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نیز مسلمان شہری حقوق سے بھی محروم ہیں اور یہ امریکہ میں 1960ء تک سیاہ فام افراد سے کیے جانیوالے امتیازی سلوک سے بھی زیادہ بھیانک ہے جسکے خلاف ڈاکٹر مارٹن لوتھرکنگ نے جدوجہد کی اور وہ آخرکار اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اس کیلئے انہوں نے عوامی طاقت کا استعمال کیا اور جنوبی اضلاع میں بہت سے امتیازی قوانین کو ختم کروایا۔ بھارت میں مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک صرف رہائشی سہولیات تک محدود نہیں یہ روزگار کی فراہمی کے حوالے سے بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً ممبئی کی ایک ہیروںکو پالش کرنیوالی بڑی کمپنی نے ذیشان علی کو جو کہ اس شعبے میں تربیت یافتہ تھااس لیے نوکری دینے سے انکار کردیا کہ ’’مسلمان ‘‘ تھا۔ اسی طرح بھارت میں مسلمان بہت کم معاوضے کے عوض دور دراز علاقوں میں نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں مثلاً دہلی کے رہائشی انور حسین کو جو کہ تعمیرات کے شعبے میں گورنمنٹ کے ادارے سے ڈپلومہ کا حامل ہے اُسے صرف 6 ہزار روپے کی اجرت پر دہلی سے 60 میل دور کسی جگہ نوکری مل سکی اور وہ روزانہ ایک لمبے سفر کی اذیت سے دوچارہوتا ہے۔ بھارت میں یہ غیر جمہوری اور غیر اخلاقی رویہ چند افراد تک ہی محدود نہیں بلکہ اقلیت سے تعلق والے تمام باسی اور بطور خاص مسلمان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔قارئین! بھارت ایک جمہوری ملک ہونے کے باوجود ذات پات، سماجی درجہ بندی اور مذہبی عدم برداشت جیسے غیر اخلاقی اور تعصبابہ رویے کا حامل ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان برائیوں کو ایک نئی جہت ملی ہے۔ گجرات (کاٹھیاوار) کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے اُس ریاست کو ’’ہندو توا‘‘ کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا اور 2002ء میں مسلمانوں کے قتل عام سے ہٹلر اور میسولنی کو بھی پیچھے چھوڑ گئے اور اب وہ گجرات میں کئے جانیوالے تجربات کو بتدریج ملکی سطح پر عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت اُنکے وزرا کے روزمرہ کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلاً ملک کی اقلیتوں کی وزیر نجمہ نے ایک بیان میں کہاکہ بھارت میں ’’مسلمانو ں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُن کو اقلیت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا‘‘۔ مزید برآں اُنکے نائب مختار عباس نقوی نے ایک تقریر کے دوران ایون نمائندگان میں اعلان کیا اُنکے خیال میں گائے، بھینس یا بیل کے ذبح کرنے میں کوئی فرق نہیں اور جو افراد BEEF یعنی بڑا گوشت کھانا چاہتے ہیں وہ پاکستان چلے جائیں اس پر طرہ یہ ہے کہ ملکی عدلیہ بھی مکمل طورپر جانبداری سے کام لے رہی ہے اور وہ بھارتی آئین کے حوالے سے اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ دراصل یہ وزیراعظم نریندرمودی کی متعصبانہ اور مسلمان دشمن ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں بھارت کو کسی بھی صورت میں ایک ’’سیکولر اور اخلاقیات‘‘ کا پابندقرار نہیں دیا جا سکتا یہ صرف دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش ہے۔